Daily Mashriq


اوج ثریا سے

اوج ثریا سے

دستور پا کستان کے آرٹیکل 45میں درج ہے کہ صدر کو کسی عدالت ، ٹریبونل یا دیگر ہیئت مجاز کی دی ہوئی سزا کو معاف کر نے ، ملتوی کرنے اور کچھ عر صے کے لیے روکنے ، اور اس میں تخفیف کر نے ، اسے معطل کر نے کا اختیا ر ہو گا ۔ پاکستان کے وزیر اعظم اب سابق وزیراعظم کو جو سزا دی گئی ہے اس کے بارے میں آئینی ماہر ین اور بعض حلقوں کا گما ن تھا کہ صدر ممنو ن حسین اس اختیا ر کو استعمال میں لاکر میا ں نو از شریف کو سہولت فراہم کر دیں گے۔ ہنو ز اس با رے میںکوئی خبر نہیں ہے کہ کیا ہونے والا ہے تاہم پا کستان کی تاریخ شاہد ہے کہ یہا ں جس کی لا ٹھی اس کی بھینس والا معاملہ ہی چلا ہے سچ تو یہ ہے کہ پاکستان میں سول حکومت کو چلنے ہی نہیںدیا گیا اس کا یا تو سارا زما نہ ہنگامہ آرائی کی نذر کر دیا گیا یا پھر ڈنڈے کے زور پر تہس نہس کردیاگیا۔ سیاسی افراتفری سے پاک کوئی دور گزرا ہے تو وہ فوجی آمرو ں کا رہا ہے۔

آزادی برصغیر ہند وپاک کے آزادی ایکٹ 1947ء کے تحت وزیر اعظم کا عہدہ پاکستان میں تخلیق کیا گیا اور گورنر جنر ل پاکستان نے لیاقت علی خان شہیدملت کو پاکستان کا پہلاوزیر اعظم منتخب کیا ، جنہیں 1951ء میں قتل کر دیا گیا ،پھر1 195سے 1958 تک چھ شخصیا ت وزیر اعظم کے عہد ے پر فائز رہیں جس کے بعد صدر پاکستان سکند ر مر زا نے یہ عہدہ ختم کر دیا ، سابق فوجی آمر یحییٰ خان نے پاک بھارت جنگ کے دوران نو رالا مین کو وزیر اعظم کے عہد ے پر نا مزد کیا اس کے ساتھ ہی ذوالفقار علی بھٹو کو جن کے ساتھ شیخ مجیب الرّحما ن اسمبلی سے باہر کسی سمجھوتے پر راضی نہ تھے ان کو نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کا عہدہ دیا گیا پاک بھارت جنگ کے سلسلے میںسلا متی کونسل کے اجلاس میں انہو ں نے یحییٰ خان حکومت کی نمائندگی کی۔ نو رالا مین صرف تیر ہ دن فائز رہے ، 1973ء کے دستو ر میں وزیر اعظم کا عہدہ دوبارہ تخلیق کیاگیا 1977ء میں جنرل ضیا الحق نے ایک بار پھر یہ عہد ہ ختم کر دیا پھر 1985ء کو قومی اسمبلی کے انتخابات کر اکے بحال کر دیا گیا اور محمد خان جونیجو کو وزیر اعظم نا مزد کیا گیا جنہو ں نے قومی اسمبلی سے اعتما د کا ووٹ حاصل کیا مگر 1985میں آئین میں آٹھویں ترمیم کے ذریعے ان کو بر طرف کر دیا گیا جس کے بعد نواز شریف (1990ء سے 1993ء اور 1997سے 99ء تک دو مر تبہ وزیراعظم منتخب ہوئے جبکہ بے نظیر بھٹو 1988ء سے 1999ء تک غیر مسلسل وزیر اعظم رہیں ِ، محمد خان جونیجو سمیت کسی وزیر اعظم نے اپنی مدت حکو مت پوری نہ کی اوران کو وقت سے پہلے ہی ہٹا دیا گیا نو از شریف 2013ء میں تیسری مر تبہ وزیر اعظم بنے انہو ں نے تیسری مر تبہ وزیر اعظم بن کر پاکستان کی تاریخ میںایک نیاریکا رڈ قائم کیا ، پاکستان میں 23ء وزرائے اعظم میں سے سترہ کا قومی اسمبلی کے ذریعے انتخاب ہو ا جبکہ چھ نگران وزرائے اعظم مقر ر ہوئے ۔

یہ ایک مختصر ساجا ئزہ ہے سول حکومتو ں کا ،جب بھی سول حکومت بنتی ہے تو میڈیا پر چاہے وہ پاکستانی ہو یا غیر ملکی یہ شور شروع ہو جا تا ہے کہ سول اورملٹر ی قیا دت میںہم آہنگی ختم ہو گئی ہے۔ ایسا کیو ں ہو تا ہے یہ متاثرین بتا سکتے ہیں جہا ں تک نو از شریف کا تعلق ہے تو سیاست سے پہلے اسٹیبلشمنٹ کے منظور نظر بنے پھر حکومت میں آئے سیا ست میں وہ شروع میں ایئر مارشل اصغر خان سے متاثر ہوکر تحریک استقلا ل میں شامل ہوگئے تھے۔ حکومت میں شامل ہو کر وہ جنرل ضیاالحق کے جا نشین بھی بنے ۔مگر دیکھنے میں یہ آیا کہ جنرل ضیا الحق کے بعد ان کے اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات کوئی خوشگوار سے نہیں رہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ انہوں نے سیا سی طور پر عوام میں مقبولیت حاصل کی اور انہوں نے عوامی بہتری اور پاکستان کی بہتری کے لیے بھی کچھ نہ کچھ کیا اور اس امر کو بھی پسند نہیںکیا کہ غیر جمہو ری ادارے خاص کر حکومتی ادارے ایک منتخب جمہوری حکومت میں دخل اندازی کر ے اور اسی کا وش میں وہ چو ٹ کھا تے بھی رہے ۔

عدالت میں پانا ما سے متعلق مقدمہ زیر سما عت ہو ا تھا مگر ان کوسزا پاناما یا دیگر کسی الزام میںنہیں ملی بلکہ دوبئی کا اقامہ اور وہا ں کے ادارے سے تنخوا ہ وصول کرنے کے جر م میں ملی ہے جبکہ ان کا موقف یہ رہا کہ انہو ں نے کوئی تنخوا ہ وصول نہیں کی کیو ںکہ وہ اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران ملا زمت کے سلسلہ میں دوبئی گئے ہی نہیں ۔ خیر عدالتی فیصلے پر ان کی اپنی رائے ہے تاہم پاکستان میںایک بڑی اور سنجید ہ لیڈر شپ اور سنجید ہ سیاسی جماعت کے مستقبل کے بارے میں سوال اٹھ گیا ہے۔ عدالتی فیصلے سے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ نہ صرف نو از شریف پو ری طرح گھیر ے میںآئے ہیں بلکہ ان کا پورا خاندان اس کی زد میں ہے۔ شنید یہ ہے کہ شہباز شریف وزارت عظمیٰ اور سیاسی قیادت دونو ں سنبھالیں گے مگر حدیبیہ پیپر ملز کے حوالے سے ان کے خلاف بھی ریفرنس کھلنے والا ہے۔ اگر احتساب عدالت نے ان کے خلا ف وارنٹ جا ری کر دیا تو پھر کیا بنے گا ، ایک بات ضرور ہے کہ مسلم لیگ ن کے لیے آنے والے دن بڑے کٹھن ہیں ان میںایک ہی شخص چودھر ی نثار ہوشیا ر باش رہے کہ پا رٹی کے برے دنوں میں انہو ں نے اپنی نا راضی کو طشت از بام کر کے میا ں برادران کی سیاسی حکمت عملی سے خود کو جد ا ظاہر کر کے سیا سی اہمیت حاصل کی اور اپنی پا ک دامنی کی نمائش کی ۔اس طرح خود کو سیا سی طور پر سرخرو کر دیا مگر مسلم لیگ میں وہ اپنا اعتما د کھو بیٹھے ہیں ہا ں البتہ اسٹیبلشمنٹ کا اعتما د ان کو حاصل ہے۔ وہ ویسے بھی ان کی لابی میں رہتے ہیں پرویز مشرف کو انہو ں نے ہی نواز شریف پر زور د ے کر آرمی چیف بنو ایا تھا اور اس سلسلے میں انہو ں نے شہباز شریف کی معاونت بھی حاصل کی تھی۔

(باقی صفحہ 7)