کاش ہمارے حکمران بھی اس طرح ہوجائیں

کاش ہمارے حکمران بھی اس طرح ہوجائیں

ایک عزیز محترم فراز اکبر نے کینیڈا سے ایک میسج بھیجا ، جس میں کہا گیا ہے کہ انٹا ریہ، جو کہکینیڈا کا سب سے بڑا صوبہ ہے، وہاں پچھلے دنوں پروگریسیوکنزر ویٹیو پا رٹی کے سربراہ پیٹرک برائون پر دو عورتوں نے الزام لگایا کہ دس سال پہلے جبکہ ان میں ایک ہائی سکول اور دوسری یو نیورسٹی کی طالب علم تھی پیٹرک نے دو نوں کو مختلف اوقات میں گھر بُلا کر شراب پلائی اور انکو جنسی طور پر ہراساں کیا۔ حالانکہ یہ بات سب کو پتہ تھی کہ پیٹرک شراب نہیں پیتا تھا ۔ پیٹرک نے ان دونوں الزامات سے نہ صرف لا تعلقی کا اظہار کیا بلکہ ان الزاما ت کو سختی سے رد کیا۔ مگر اسکے باوجودپا رٹی کے دوسرے عہدیداروں نے پیٹرک کو مشورہ دیا کہ اس قسم کی خبریں انکی پا رٹی اور آئندہ الیکشن پر منفی اثرات ڈال سکتی ہیں۔ پیٹرک کو فوری طور پر مستعفی ہو نے اورقیادت چھوڑنے کا مشورہ دیا گیا۔ پیٹرک کے انکار پر پا رٹی کے دوسرے عہدیدار نہ صرف مستعفی ہوگئے بلکہ انہوں نے پیٹرک کی قیادت میں کام کرنے سے انکار کیا۔ اگلے دن پیٹرک کو مجبوراً پا رٹی قیادت سے مستعفی ہونا پڑا۔ اب پیٹرک اگر عدالت سے بری ہوگیا تو سیاست میں واپس آجائے گا اور اگر کیس ہار گیا تو سیاست سے مکمل طو ر پر باہر ہوجائے گا۔ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں حالات اس سے قطعاًبر عکس ہیں۔ سپریم کو رٹ کے پانچ ججز نے نواز شریف کو نا اہل قرار دیا مگر سابق وزیر اعظم نے اب عدلیہ اور فوج کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کی ہے۔ حالانکہ اسی عدالت نے ما ضی قریب میں پی پی پی کے دو وزرائے اعظم یو سف رضا گیلانی اور راجہ پر ویز اشرف کو اپنے عہدوں سے بر طرف کرنے کا حکم دیا تھا ، اُنہوں نے عدلیہ کے فیصلوں کے سامنے سر تسلیم خم کیا۔ اسی طرح پہلے مُنتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو سپریم کو رٹ نے محمداحمد خان قتل کیس میں سزائے موت دی۔ بین الا قوامی آبز ور کے مطابق بھٹو کا ٹرائیل صحیح نہیں تھا۔پاکستان میں حالات کینیڈا اور دوسرے ممالک کی بنسبت با لکل بر عکس ہیں۔ یہاں پر ہماری لیڈر شپ اربوں روپے کی کرپشن کرتی ہے جبکہ ، پاکستانی عوام بھوک ، افلاس ، بے روز گاری ، لاقانونیت میں جی رہے ہیں مگر ہمارے حکمران ٹس سے مس نہیں ہوتے۔جب سے میاں نواز شریف کو اعلیٰ عدلیہ نے کرپشن اور بد عنوانی کی وجہ سے اقتدار سے نا اہل کر دیا ہے تو معزول وزیر اعظم اعلیٰ عدلیہ اور مسلح افواج کے خلاف زہر افشانی کر رہے ہیں۔ بلکہ اب تو یہ بات زبان زد عام ہے کہ پاکستان میں پنجابی وزیر اعظم یا دوسرے کسی اعلیٰ لیڈر کے خلاف کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔فیڈریشن کے تین یونٹس یعنی خیبر پختون خوا ، سندھ اور بلوچستان میں تشویش پائی جاتی ہے کہ انکے لیڈروں کو تو سزائے موت سُنائی جاتی یا پابند سلاسل کیا جاتا ہے جبکہ پنجاب کے لیڈروں کو کچھ نہیں کہا جاتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ بھارت اور دوسرے پاکستان دشمن ممالک ،پاکستان میں پختونوں، سندھیوں ، بلوچیوں اور قبا ئلی علاقہ جات کے لوگوں کے جذبات مشتعل کرکے اور انکو اُکسا رہے ہیں کہ پاکستان میں سندھیوں ، بلو چیوں اور پختونوں سے امتیازی سلوک ہوتاہے جبکہ پنجابی وزیر اعظم کو اعلیٰ عدلیہ کے حکم کے با وجود بھی کچھ نہیں کہا جاتا۔اگر عالمی سطح پر نظر ڈالیںتو اس قسم کی بُہت سی مثالیں موجود ہیں جہاں پر مختلف جرائم کی پا داش میں مختلف ممالک کے حکمرانوں کو اقتدار سے ہاتھ دھونے پڑے ۔اگر ہم امریکہ کے سابق صدر بِل کلنٹن کے کیس کولیں تو اُن کا1998 میں ایوان نمائندہ گان نے مونیکا لیونسکی کیس میں موا خذہ کیا تھا، انڈریو جونسن کا 1868 اور امریکہ کے ایک اور سابق صدر رچرڈ نکسن کے خلاف1974میںموا خذہ ہوا۔وینز ویلا کے دو دفعہ مُنتخب صدر کا رلس اینڈ رس پریز کے خلاف 250 ملین صدارتی صوابدیدی فنڈ میں کرپشن کا الزام تھا ۔ کارلوس کا مواخذہ کیا گیا اور وہ عہدے سے بر طرف کر دیئے گئے۔پیرو کے صدر البریٹو مورو پر بد عنوانی اور انسانی حقوق کی پامالی کا الزام تھا ۔اسکے خلاف قانونی کارروائی کی گئی اور 2007میں جرائم کی پا داش میںنہ صرف عہدے سے ہٹایا گیا بلکہ پابند سلاسل بھی کیا گیا۔انڈو نیشیاء کے صدر عبد الرحمان واحد کو جولائی 2001میں بد عنوانی کے الزام میں صدارتی عہدے سے سبکدوش کیا گیا۔یو رپ کے پہلے سربراہ مملکت رونالڈ س کا روسی باشندے کو لیتھوینا کی شہریت دینے پر مواخذہ کیا گیا اور 2004 میں عہدے سے سبکدوش کیا گیا۔برازیل کے صدر ولما روسیف کو سال 2015 میں اُس وقت اپنے عہدے سے بر طرف کیا گیا جب سینیٹ میں بھاری اکثریت نے وفاقی بجٹ میں خور د بُرد کے الزام میں مواخذہ کیا۔اسرائیل کے صدر موشی کال کو بھی ایک ملازم کو جنسی ہراساں کرنے کے الزام میں عہدے سے بر طرف کیا گیاتھا۔ گوئٹے مالا کے صدر اوٹو سپریز مو لینا کو کرپشن، رشوت لینے اور کسٹم ڈیوٹی میں فراڈ پر بر طرف اور جیل بھیج دیا گیا تھا ۔ پیراگوئے کے صدر فیرانڈو لیو گو کو 2008 میں اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال پر عہدے سے بر طرف کیا گیا تھا۔وہاں کے عوام جس طرح بھی ہوں مگر وہ اپنے حکمرانوں کو ہر لحا ظ سے مکمل دیکھنا چاہتے ہیں۔اگر ہم غور کریں تو پاکستان میں ان کرپٹ آمروں اور سول حکمرانوں کے کرتوتوں کی وجہ سے سالانہ 5ہزار ارب روپے کا نُقصان ہو رہا ہے ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں سزاو جزا کا کوئی تصور نہیں۔ اگر ہے تو غریب کے لئے ہے۔

اداریہ