Daily Mashriq


پانامہ کیس کے فیصلے کا دن

پانامہ کیس کے فیصلے کا دن

گزشتہ جمعہ کے روز ملک کے ایک اہم ترین مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے لیڈر کو عوامی عہدہ کے لیے نااہل قرار دے دیا۔ یوں نوازشریف اس فیصلے کے اعلان کے بعد سابق وزیر اعظم ہو گئے اور قومی اسمبلی کی رکنیت سے بھی محروم قرار پائے۔ ان کے خلاف درخواست گزاروں میں سے ایک پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی تھے۔ انہوں نے اگرچہ کہا ہے کہ یہ ایک تاریخی دن ہے۔ تاہم انہوں نے اپنے ورکروں کو تلقین کی ہے کہ وہ انتشار کی طرف نہ جائیں۔مسلم لیگ ن کے قائدین نے بھی اپنی پارٹی کے ورکروں سے بالعموم یہی کہا کہ وہ جوش و جذبات کا مظاہرہ نہ کریں۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ وہ عام انتخابات کی تیاری کریں۔ یوں یہ دن جسے عمران خان نے تاریخی کہا اور سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے تاریک دن قرار دیا، آئین کی بالادستی اور جمہوری رویہ کی تقویت کا دن ثابت ہوا۔کیونکہ کہیں کہیں احتجاج اور کہیں کہیں جشن کی خبروں کے ساتھ بخیر وخوبی گزر گیا اور وہ جو خدشہ تھا کہ بڑی سر پھٹول ہو سکتی ہے، ہنگامے برپا ہوسکتے ہیں' وہ سب کچھ نہ ہوا۔ اس میں کریڈٹ میاں نواز شریف کو بھی دیا جانا چاہیے جنہوں نے از خود اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو احتساب کے لیے پیش کیا اور بالاصرار یہ اعلان کیا کہ سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ دے گی وہ اسے قبول کریں گے۔ فیصلہ کے بعدمیاں نواز شریف کی خاموشی کہہ رہی ہے کہ وہ اپنی بات پر قائم ہیں۔ ان کی نظر میں یہ امکان ہو گا کہ فیصلہ ان کے خلاف آ سکتا ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے استعفیٰ دینے کا مشورہ اور مطالبہ منظور نہیں کیا۔ مقدمے کے آخری دنوں میں جب ان کے اقامہ کی باتیں ہونے لگی تھیں اس وقت بھی انہوں نے استعفیٰ نہیں دیا۔ بات سمجھ میں آتی ہے کہ استعفیٰ دینے کی صورت میں بھی وہی ہوتا جو خلاف فیصلہ آنے کی صورت میں ہو سکتا تھا۔ اس لیے انہوں نے فیصلے کے انتظار ہی کو ترجیح دی۔ اس دن کے پرامن طور پر گزر جانے سے ایک بات البتہ سامنے آئی ہے کہ نہ یہ دن تاریخی تھا نہ تاریک بلکہ عدل کی بالادستی کا دن شمار کیا جا سکتا ہے۔ ہر مقدمے میں کوئی جیت جاتا ہے کوئی ہار جاتا ہے، جو اس مقدمے میں بھی ہوا لیکن جس طرح ہار جانے والوں نے اپنے ورکروں کو ہنگامہ آرائی سے باز رہنے کی تلقین کی اور جیتنے والوں نے اپنے ورکروں کو انتشار کی طرف جانے سے باز رہنے کی تلقین کی اس سے ظاہر ہے کہ دونوں نے آئین اور قانون کی بالادستی کو تسلیم کیا۔

امید کی جانی چاہیے کہ فیصلے سے پیدا ہونے والی صورت حال میں جمہوری نظام کو قائم رکھتے ہوئے آئندہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے ۔ اور یہ ہوا بھی کہ مسلم لیگ کی قیادت کا ایک اہم اجلاس بلایا گیا اور اس میں طے کیا گیاکہ آئندہ انتظام حکومت کیا ہو۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اعلان کیا کہ وہ اتوار کو ایک جلسے میں پارٹی کے آئندہ پروگرام کا اعلان کریں گے۔

لیکن حکمران پارٹی کے اجلاس سے پہلے ہی پارٹی کے چار سابق وزراء نے ایک پریس کانفرنس بلا لی اور اس میں اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ اس پریس کانفرنس میں جو کچھ کہاگیاآیا وہ پارٹی پالیسی ہے یا محض ان سابق وزرائے کرام کے ذاتی خیالات ہیں یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ ان میں سے خواجہ سعد رفیق نے ایک بار پہلے بھی اپنے حلقۂ انتخاب کے ورکروں سے خطاب کرتے ہوئے کچھ جوشیلی باتیں کی تھیں جنہیں بعد ازاں انہوں نے کہا تھا کہ یہ ان کے ذاتی خیالات ہیں پارٹی پالیسی نہیں۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ صاحب نے کہا کہ ہمارا حق حکمرانی پامال کیاگیا ہے۔ یہ سوال زیرِ غور ہونا چاہیے کہ کاروبارِ حکومت چلانے کی ذمہ داری کا، جسے حق حکمرانی کہا گیاہے، ملک کے آئین اور قانون کے حدود میں رہنا ضروری ہے یا انتخاب میں حاصل ہونے والا مینڈیٹ ذمہ داران حکومت کو آئین و قانون سے بالاتر بنا دیتا ہے۔ ایک عرصہ سے اہلِ سیاست ایسی باتیں کر رہے ہیں جن میں عام انتخابات کوعوامی عدالت کہا جارہاہے اور اس کے ''فیصلے'' کو فائق قرار دیا جارہا ہے۔

عام انتخابات میں عوام اپنی پسند و ناپسند اور بعض پارٹیوں اور افرادسے آئین و قانون کے مطابق کاروبار حکومت چلانے کی توقعات کا اظہار کرتے ہیں۔اس کا مطلب یہ نہیں لیا جاناچاہیے کہ عام انتخابات میں حاصل ہونے والی اکثریت اکثریتی پارٹی اور اس کے ارکان کو ملک کے آئین اور قانون کو پامال کرنے کا حق دے دیتی ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ اہل سیاست آئندہ کے سیاسی خطابات میں اپنے مخاطبین کو اس مغالطے میں مبتلا کرنے کی کوشش نہیں کریں گے کہ عام انتخابات کے ذریعے وہ کسی پارٹی کو آئین و قانون سے بالاتر حق حکمرانی دے دیتے ہیں۔ مقدمہ کے فیصلے کے بعد کی جذباتی کیفیت میں اگر یہ بات کہہ دی گئی تو اس پر نظرِ ثانی کی جانی چاہیے۔ لیکن اس مغالطے کو فروغ دینے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ ایک دوسری بات یہ کہی گئی جو تنخواہ میاں نواز شریف نے لی ہی نہیں اس پر ان کے خلاف فیصلہ کر دیاگیا۔ لگتاہے فیصلہ پورا سنا ہی نہیں اور تبصرہ بھی کر دیا گیا ۔ ایسی ہی بات جمعیت علماء اسلام کے مولانا فضل الرحمان نے بھی کی ہے۔ کسی قدر تصرف کے ساتھ ہی کہا جا سکتا ہے کہ فکرِ ہرکس بقدرِ ''بصیرت'' ادست۔ تاہم مسلم لیگ کے اکابرین سر جوڑ کر بیٹھیں گے اور نہ صرف آئندہ قائد ایوان کے بارے میں فیصلہ کریں گے بلکہ پارٹی کے آئندہ سٹانس اور لائحہ عمل پر بھی غور کریں گے۔ پارٹی کے ایسے اجلاسوں میں امید ہے بالغ نظر فیصلے کیے جائیں گے۔ میاں نواز شریف سمیت ساری قوم کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ساری قوم آئین اور قانون کے مطابق جمہوری عمل کو آگے بڑھانے پر یقین رکھتی ہے اور یہ ایک صحتمند علامت ہے۔

متعلقہ خبریں