Daily Mashriq


بھارتی فوج خودکشی کی راہ پر

بھارتی فوج خودکشی کی راہ پر

کہتے ہیں بزدلی اور سفاکیت لازم ملزوم ہوتے ہیں ،اگر بھارتی افواج بارے دیکھا جائے تو یہ محاورہ سو فیصد سچ دکھائی دیتاہے ،کیوں کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر مظالم ،لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ اور بھارت میں موجود مسلمانوں پر مظالم اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں ،لیکن اس کے باوجود بھارتی فوجیوں کو سکون ہے اور نہ ہی چین ۔بلکہ وہ مسلسل بے چینی اورسفاکیت کی وجہ سے خودکشیاں کر رہے ہیں ،بھارتی اخبار’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ بھارت میں ہرسال 1600 فوجی جوان جنگ کا حصہ بنے بغیر ہلاک ہو جاتے ہیں۔بھارتی وزیر دفاع سبھاش بھامرے نے پارلیمنٹ راجیا سبھا میں پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا کہ ذہنی تناؤکی وجہ سے بھارتی فوج میں ہر سال خودکشی اور ساتھی فوجیوں کو قتل کرنے کے 100 سے زائد واقعات پیش آرہے ہیں۔فوجی اسٹیبلشمنٹ نے تینوں مسلح افواج میں ذہنی تناؤ اور خلفشار کو کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے، لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا اور خودکشی و ساتھی اہلکاروں کے ہاتھوں ہلاکت کے واقعات میں کمی نہیں ہورہی۔ رپورٹ میں اس ذہنی تناؤ کی بعض وجوہات بھی بتائی گئی ہیں جن میں گھریلو مسائل، جائیداد کے جھگڑے، سماج مخالف عناصر کی دھمکیاں، مالی و ازدواجی مشکلات، افسران کے ہاتھوں تذلیل اور نااہل فوجی قیادت شامل ہیں۔ مقبوضہ کشمیر اور شمال مشرقی ریاستوں بشمول آسام میں انسداد دہشت گردی آپریشن کی وجہ سے طویل عرصے کے لیے ڈیوٹی بھی فوجیوں کو ذہنی مریض بنادیتی ہے۔ بھارتی وزارت دفاع نے فوج کو گھن کی طرح چاٹنے والے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے نفسیاتی ڈاکٹروں کی خدمات بھی حاصل کی ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ ’’وار فٹیگ‘‘ یعنی جنگ کی تھکان سے اہلکاروں میں نفسیاتی تبدیلیاں رونما ہوجاتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ جلدی مشتعل ہوجاتے ہیں اور کچھ بھی کر بیٹھتے ہیں۔گزشتہ سال 17 جولائی کو لائن آف کنٹرول کے قریب مقبوضہ کشمیر کے اڑی سیکٹر میں ایک فوجی نے موبائل فون استعمال کرنے سے منع کرنے اور اشتعال انگیزی پر اپنے میجر شیکھر تھاپا کو گولی مار کر ہلاک کردیاتھا۔اسی طرح ایک واقعے میں ریاست اترپردیش میں ایک حاضر سروس جے ایس بالی نامی میجر نے گلے میں رسی ڈالی اور پنکھے سے لٹک کر خودکشی کرلی تھی۔مقامی پولیس سپرنٹنڈنٹ پرتاپ سنگھ نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ 34 سالہ میجر سہارنپور میں ایک ریماؤنٹ ڈپو میں تعینات تھا اور اکیلے رہنے کے باعث ذہنی دباؤکا شکار تھا اس نے اپنی رہائش گاہ پر پھانسی لگا کر خودکشی کی۔خود کشی کرنے والے اہل کار وں کا تعلق بھارتی آرمی، نیوی اورایئرفورس سے ہے۔ بھارتی فوج میں قبل از وقت ریٹائر منٹ کی شرح بھی بڑھتی جا رہی ہے جہاں گزشتہ سال ریکارڈ آٹھ سو گیارہ آرمی افسروں نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی درخواست دی تھی۔ بھارتی فوج کا مورال دن بدن گرتا جا رہا ہے۔کبھی سرحد پر ڈیوٹی سے انکار، کبھی غیرمعیاری کھانے کی شکایت تو کبھی خودکشی کے واقعات ہو رہے ہیں۔عام خیال یہی ہے کہ بھارتی فوج کے اہلکاروں کی جانب سے خودکشی کی وجہ مایوسی اور عدم اطمینان ہے۔انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انکشاف کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی ذہنی مریض بن گئے ہیں ۔تنظیم کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت کی جانب سے بھارتی افواج کی چھٹیاں منسوخ کیے جانے اورمقبوضہ وادی میں ریسٹ نہ ملنے کی وجہ سے وہاں تعینات بھارتی فوجی ذہنی پریشانی کا شکار ہیں۔بھارتی فوجیوں میں خودکشی کے علاوہ اپنے رفقاء کار کے ساتھ جھگڑوں میں انہیں ہلاک یا زخمی کرنے کا رجحان بھی بڑھ گیا ہے، جبکہ افسروں کے ساتھ ان کالڑنا جھگڑنا بھی معمول بن گیا ہے۔ دور افتادہ علاقوں میں تعینات فوجیوں میں نفسیاتی تناؤ زیادہ پایا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے اہل خانہ پر توجہ دینے سے قطعی قاصر ہوتے ہیں۔ ان کی پریشانی میں کم تنخواہیں، بنیادی سہولتوں کا نہ ملنا اور بعض اوقات افسروں کی طرف سے توہین بھی شامل ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کی مسلح افواج میں خود کشی کرنے والے جوانوں کی تعداد کے حوالے سے بھارت پہلا ملک بن گیا ہے۔ بھارتی وزارت دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق خود کشی کے سب سے زیادہ واقعات بھارتی فوج میں رونما ہوتے ہیں، جہاں ایک دہائی میں ایک ہزار سے زیادہ فوجیوں نے خودکشی کی ہے۔ بھارتی فوج میں خود کشی کے رجحان پر 2010ء میں وزارت دفاع سے متعلق پارلیمانی کمیٹی نے حکومت کو اس مسئلے کے حل کے لیے بیرونی ماہرین کی خدمات لینے کی صلاح دی تھی، لیکن اس پر عمل ہوتا نظر نہیں آرہا۔ فوج میں 33 ماہرین نفسیات کی تقرری کی تجویز بھی فائلوں میں ہی ہے۔ اس کے برعکس بھارتی حکمرانوں کے بقول حکومت نے اہلکاروں کو بہترین ماحول اور ہر ممکن سہولت فراہم کی ہوئی ہے، یہاں تک کہ ان کے خاندان والوں کو بھی سہولتیں دی جاتی ہیں، تاکہ وہ کسی بھی دباؤکے بغیر اپنے فرائض بخوبی انجام دے سکیں، لیکن ان تمام اقدامات کے باوجود فوجیوں میں خودکشیوں کے واقعات سامنے آنا تشویشناک بات ہے۔

متعلقہ خبریں