گداگری سے سیاست تک

گداگری سے سیاست تک

عین ممکن ہے کہ وہ دونوں مناظر جو میں آپ کے سامنے رکھنے والی ہوں ان میں سرے سے کوئی مماثلت ہی نہ ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جو میں دیکھ رہی ہوں یہ میرے ہی ذہن کی اختراع ہو لیکن جانے کیوں شاید اپنی ہی تشفی کے لئے یہ ذہن ان دونوں مناظر میں ایک عجیب سی مماثلت تشکیل دے رہا ہے۔ ہوسکتا ہے ایسی تسکین کے لئے مناظر تشکیل دے رہا ہو۔ ہو سکتا ہے اس کی اپنی پسند کے نقش و نگار ہوں جنہیں وہ اس صورتحال کے چہرے پر لیپ دینا چاہتا ہو۔ حال ہی میں ایک مقامی اخبار نے ایک سروے کیا ہے اور ملک میں فقیروں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر ایک سروے کیا۔ چند سال پہلے تک چند مخصوص چوراہے ہوا کرتے تھے جہاں یہ پیشہ ور بھکاری و گدار گر دکھائی دیاکرتے تھے۔ کئی ایسے تھے جن کی اداکاری پر حقیقت کا گمان بھی ہوتا تھا۔ کچھ بہر حال پیشہ ور دکھائی دیتے تھے۔ ان کی آوازوں کے لوچ میں پیشہ وری کا لوچ تو موجود تھا لیکن اصل دکھ نہ تھا۔ لفظوں کا چنائو بہترین اور پیشہ ورانہ مہارت کا غماز تھا لیکن اس میں اس سے زیادہ کوئی اور جذبہ سنائی نہ دیتا تھا۔ پھر ہمیں اسی ملک کے چوراہوں پر وہ فقیر دکھائی دینے لگے جو صوتی مہارت کے ساتھ ساتھ بصری امداد کا بھی سہارا لینے لگے۔ زخموں کا میک اپ کیا جانے لگا‘ کئی بار وہ ڈرپ یا اور کسی امداد کے ساتھ بھی دکھائی دیتے ہیں جس سے بھیک دینے والوں کو مکمل طور پر قائل کیا جاسکے کہ ان کی بیماری کا علاج بہت ضروری ہے۔

لوگ ابتداء میں قائل بھی ہوجایا کرتے تھے۔ پھر وہ بھی ہوشیار ہو تے چلے گئے۔ اس کے بعد ایک نیا کام شروع ہوا ایک ٹھیک ٹھاک دکھائی دینے والا مرد کسی گاڑی کے پاس موٹر سائیکل پر آتا‘ کئی بار فیملی بھی ساتھ ہوتی اور پٹرول کے پیسے طلب کرتا۔ لوگ ابتدا میں اس پر بھی متاثر ہو کر بھیک دیتے رہے اور اب اس صورتحال کی حقیقت سے بھی بخوبی آگاہ ہوچکے ہیں۔ اب یقینا یہ ابدی فقیر کوئی نیا طریقہ ایجاد کرنے کی کوشش کر رہے ہوں گے۔ہر بار یہ نیا طریقہ ایجاد کرنے میں ماہر ہوچکے ہیں۔ یہ لوگوں کی نفسیات سمجھنے اور اس سے کھیلنے کا گر بخوبی جانتے ہیں۔ اسی اثناء میں یہ بات بھی زبان زد خاص و عام ہوچکی ہے کہ یہ فقیر ٹولوں اور گروہوں کی صورت میں کام کرتے ہیں۔ ان کے ٹولوں کے سربراہ بھی ہوتے ہیں اور کئی بار مالک بھی۔ اور کئی فقیر ایسے ہیں جن کی آمدنی کسی بھی اعلیٰ درجے کے بیوروکریٹ سے زیادہ ہوتی ہے۔ ان فقیروں کے پاس کئی بار جدید قسم کے موبائل فونز بھی ہوتے ہیں اور شام کو ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد ان فقیروں کو پوش علاقوں میں بھی دیکھا گیا ہے۔ مانگے کی کمائی میں اتنی برکت ہوگی یہ سمجھ میں نہیں آتا لیکن حقائق چونکہ اس بات پر مصر ہیں اس لئے انکار بھی کرنا ممکن نہیں۔ ان فقیروں میں کتنے ہی ایسے ہیں جن کے بارے میں تحقیق کرنے والے یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کی کارکردگی سے متاثر ہو کر ان کے چوک اور چوراہے تبدیل کردئیے جاتے ہیں اور انہیں بہتر اور اچھی کمائی والی جگہیں دی جاتی ہیں۔ دیگر انعامات سے بھی نوازا جاتا ہے۔
اس حوالے سے کئی قسم کی تحقیق بھی کی جاتی ہے۔ رپورٹیں شائع ہوتی ہیں‘ جتنا پڑھیں اور اس کی گہرائی میں جانے کی کوشش کریں جانے کیوں ایک فقیر کی زندگی اور سیاستدان کی زندگی کی مماثلت ہر لمحے بڑھتی ہوئی ہی محسوس ہوتی ہے۔ سیاستدانوں کی زندگی بھی اسی طرح پیشہ ورانہ مہارت پر ہی تشکیل پاتی ہے لیکن اس ساری صورتحال میں ایک فرق ہے جس کا تعلق کچھ سیاسی جماعتوں کے نظام سے کچھ ذرا زیادہ ہے۔ یوں تو ساری ہی جماعتوں میں اقربا پروری کا خاص خیال رکھا جاتا ہے لیکن مسلم لیگ (ن) میں تو اس کی مثال نہیں ملتی۔ ان کا کمال یہ ہے کہ ان کا میرٹ ہی خون کے رشتوں پر مشتمل ہے۔ وہ بہن بھائی‘ چچا چاچی‘ ماموں ممانی‘ ان کے بچوں اور ایسے ہی رشتوں کے علاوہ کسی پر اعتماد کرنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ باقی ماندہ ان کی تمام تر باتیں دیگر سیاسی جماعتوں سے ملتی ہیں۔ وہ بھی ابتداء ووٹ مانگنے سے کرتے ہیں اس کھیل میں اپنی مہارت کے علاوہ وہ اب دیگر امدادی چیزوں کا بھی استعمال کرتے ہیں۔ ان کے لئے دھوکہ دہی سب سے اہم خصوصیت ہے کیونکہ مد مقابل کو وہ جس مہارت سے بے وقوف بنا سکیں گے انہیں اس کا اتنا ہی فائدہ ہوگا۔ اس کے لئے وہ وعدوں کی امداد سے معاونت حاصل کریں یا موٹر وے کے نام کی ڈرپ لگائیں‘ میٹرو کے نام کے زخم کا میک اپ کریں انہیں کیسی بھی درد ناک آوازیں نکالنی پڑیں‘ کیوں نکالا‘ کیوں نکالا کی‘کیسی درد ناک آوازیں نکالنا پڑیں‘ اس سب کے باوجود یہ طے ہے کہ یہ سب اداکاری ہی ہے اور اس اداکاری میں اپنی پوری کوشش سے عوام کو بے وقوف بنانا ہی ان کے مقاصد کا حاصل ہے۔ شاید یہ مماثلت کسی اور کو دکھائی نہ دے۔ شاید یہ بات بھی مناسب نہ محسوس ہو لیکن نہ جانے کیوں میں تو اس خیال کے تانے بانے سے نکل ہی نہیں رہی۔ وہ تحقیقاتی رپورٹ جو میرے سامنے پڑی ہے اس میں چند لفظ بدل دوں تو یہ دونوں جانب ہی اپنی پوری صحت کے ساتھ درست مانی جاسکتی ہے۔ گدا گری سے سیاست تک کا یہ سفر ہم مسلسل اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں اور پھر بھی مسکرا کر منہ پھیر لیتے ہیں۔ شاید ہم اپنے ذہنوں میں دونوں کو ایک ہی جگہ سمجھتے ہوں۔ گدا گر ہمارے معاشرے کی بنت بگاڑ رہے ہیں اور سیاستدان مستقبل کی۔ دونوں ہی ہمارے مخفی دشمن ہیں۔ دونوں ہی اس ملک کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ ہمیں اپنی اداکاری کے ذریعے اپنے دام میں پھانس رہے ہیں۔ دونوں ہی ہمارے معاشرے کی پیداوار ہیں اور دونوں کو ہی ہم دشمن نہیں سمجھتے اور سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی انجان ہیں۔ شاید خود اپنی بھلائی ہی ہماری ترجیحات میں شامل نہیں۔

اداریہ