کیا یہ المیہ نہیں ؟

کیا یہ المیہ نہیں ؟

ملکی تاریخ میں کسی منتخب وزیر اعظم کے مدت پوری نہ کرنے کا معاملہ افسوسناک ہونے کے ساتھ ساتھ قابل توجہ ضرور ہے ۔ فوجی آمروں کے ہاتھوں وزرائے اعظم کی رخصتی کو جبر قرار دینے کی گنجائش ہے لیکن علاو ہ ازیں کی صورتحال میں اس امر کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ اس کے اسباب و علل کیا تھے ۔ خاص طور پر مدت پوری نہ کرنے کا ریکارڈ رکھنے والے وزیراعظم اور ان کی جماعت کی جذباتیت کو ایک طرف رکھ کر اس امر پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر وہ کیا غلطیاں اور غلط فہمیاں ہوئی ہیں یا پھر وہ کیا کردار و عمل ہوتا ہے جو بالآخر مدت سے قبل رخصتی پر منتج ہوتا ہے ۔ وہ کیا طرز عمل ہے جسے دیکھ کر مخالفین بہت پہلے ہی بم کو لات مارنے کی غلطی کا اعادہ کرنے کی پیشگوئی کرنے لگ جاتے ہیں ۔ ہمارے تئیں ن لیگ کے وزراء کی پریس کانفرنس میں پیش کردہ توجیہات ہی سیاسی نہیں بلکہ آئندہ کیلئے اس نوبت کے نہ آنے دینے کیلئے اقدامات کا عزم اور طرز عمل اختیار کرنے کا عندیہ بھی وقتی اور سیاسی ہے اور اگر ایسا نہیں بھی ہے تب بھی یکے بعد دیگرے اور تیسری مرتبہ کی غلطی کو چرا کار نے کندعاقل باز آید پشیمانی گردانا جائے گا ۔ مسلم لیگ ن کے فطری جذباتی ردعمل سے ہٹ کر مثبت طرز عمل یہ ہے کہ تحفظات کے باوجود عدالتی فیصلے کا احترام کیا گیا اور ملک میں آئینی بحران اور بلاوجہ قبل از وقت انتخابات یا کسی قسم کی محاذ آرائی سے گریز کا راستہ اختیار کیا گیا جو ہو شمندی کا تقاضا اسے اختیار کیا گیا۔ اگر حقیقت حال کے موافق طرز عمل ہی اختیار کیا جاتا تو شاید نوبت یہاں تک نہ آتی ۔ مسلم لیگ ن کے بار بار نکا لے جانے کے بعد اس کی اکثریت کے ساتھ واپسی اس امر کا ثبوت ہے کہ عوام کی دانست مسلم لیگ ن تقصیرات کے باوجود بھی ان کیلئے قابل قبول ہے ۔عوام کی دانست اور ان کا فیصلہ درست ہو یا غلط اس سے قطع نظر یہ حقیقت ہے کہ مسلم لیگ ن کو عوام کی خاصی حمایت حاصل ہے جس کا احترام کیا جانا چاہیئے ۔ مقام اطمینان امر یہ ہے کہ اس مرتبہ وزیر اعظم کی رخصتی کسی سیاسی بحران کا باعث نہ بنی اور ملک میں سیاسی طور پر حکومتی تبدیلی کا عمل جاری ہے جس کاکریڈٹ قانونی جامے میں وزیرا عظم کی رخصتی ہے۔ وطن عزیز میں خواہ وہ سیاسی جماعتیں ہوں سیاستدان ہوں یا ملکی ادارے ان کو اپنے اختلافات اس قدر عوامی سطح پر لانے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے کہ تصادم کا تاثر عوامی سطح پر نہ محسوس ہونے لگے ۔

اداریہ