بچوں سے زیادتی کا عفریت اور ہمار ا معاشرہ

بچوں سے زیادتی کا عفریت اور ہمار ا معاشرہ

قصور میں زینب نامی بچی کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے بعد پورے ملک میں اس واقعے کی شدید مذمت کی گئی اور پورے ملک میں احتجاج کے بعد بالآخر اس گھنائونے جرم کا ملزم پکڑا گیا۔ جب ملزم کو پکڑ کر دنیا کے سامنے لایا گیا تو ہم سب کو غصے کے ساتھ ساتھ ایک طرح کی مایوسی بھی ہوئی کیونکہ ہمارے ذہنوں میں ایسے مکروہ فعل سرانجام دینے والے کا خاکہ کچھ مختلف تھا۔ ہم سب یہ سمجھ رہے تھے کہ جس شخص نے یہ قبیح فعل کیا ہے وہ کسی عفریت سے کم نہیں ہوگا لیکن عمران علی تو ایک عام سا بندہ نکلا۔قصور واقعے کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر ملنے والی کوریج نے ہمیں یہ موقع فراہم کیا ہے کہ بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادیتوں کے مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں اور اپنے بچوں کو جنسی درندوں سے بچانے کے لئے کوئی جامع منصوبہ بندی کریں۔ ملک میں ہونے والے دیگر اندوہناک واقعات کی طرح اس واقعہ کو بھی وقت کی گردش دھندلا نہ دے اس لئے ہمیں اس کو صرف ایک واقعے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ ہم سب کو چاہیے کہ ایسے واقعات فراموش کرنے کی بجائے ان لوگوں کی باتیں غور سے سنیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی اس گھنائونے کام کی سرکوبی اور بچوں کے تحفظ کے لئے کام کیا ہے۔ اس سارے کام میں خلوصِ نیت بہت ضروری ہے جس کا اس وقت فقدان نظر آرہا ہے جہاں ایک طر ف تو ہمارے ٹی وی اینکرز علمِ نجوم کی مدد سے اس سارے واقعے کی کڑیاں ملانے میںمصروف ہیں، تاکہ ان کی ریٹنگ میں اضافہ ہو سکے، جبکہ دوسری جانب عدالتِ عظمیٰ بھی ان اینکرز کے بے سروپا دعوئوںکی تحقیق میں مصروف ہوچکی ہے۔ اگر تحقیق و تفتیش کی بات کی جائے تو مذکورہ اینکر نے اپنی تحقیق میں شرلاک ہومز کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے صرف دو دنو ں میں ایسے انکشافات کئے ہیں جو دنیا کے بڑے بڑے تفتیشی ادارے بھی نہیں کرسکتے۔ان اینکر صاحب نے ملزم عمران علی کوایک بین الاقوامی گروہ کارُکن قرار دیتے ہوئے اس سے 37 فارن کرنسی اکائونٹ منسلک کئے ہیں جس میں ، ان کے مطابق ،عمران علی کے علاوہ ایک وفاقی وزیر بھی ملوث ہے۔ اس حوالے سے زیادہ حیران کن امر ملک کے لاکھوں لوگوں کا مذکورہ دعوئوں پر ایمان لے آنا ہے جس میں ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی شامل ہیں۔ عمران خان کی جانب سے مذکورہ اینکر کے حق میںکئے جانے والے ایک ٹویٹ سے ہی ان کے چاہنے والے اینکر صاحب کی بات پر ایمان لے آئے ۔ یہ بات صرف عمران خان تک محدود نہیں بلکہ ہم میں سے اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو ایسی بے بنیاد خبروں کے پیچھے لگ کر اپنے معاشرے کے اندر پائے جانے والی برائیوں سے صرفِ نظر کرنا چاہتے ہیں۔بچوں کے ساتھ زیادتی ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور اس جرم میں ملوث افراد کو ٹھیک نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی دنیا کے کسی دوسرے معاشرے یا قوم کو ان واقعات کا ذمہ دار ٹھہرا کر اپنی ذمہ داریوں سے بچا جاسکتا ہے۔ ایک بین الاقومی جریدے کے پاکستانی ایڈیٹر نے بچوں کے ساتھ زیادتی کو ایک عام معاملہ کہہ کر پوری دنیا میں پاکستان کا نام بدنام کیا ہے جس کے بعد پوری دنیا میں ان کی جانب سے کی جانے والی ٹویٹس کی مذمت کی گئی۔ بچوں کے ساتھ زیادتی کا مسئلہ پوری دنیا میں موجود ہے لیکن اس مسئلے کو ایک عام معاملہ کہتے ہوئے قبول کرنا ہر لحاظ سے قابلِ مذمت ہے۔ ملزم عمران علی نے اپنی گرفتاری کے بعد یہ بھی کہا ہے کہ اس کے اندر ایک جن ہے جو اس سے یہ کام کرواتا ہے۔یہ جن کوئی اور نہیں بلکہ ہم معاشرے کے اندر پایا جانے والا ایسا عفریت ہے جو ہمیں ان واقعات کو چھپانے کی تلقین کرتا ہے اور اپنے اندر چھپے ہوئے جنسی درندوں کی چیرہ دستیوں سے صرفِ نظرکرنے کا کہتا رہتا ہے۔ ہم اپنے بچوں کو ان درندوں کے خلاف بولنے کا نہیں سکھاتے اور نہ ہی ان کو یہ بتاتے ہیں کہ کون سا چھونا ٹھیک ہو تا ہے اور کون سا غلط۔ اگر کوئی بچہ ہمیں بتا بھی دے کہ اس کے ساتھ کسی عزیز رشتہ دار یا قریبی دوست نے زیادتی کی ہے تو ہم اس کی بات کو سنجیدگی سے لینے کی بجائے بچے کی زبان بندی میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ہمیں زینب کے قتل کو ایک علامتی واقعے کے طور پر دیکھتے ہوئے اپنے ملک کے تمام بچوں کے تحفظ کے لئے کام کرنا ہوگا جس کے لئے اس واقعے سے سبق حاصل کرتے ہوئے ایک جامع پالیسی سازی کرنی ہوگی۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ایسے معاملات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہمارے بہت سے مشہور لوگ بھی الجھن کا شکار ہوجاتے ہیں اور اول فول بکنے لگتے ہیں جس کی ایک مثال اوپر دی گئی ہے۔قصور کے واقعے کے بعد اٹھنے والی آوازوںکے شور میں ہم یہ بات فراموش کرچکے ہیں کہ ان واقعات کی ذمہ داری ہماری حکومتوں اور خاص طور پر پنجاب حکومت پر عائد ہوتی ہے جس نے دوسال پہلے سامنے آنے والے گھنائونے دھندے پر مٹی ڈال کر ایسے واقعات کی راہ ہموار کی ۔ اگر پنجاب پولیس کی بات کی جائے تو ایسی وارداتوں کی تفتیش میںکوتاہی اور روایتی غفلت نے جہاں پولیس کے محکمے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑے کئے ہیں وہیں خادمِ اعلیٰ شہباز شریف کی سیاسی بصیرت پر بھی سوالات اٹھائے ہیں جنہوں نے انگریز دور کی پولیس میں اصلاحات لانے کے لئے آج تک کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے۔

(بشکریہـ: دی نیوز،ترجمہ: اکرام الاحد )

اداریہ