Daily Mashriq


وزیر باغ مرحوم و مغفور

وزیر باغ مرحوم و مغفور

اگلے وقتوں کی بات ہے پشاور شہر میں ایک باغ ہوا کرتا تھا جو وزیر باغ کے نام سے پہچانا جاتا تھا سرسبز وشاداب وزیر باغ جس میں کرکٹ، فٹ بال اور ہاکی کے خوبصورت میدان تھے کھیل کے ان میدانوں میں سبزے کی تراش خراش دیکھ کر دل خوش ہوتا تھا ہموار میدان جن میں کھیلتے ہوئے کھلاڑیوں کی کارکردگی دیکھنے کے قابل ہوتی تھی۔ یہ پشاور شہر کے لوگوں کے لیے ایک بہترین تفریح گاہ تھی بڑے بوڑھے وزیر باغ میں خوبصورت کیاریوں کے درمیان شاندار لکڑی کی بنی ہوئی بنچوں پر تشریف فرما ہوتے۔ چاروں طرف لہلہاتے ہوئے سبزے کی موج انہیں ایک انجانی خوشی سے مسحور کردیتی شہر کے کھلاڑیوں کے لیے ایک صحت مند تفریح تھی۔ روزانہ عصر کی نماز کے بعد کھیل کے میدان کھلاڑیوں سے آباد ہوجاتے فٹ بال کے میدان کی دیکھ بھال فٹ بال کے ایک عاشق دائودلالہ مرحوم و مغفورکی زندگی کی سب سے بڑی مصروفیت تھی وہ روزانہ بلا ناغہ اپنی اکلوتی سائیکل پر سوار ہوکر فٹ بال کے میدان پہنچ جاتے۔ گرائونڈ میں ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جس کا کل اثاثہ چند کرسیاں ایک کیرم بورڈ اور فٹ بال کے کھلاڑیوں کے یونیفارم وغیرہ تھے۔ دائودلالہ اپنی کرسی نکال کر کمرے کے باہر بیٹھ جاتے چھ فٹ سے نکلتا ہوا قد،سر پر پشاور یوں کی مشہور قراقلی ٹوپی کیا رعب اور دبدبہ تھا۔ فٹ بال گرائونڈ کے قریب کسی سائیکل سوار بائیک سوار کو پھٹکنے کی مجال نہیں تھی۔ اگر کوئی انجان فٹ بال گرائونڈ کے چھوٹے سے گیٹ کے قریب پہنچتا تو اسے لالہ دائود کی گرجدار آواز سنائی دیتی جسے سنتے ہی وہ نودوگیارہ ہوجاتا !وہ برادر فٹ بال کلب کے انچارج تھے جوانی میں وہ خود بھی اسی کلب کی طرف سے کھیلاکرتے تھے۔ کرکٹ کے بھولے بھٹکے کھلاڑی اپنی وکٹوں کے ہمراہ جب فٹ بال گرائونڈ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے تو لالہ دائود کی ایک ہی گرج انہیں پسپا ہونے پر مجبور کردیتی ! اسی طرح ہاکی اور کرکٹ کے گرائونڈ بھی اچھی حالت میں تھے ہاکی کے گرائونڈ میں کھلاڑیوں کے لیے ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جس میں وہ یونیفارم تبدیل کرتے اپنی ہاکیاں وغیرہ رکھتے عصر کی نماز کے بعد کھلاڑی آنا شروع ہوجاتے یونیفارم تبدیل کرکے ہاکی کھیلنا شروع کردیتے ۔بڑے پڑھے لکھے لوگ ہاکی ، فٹ بال اور کرکٹ کے کھلاڑی ہوا کرتے۔ ایک تہذیب تھی شائستگی تھی بڑے چھوٹے کا احترام تھاسینئر کھلاڑیوں کا سب احترام کرتے ان کی بات غور سے سنتے وزیر باغ آج بھی موجود ہے لیکن اسے مرحوم وزیر باغ کہنازیادہ مناسب ہوگا جن لوگوں نے وزیر باغ کے اچھے دن دیکھے ہوئے ہیں ۔اگر وہ وزیر باغ کی موجودہ حالت دیکھ لیں تو یقین کیجیے ہماری طرح خون کے آنسو بہانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ آج بھی وزیر باغ میں مالیوں اور دوسرے اہل کاروں کی ایک فوج ظفر موج تو موجود ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے کرتا دھرتا بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ انہیں ہر قسم کی مراعات حاصل ہیںلیکن اگر کسی چیز کی کمی ہے تو وہ احساس ہے رزق حلا ل کا ،احساس ذمہ داری نہیں ہے اپنے کام اور فرائض سے غفلت ہے ! اگر ہم شاعر ہوتے تو مرحوم وزیر باغ پر ضرور ایک مرثیہ لکھتے جسے پڑھ کر شاید ارباب اختیار جاگ اٹھتے !محبت اور احسا س ذمہ داری کا اعجاز دیکھیے کہ لوگ اس وقت فٹ بال کے گرائونڈ کو لالہ گرائونڈ کہتے۔ آج لالہ گرائونڈ کی زبوں حالی دیکھی نہیں جاتی۔ گول پوسٹ کے پائپ ٹوٹے ہوئے ہیں میدان کی حالت یہ ہے کہ اس میں جگہ جگہ گڑھے پڑے ہوئے ہیں تقریباً پندرہ بیس کرکٹ ٹیمیں یہاںکرکٹ کھیلنے میں مصروف ہوتی ہیں۔ وکٹیں لگانے سے گرائونڈ میں جگہ جگہ سوراخ پڑے ہوئے ہیں۔ اس میدان میں تماشائیوں کے بیٹھنے کے لیے جو سیڑھیاں تعمیر کی گئی تھیں آس پاس کی مقامی آبادی اس کی اینٹیں اکھاڑ اکھاڑ کر لے جاتی رہتی ہے۔ لوہے کی گرل بیچاری کس شمار قطار میں ہے وہ تو بڑی آسانی سے لوگ اکھاڑ کرکباڑیوں کے ہاتھ بیچ دیتے ہیں۔کرکٹ گرائونڈ کی گھاس مکمل طور پر اڑ چکی ہے اب وہاں دھول کا راج ہے آپ کو وہاں دھول سے اٹے ہوئے کھلاڑی کرکٹ کھیلتے ہوئے نظر آتے ہیں انہیں دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ کرکٹ کا جنون اپنی جگہ لیکن ان بیچاروں کو ڈھنگ کا کوئی میدان بھی میسر نہیں ہے !جہاں تک ہاکی کے کھیل تعلق ہے تو وہ تو گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوچکا ہے۔ اب تو شاید ہماری نوجوان نسل اپنے قومی کھیل کو جانتی تک نہیں اسی لیے ہاکی کے میدان میں بچوں کے لیے جھولے لگا دیے گئے ہیں لیکن جھولوں کی حالت دیکھنے کے قابل نہیں ہے ! وزیر باغ میں ڈیوٹی سرانجام دینے والے مالیوں کا کہنا ہے کہ یہاں آس پاس رہنے والی آبادی کی وجہ سے ہم یہاں کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ لوگ دیوارتوڑ کر اینٹیں تک لے جاتے ہیں ۔شاید اس مسئلے کا بہتر حل یہی ہوسکتا ہے کہ یہاں پر بھی ٹکٹ لگا دیا جائے بغیر ٹکٹ وزیر باغ میں داخلے پر پابندی ہونی چاہیے لیکن یہ اور اس طرح کے دوسرے اقدامات اسی وقت ممکن ہیں جب ارباب اختیار کے نزدیک پشاور کے ان اجڑے ہوئے باغوں کی کوئی اہمیت بھی ہو؟۔

متعلقہ خبریں