بارش سے قبل چھت کے انتظام کا بروقت اقدام

بارش سے قبل چھت کے انتظام کا بروقت اقدام

صحت سمیت پندرہ سے زائد محکموں کو آئندہ موسم سرما میں ڈینگی‘ ملیریا اور دیگر بیماریوں کی روک تھام کے سلسلے میں ممکنہ حفاظتی اقدامات کے طور پر ذمہ داریوں کی تفویض بارش سے پہلے چھت کا انتظام کرلینے کے مترادف ہے۔ شاید یہ پہلا موقع ہے کہ کسی خطرے کو بھانپ کر امکانات کو کم سے کم رکھنے کی سعی کی گئی ہو وگرنہ یہاں پانی سر سے اونچا ہونے پر حرکت میں آنے کی روایت رہی ہے۔ بہر حال مقام اطمینان امر یہ ہے کہ ڈینگی کے خطرے کی روک تھام کے لئے مختلف محکموں کو سونپی جانے والی مہم میں ذمہ داریوں کے مطابق محکمہ اوقاف کے زیرانتظام تمام مساجد اور علماء کے ساتھ مشاورت اور ان کی مدد سے عوام میں بیماریوں سے بچائو کی آگاہی مہم جبکہ محکمہ بہبود آبادی کو اپنے زیر انتظام صحت مراکز پر عوام کی آگاہی کے انتظامات کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے محکمہ ماحولیات کو صحت کے علاقائی دفاتر یا پھر ڈینگی کے حوالے سے حساس شہروں سے ڈیٹا جمع کرنے، روک تھام کیلئے استعمال ہونے والے کیمیکل کے انسانی صحت پر مضر اثرات معلوم کرنے اور اس کے تدارک کیلئے تجاویز مرتب کرنے جبکہ ماہی پروری کے محکمے کو ڈینگی کی روک تھام کیلئے مخصوص قسم کی مچھلیوں کی افزائش کے طریقے منتخب کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے اس طرح محکمہ اعلیٰ تعلیم کو اپنے زیرانتظام کالجز اوریونیورسٹیز میں طلباء کو حفظان صحت کی تعلیم اور طلباء کو ڈینگی کے بچائو کیلئے خصوصی طور پر شعور کی آگہی مہم چلانے اور مچھروں کی روک تھام کیلئے اقدامات لینے یعنی ہاسٹلز اور کمرہ جماعتوں کے ساتھ ساتھ ہر حصے میں سپرے اور صاف پانی کے ذخائر کا وقتاً فوقتاً معائنہ کرانے کی ذمہ داری دی گئی ہے محکمہ ہائوسنگ کو تعمیراتی منصوبوں کے دوران پینے کے پانی اور نکاس آب کو یقینی بنانے اور منصوبہ بندی کے بغیر رہائشی کالونیوں کی تعمیرجبکہ محکمہ صنعت کو آبادی کے قریب صنعتی یونٹس کے قیام کوروکنے اور ڈینگی اور مچھروں سے پانی کے ذخائر دور رکھنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اس طرح ڈبلیو ایس ایس پی کو زنگ آلود سپلائی لائن اور نل بدلنے اور کوڑا کرکٹ کو باقاعدہ تلف کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک جامع اور تفصیلی منصوبہ ہے جس پر اطمینان کااظہار نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں البتہ اسے محض منصوبے کی حد تک نہیں رہنا چاہئے بلکہ جن جن محکموں کے ذمے جو ذمہ داریاں لگائی گئی ہیں ان محکموں کو ان ذمہ داریوں پر پورا اتارنے کی پوری پوری سعی ہونی چاہئے تاکہ منصوبہ ادھورا نہ رہے اور ڈینگی کے خطرے کا بروقت تدارک اور مقابلہ کرنا ممکن ہو۔
معذور افراد کے مسائل پر توجہ دی جائے
خیبر پختونخوا میں مقیم معذوراقلیتی افراد کا حکومت کی جانب سے اعلان کردہ نوکریوں کے کوٹے پر عمل درآمد سے مطمئن نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے۔ 80فیصد یہ سمجھتی ہے کہ انہیں صحت،تعلیم اور سماجی بہبود کی سہولیات کی فراہمی نہیں ہوتی۔تحقیق کے دوران مسیحی،ہندو،سکھ اور دیگر اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے جسمانی طور پر معذور افراد سے جو پانچ سوالات پوچھے گئے ان کے جوابات حیرت انگیز طور پر قریب ترین اور مماثل ہونے اور اعداد و شمار کا اسی فیصد سے بڑھ جانا اس امر پر دال ہے کہ صوبائی حکومت اقلیتی برادری کے معذور افراد کے مسائل کے حل میں ناکامی کا شکار ہے۔ ہمارے تئیں یہ صرف اقلیتی برادری کے معذور افراد ہی کا مسئلہ نہیں بلکہ مسلم معذور افراد بھی اس طرح کے مسائل کا شکار ہیں جن پر متعلقہ محکموں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ معذور افراد کو ان کے کوٹے کے مطابق بھرتی ہی کافی نہیں بلکہ ان کے لئے سرکاری دفاتر میں آمد و رفت دفتر کے اندر ان کی خصوصی حالت کے مطابق انتظامات اور سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ بڑی بڑی کمرشل عمارتوں ‘ مقامات اور ٹرانسپورٹ میں معذور افراد کی سہولیات کا پورا پورا خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔
قابل تحسین اقدام
پاک فوج کی جانب سے کراچی میں بے گناہ قتل کئے جانے والے نقیب اللہ محسود کے یتیم بچوں کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنے سمیت جنوبی وزیرستان میں مقتول کے ورثاء کے منہدم مکان کی ازسرنو تعمیر کرنے کی پیشکش احسن اقدام ہے جس سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ پاک فوج قبائلی عوام کی مشکلات کے حل اور ان کو تحفظ و تعلیم کی فراہمی میں پوری طرح کوشاں ہے۔ علاوہ ازیں یہ مقتول کی خواہش کا احترام اور ان کے خاندان اور قبیلے کی عزت افزائی کا باعث امر ہوگا۔ پاک فوج کی جانب سے پیشکش کے برعکس سندھ اور وفاقی حکومتوں کی جانب سے ہنوز ان کے قاتلوں کی گرفتاری ہی عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے اور نہ ہی مرحوم کے اہل خاندان کے لئے کسی امداد کا اعلان کیاگیا ہے حالانکہ یہ پاک فوج کی نہیں بلکہ ان کی ذمہ داری تھی۔

اداریہ