درجہ بدرجہ احساس ذمہ داری کی ضرورت

درجہ بدرجہ احساس ذمہ داری کی ضرورت


عدالت عظمیٰ سے وزیر اعظم کی نااہلی کیلئے کمزور دلیل پر مبنی فیصلہ کیا گیا ہے یا اسے مضبوط گردانا جائے۔ فیصلے کے بارے میں تاریخ کیا لکھے گی اس کے اثرات ومضمرات کیا سامنے آئیں گے اس فیصلے سے کون مستفید ہوگا اور خسارے میں کون رہے گا ۔ کس کی جیت ہوئی کس کی ہار ان سارے سوالات کاذہن میںپیدا ہونا ان کا پوچھا جانا اور اپنی دانست کے مطابق اس بارے رائے قائم کرنا فطری امر ہوگا ۔ عدالت کو قانون اصول ضابطہ شواہد دلائل اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا ہوتا ہے اس لئے عدالت ان سارے معاملات کی مکلف نہیں اور نہ ہی جوابدہ اگر غور کیا جائے تو وطن عزیز میں بار بار اس قسم کے معاملات کیوں سامنے آتے ہیں جس کی پیش بندی با آسانی ممکن تھی تو اس کا ساد ہ جواب یہی سامنے آتا ہے کہ ہمارے ہاں بروقت اور بر موقع ذمہ داریوں سے عہدہ بر آہونے کا رواج ہی نہیں جو لوگ مسند نشین ہیں ان کو اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کا شاید ہی ادراک ہے بلکہ اگر کہا جائے ان کو اپنی ذمہ داریوں و فرائض کا نہ تو ادراک ہے اور اگر ادراک ہے تو وہ ان کا پاس نہیں رکھتے ۔ اگر ہم ملکی سیاست اور خاص طور پر پاناما کیس کے تناظر میں کاغذات نامزدگی وصول کرنے والے اور ان کی جانچ پڑتال کرنے والوں کی ذمہ داریوں پر ایک طائرانہ نظر ہی ڈالیں تو امین اور صادق اور آرٹیکل 62،63پر پورا اترنے یا نہ اترنے کا سوال ہی اٹھنے کا امکان باقی نہیں بچتا سوائے نہایت باریک آئینی نکات کے جس کی ہر جگہ گنجائش رہتی ہے ۔ وطن عزیز کی سیاست میں آئینی عہدوں پر ایسے افراد کے فائز ہونے کی مثال زیادہ پرانی نہیں جن پر سنگین نوعیت کے مقدمات رہے ہوں اور وہ ختم بھی نہیں بلکہ ان مقدمات کی موجودگی میں آئینی عہدے پر طوالت سے براجمان رہنے کا ریکارڈ بھی قائم کر گئے ہوں ۔ وطن عزیز میں حساس سرکاری ملازمتوں سے سبکدوشی کے بعد اغیارکی خدمت بھی کوئی راز کی بات نہیں ۔ جس ملک میں قانون کی حکمرانی اور نفاذ قانون سے اغراض برتنے کا یہ عالم ہو وہاں پر عدالت کے کسی فیصلے پر عملدر آمد اور عدم عملدر آمد قانونی بات نظر آتی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وطن عزیز کا سب سے بڑا مسئلہ قانون کی حکمرانی اور نظم و ضبط کی پا بندی اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرنے اور دوسروں کے دائرہ کار میں عدم مداخلت قانون کو سب پر یکساں طور پر لاگو نہ ہو نا اور اس کا احترام نہ کرنا ہے ۔ اگر وطن عزیز میں ابتداہی میں قانون کی پابندی ضوابط کا خیال اور نظم و ضبط پر کار بند رہا جائے تو ایسے تنازعات کی نوبت ہی نہیں آئے گی جس کی بناء پر کوئی ایسا قدم اٹھایا جا سکے جسے قانون کی حکمرانی اور قانون کا فیصلہ قرار دیا جا سکے ۔ سیاسی معاملات میں اس کی ضرورت زیادہ شدت سے محسوس کرنے کی ضرورت ہے مگر یہاں پر سیاستدانوں کو وقتی اور عارضی صرف نظر سے فائدہ اٹھا کر ایک مرتبہ ایک مرحلے سے گزرنا ہوتا ہے اور وہ اس سعی میں اکثر و بیشتر کا مران ہی ٹھہرتے ہیں جبکہ اس مرحلے پر ذمہ داریاں نبھانے والے کسی غفلت سفارش اور ممکنہ طور پر رشوت یا کسی مصلحت کا شکار ہونے کو نارواخیال نہیں کرتے۔ کچھ عناصر ایسے بھی ضرور ہوںگے جو ان کمزوریوں کو وقت آنے پر ہی سامنے لانے کی سہولت کے پیش نظر ہی ریکارڈ رکھتے ہوں۔ اس سارے عمل میں قانون کی حکمرانی اور ملکی مفاد خون میں سبھی کے ہاتھ رنگے دکھائی دیتے ہیں ۔ عدالت عظمیٰ سے چار سال تک وزیر اعظم کے عہدے پر فائز شخص کو جس بنیاد پر نااہل قرار دیا گیا ہے یا جو معاملات پانامہ کیس کے بعد اٹھے تھے کیا یہ نئی بات تھی ایسا ہر گز نہ تھا بلکہ نوشتہ دیوار بھی کسی نے دیکھنے کی سعی نہیں کی ۔ سوال یہ ہے کہ ریٹرننگ آفیسر نے ضروری چھان بین کیوں نہ کی ہمارے تئیں دستاویزات میں معلومات خفیہ رکھنے کا عذر کافی نہیں اگر سیاستدانوں کے جمع کردہ دستاویزات کی چھان بین کی جائے تو آدھے سے زیادہ نا اہلیت کی زد میں آئیں گے۔ المیہ یہ ہے کہ خود سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان ہی یہ ریمارکس تو دیتے ہیں کہ اگر آرٹیکل 63,62کا نفاذ ہو تو ایک مخاطب کے علاوہ پوری پارلیمنٹ خالی ہوجائے اگر صورتحال ایسی ہی گمبھیرہے تو اس ضمن میں جس جس پر اور جن جن پر اس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس بارے کیا عملی اقدامات تجویز کئے گئے ۔ وطن عزیز کو بد عنوانی سے پاک کرنا اور احتساب کاکام صرف اداروں اور افراد کا نہیں پوری قوم کی من حیث المجموع ذمہ داری ہے۔ اس کے لئے سب سے زیادہ ذمہ داری بہر حال ان پر عائد ہوتی ہے جو ذمہ دار عہدوں پر فائز ہیں ۔ چونکہ سیاستدان ہی حکمران بنتے ہیں اور ملک کی باگ ڈور ان کے ہاتھوں میں آتی ہے اور یہ افراد ایک عمل سے گزرتے ہیں اس عمل کو جتنا مفصل اور شفاف بنایا جائے گا اور اس چھلنی میں جس قدر چھا ننے کاعمل بہتر ہوگا اس مرحلے پر جس کسوٹی پر پر کھا جائے وہ نظام اور عمل اگر کمزوریوں سے پاک بنایا جائے تو بہتر ہوگا ۔ ہمارے تئیں اس امر کا کوئی فائدہ نہیں کہ کسی کے چیلنج اور اعتراض کرنے کی صورت میں یا کسی اتفاقی یا کسی مقدمے کی تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر کسی کو نااہل قرار دیا جائے ۔ اس عمل پر تنقید مقصود نہیں اس کی افادیت اور نافع ہونے پر سوال اٹھتا ہے مثال کے طور پر اگر ایک شخص چار سال تک کسی آئینی عہدے پر رہتا ہے یا پھر ممبر پارلیمنٹ رہتا ہے اور چار سال بعد اس امر کا فیصلہ آجائے کہ وہ تو سرے سے اس امر کا اہل ہی نہ تھا تو گزرے ہوئے چار سالوں کا حساب کس سے اور کیسے لیا جائے گا ۔ اس مقصد کیلئے الیکشن کمیشن ریٹرننگ افسران اور انتخابی عمل کے ابتدائی مراحل کیلئے ایسا طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت ہے کہ اس مرحلے پر ہی اہلیت و نا اہلیت کی درست چھان بین ہوسکے ۔ ریٹرننگ افسر ان اگر کسی کے دین سے واقفیت کا امتحان لینے کی بجائے اگر اس کے کردارو عمل کا پیش کردہ دستاویز کی رو سے جائزہ لیں اور اس امر کوپر کھنے پر توجہ دیں کہ کہیں کوئی تفصیلات سہواً یا عمداً پوشیدہ تو نہیں رکھی گئیں اس مرحلے پر احتیاط کے تمام تقا ضوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر گزرنے کے بعد الیکشن کمیشن میں ایک ا یسا سیل ہونا چاہیئے جو متعلقہ اداروں کی مدد سے منتخب ہونے کے بعد بھی عوامی نمائندوں کی اہلیت کی جانچ پڑتال کو زیادہ تفصیل سے انجام دے جس کے بعد اگر کسی نمائندے کے حوالے سے کوئی بات سامنے آئے تو اس پر متعلقہ سیل اور اس کے بارے میں رپورٹیں جمع کرانے والے اداروں کے عملے کو بھی ذمہ دار ٹھہر ا یا جائے اور ان کیلئے بھی سزا مقرر کی جائے ۔ اس عمل کو جس قدر شفاف بنایا جائے گا اس قدر بہتر ہوگا ۔ارکان پارلیمنٹ کے اثاثوں دولت اور ٹیکس ریٹرنز کا بھی خصوصی طورپر جائزہ لینے ان کی تصدیق کرنے اور اس پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے اگر کسی غیر معمولی صورتحال کا علم ہو تو اس پر بروقت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی مقام پر یہ انکشاف سامنے نہ آئے کہ ان کے اثاثے و دولت اس کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ہمارے تئیں ذرائع آمدن ٹیکسوں کی ادائیگی اور کسی بھی فرد کے پاس موجود مال و دولت کا حساب کتاب رکھنے اور اس ضمن میں متعلقہ اداروں کو ذمہ داری پوری کرنے کا نظام پورے ملک میں اپنایا جائے اور بڑے ہر سودے کی منی ٹریل اور ثبوت رکھنے کو قانونی ضرورت کے طور پر منوایا جائے اور اس کی کسی بھی وقت باز پرس کو یقینی بنایا جائے تو بہت سے معاملات میں شفافیت کایقینی ہونا فطری امر ہوگا ۔ سیاستدان اور حکمران ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے وہاں ہمارے اداروں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس ہوگا اور عوام کسی رو میں بہنے کی بجائے ملک و قوم کا درد رکھنے والوں کو منتخب کریں گے تو بہتری و تبدیلی کی راہیں خود بخود کھل جائیں گی ۔

اداریہ