Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت رجاء بن حیوہ ؒ بیان کرتے ہیں کہ 99 ہجری ماہ صفر کے پہلے جمعہ کے دن ہم امیر المومنین سلیمان بن عبدالملک کے ہمراہ سرزمین شام کے ایک قصبے میں تھے ۔ امیرالمومنین نے قسطنطنیہ (استنبول ) فتح کرنے کے لئے اپنے بھائی مسلمہ بن عبدالملک کی قیادت میں ایک لشکر جرار روانہ کیا ہوا تھا ۔ لشکر کے ساتھ ان کا بیٹا اور دیگر بہت سے افراد خانہ بھی شامل تھے ۔ انہوں نے اس پر حلف اٹھا رکھا تھا کہ قسطنطنیہ فتح کر کے واپس آئیں گے یا جام شہادت نوش کر لیں گے ۔ جب جمعہ کی نماز کا وقت قریب آیا تو امیر المومنین نے خوب اچھی طرح وضو کیا ، سبز چوغہ زیب تن کیا ۔ اس وقت ان کی عمر صرف چالیس برس تھی ، پھر لوگوں کے ساتھ نماز جمعہ سے واپس آتے ہی شدید بخار میںمبتلا ہوگئے ۔ پھر دن بدن بیمار ی بڑھتی گئی ۔ مجھ سے فرمایا کہ میرے قریب رہا کرو ۔ ایک مرتبہ میں ان کے کمرے میں داخل ہو اتو وہ خط لکھ رہے تھے ۔ میں نے کہا امیر المومنین کیا کر رہے ہیں ؟ ۔ فرمایا میں اپنے بیٹے ایوب کو ولی عہد مقرر کرنے کے لئے خط لکھ رہا ہوں ۔

میں نے کہا: امیرالمومنین اگر آپ برا نہ منا ئیں تو میری مخلصانہ تجویز ہے اگر آپ کسی نیک صالح اور عالم شخص کو ولی عہد مقرر کریں تو یہ عمل آپ کے لئے قبر میں آسانی پیدا کرے گا ۔ خدا سبحانہ وتعالیٰ کے ہاں بھی آپ کو بری الذمہ قرار دیا جائے گا اور امت مسلمہ پرآپ کا بہت احسان ہوگا ۔ آپ کابیٹا ایوب ابھی بچہ ہے ، وہ سن بلوغت کو بھی نہیں پہنچا ، ابھی وہ عمر کے اس حصے میں ہے کہ آپ کے سامنے اس کی نیکی اور برائی واضح نہیں ہوئی ۔ یہ سن کر انہوں نے اپنا ہاتھ روک لیا ، فرمایا میں نے خط تو لکھ دیا ہے ، لیکن میں استخارہ کرنا چاہتا ہوں ۔ اس پر نہ میں مصر ہوں اور نہ ہی میں نے اس کو ولی عہد بنانے کا کوئی پختہ ارادہ کیا ہے ۔ آپ نے بروقت درست مشورہ دے کر میری رہنمائی کی ہے ۔ یہ کہا اور خط پھاڑ دیا ۔ پھر ایک یا دو دن کے بعد مجھے بلایا اور فرمایا : میرے بیٹے دائود کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے ؟ ۔ میں نے کہا : جیسا کہ آ پ کو معلوم ہے ، وہ قسطنطنیہ کے محاذ پر لشکر اسلام کے ہمراہ دشمن سے نبرد آزما ہے ،وہاں سے ابھی کوئی خبر بھی نہیں آئی ، پتہ نہیں زندہ بھی ہے یا جام شہادت نوش کر کے خدا کو پیار ا ہو چکا ہے ۔ امیر المونین نے کہا : رجاء بن حیوۃ ! پھر آپ ہی بتائیں کہ اس منصب کے لئے کون موزوں ہوگا ؟

میں نے کہا : امیر المومنین رائے اور مرضی تو آپ کی ہی چلے گی ، پھر انہوں نے ایک ایک کر کے نام لینے شروع کردیئے ۔ یہاں تک کہ انہوں نے خود حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کا نام لیا ۔ پھر فرمایا : اس کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے ؟ ۔

میں نے کہا : جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے ، وہ عالم ، فاضل ، دانشور ، جرأت مند ، دیانت دار اور دیندار انسان ہیں ۔ امیرالمومنین نے کہا : آپ بالکل سچ کہتے ہیں ، واقعی وہ ان خوبیوں کا مالک ہے ۔

(تاریخی واقعات)

متعلقہ خبریں