اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے

اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے

چچا غالب اپنے کلکتہ کے دو سالہ قیام کو زندگی بھر بھول نہیں سکے تھے۔ یہی حال ہمارا بھی ہے۔ 1970ء کی دہائی کے پہلے دو سال جو ہم نے تیمرگرہ میں گزارے ہیں اس زمانے کی دلکش یادوں کے سحر سے ہم آج تک باہر نہیں آسکے۔ وہ جو کسی نے کہا ہے عمر گزشتہ کی کتاب کی ورق گردانی دراصل زندگی کے کھوئے ہوئے خزینے واپس پانے کی خواہش کے سوا کچھ نہیں ہوتا اور یادیں ایسی جو سرور انگیز بھی ہوں اور سکون آور بھی۔ جن کے تصور سے پریوں کے د یس میں پہنچنے کا گمان ہونے لگتا ہے۔ اپنے دوست کالم نگار پروفیسر خالد سہیل ملک کی تحریر ''تیمر گرہ اور پروفیسر فضل حسین ''نے بھی ہمیں ماضی کی حسین یادوں سے سر شار کردیا اور ہم بے اختیار گنگنانے لگے
کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشین
اک تیر میرے سینے پہ مارا کہ ہائے ہائے
ہماری آج کی تحریر کو اسی ہائے ہائے کی بازگشت سمجھ کر قبول فرمائیے۔ جب 10 اکتوبر1969ء کی ایک رومان پرور اور خوشگوار دوپہر کو ایک کھٹارہ بس میں رلتے ہوئے علم کی روشنی پھیلانے کے عزم کے ساتھ تیمر گرہ میں قدم رنجہ فرمایا تو دیر ابھی بجلی کی روشنی سے بھی محروم تھا۔ تیمر گرہ پر شور بازار آج جس سے گزرنے کے لئے نصف گھنٹہ صرف ہوتا ہے اس زمانے میں ایک خاموش ،پرسکون اور چند کھوکا نما دکانوں پر مشتمل قصبہ تھا۔ ہم خشک ندی کوپا پیادہ عبور کرتے ہوئے تیمر گرہ ہائی سکول پہنچے۔ سکول کے ہیڈ ماسٹر نوزائیدہ انٹرمیڈیٹ کالج کے پرنسپل بھی تھے جو سکول ہی کے بغل میں واقع چھ کمروں کی ایک مختصر عمارت میں قائم کیا گیا تھا۔ تھری سوٹ میں ملبوس قراقلی ٹوپی سر پر سجائے کلین شیوڈ بے تکان گفتگو کرنے والے ہیڈ ماسٹر صاحب بڑے دلچسپ آدمی ثابت ہوئے۔ انہوں نے پہلی ہی ملاقات میں حکم صادر فرمایا یہاں قمیص پاجامہ نہیں چلے گا۔ آپ کوٹ پہن کر کالج آئیں گے۔ انکشاف ہوا کہ انہوں نے ہر روز نیا سوٹ پہننے کے لئے 30 سوٹ بنا رکھے ہیں۔ ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے پہلے سے آئے ہوئے دو لیکچررز انعام الحق اور کریم داد سے ملاقات ہوئی جو آج ہمارے درمیان میں نہیں ہیں۔ وہ بھی سوٹ پہنے ہوئے تھے' ہیڈ ماسٹر نے ہمیں عارضی طور پر سکول ہی کے ایک کمرے میں رہنے کی اجازت دے دی۔ کریم داد کی چارپائی اور سوٹ کیس وہاں پہلے سے موجود تھا۔ تنخواہ ہماری 350روپے ماہانہ سکہ رائج الوقت مقرر ہوئی تھی۔ 20فیصد اس میں غیر دلکش علاقے میں ملازمت کا اضافی الائونس شامل کرکے 420روپے بن گئی۔ دیکھا تو یہ تنخواہ اس زمانے میں ہماری ضرورتوں سے کچھ زیادہ معلوم ہوئی۔ ہمارے سینے پر گزیٹڈ کلاس ٹو آفیسر کا تمغہ بھی سجا دیا گیا۔ سونا اس زمانے میں 140روپے تولہ تھا اور ہم اپنی تنخواہ میں ڈھائی تولہ سونا خرید سکتے تھے جبکہ آج کے گزیٹڈ گریڈ سترہ کے ملازم کی تنخواہ میں آدھا تولہ سونا بھی نہیں ملتا۔ سکول کے چوکیدار معتبر خان ہمارے طباخ مقرر ہوئے بلکہ ہم تو انہیں شاہی طباخ کہیں گے کیونکہ وہ ہر کھانے میں ہمارے سامنے مرغ مسلم کی قاب رکھ دیتے تھے۔ ہم نے ایک دن ان سے پوچھا معتبر خان کیا تیمر گرہ میں دال یا سبزی نام کی کوئی چیز نہیں ملتی۔ انڈے کی قیمت دو آنے تھی اور مرغی ڈیڑھ روپے میں مل جاتی اس لئے معتبر خان کا دھیان اس طرف کم ہی جاتا۔ پہلے مہینے مسلسل مرغ خوری کے باوجود ہم نے صرف 32روپے چارجز ادا کئے۔ہم بالعموم چھٹی کا دن دیر کے نادیدہ علاقوں کو دریافت کرنے میں صرف کرتے۔ پروفیسر رحیم کی جیب ہمارے زیر استعمال تھی۔ اچانک شام کو ساتھی کہتے چلئے پیر بابا چلتے ہیں' کڑا کڑ کی چوٹی پر سے ہوتے ہوئے سواڑئے پہنچتے ۔ وہاں شام کا کھانا کھاتے اور آدھی رات کو واپس آجاتے۔ نہ لٹنے کا خوف نہ اغواء ہونے کا خدشہ۔ دیر افغان سرحد کی چوٹی پر واقع مسکیسی کے علاوہ معیار اور گھمبیر کے دلکش قصبوں کو دیکھنے کا موقع ملا۔ پروفیسر رحیم شاہ ہمیں اپنے گائوں بامبوئی میں دعوتیں کھلاتے رہے۔ ان کے گائوں تک جانے کے لئے ہمیں اوچ سے آگے چار پانچ فٹ چوڑے ایک دشوار گزار پہاڑی راستے پر سے ہزاروں فٹ اونچائی تک جانا پڑتا تھا۔ ہم نے ایک بار پروفیسر رحیم شاہ سے پوچھا' یار تم نے اس گائوں میں رہتے ہوئے یونیورسٹی تک اپنی تعلیم کیسے مکمل کرلی۔ وہ ہنس کر جواب دیتے یہ تو مجھے بھی معلوم نہ ہوسکا۔ تیمر گرہ سے اپنے گائوں بغدادہ تک آنے جانے کے لئے پورا ایک دن درکار ہوتا۔ مردان آنے کے لئے اگر ہم صبح دس بجے تک بس نہ پکڑ لیتے تو اس کے بعد قسمت ہی سے کوئی ٹرانسپورٹ نصیب ہوتی۔ مردان سے دیر جانے والی جی ٹی ایس کی اکلوتی بس رات تین بجے بغدادہ میں مقام منڈئے سے گزرتی۔ ہم نے کئی بار اس بس سے کالج میں آٹھ بجے سے پہلے پیریڈ تک پہنچنے کا بھی رسک لیا ہے۔ کوٹو کی بس مردان سے صبح دس بجے روانہ ہوتی۔ بٹ خیلہ میں چاول' گھی کے بڑے ٹین یہاں تک کہ بکریاں بھی اس میں لاد دی جاتیں۔ چکدرہ میں محصول کے طویل مرحلے سے گزرنے کے بعد یہ بس کامرانی کی چوٹی سر کرتے ہوئے عصر کے وقت تیمر گرہ پہنچتی۔ کرایہ بس کا صرف پانچ روپے تھا۔ ٹرانسپورٹ کی جدید سہولتوں کی وجہ سے ایک دن کا یہ سفر اب دو گھنٹوں میں طے ہو جاتا ہے مگر کرایہ شنید ہے دو سو روپے وصول کیا جاتا ہے۔ آج تیمر گرہ کی آبادی میں بے تحاشہ اضافہ ہوچکا ہے۔ لیکن ہماری یادوں میں تو اب بھی ایک پرسکون اور خاموش تیمر گرہ آباد ہے جس کے سحر سے ہم باہر نہیں آسکتے۔

اداریہ