Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حکم ہوا قیدی کو حاضر کیا جائے ۔ حکم کی دیر تھی کہ قیدی کو پیش کر دیا گیا ۔ قیدی کیا تھا مظلومیت کی منہ بولتی تصویر ہاتھ پائوں بندھے ہوئے تھے ، چہرہ جگہ جگہ سے زخمی۔ یہ اللہ کا بندہ مہینوں سے قید بھگت رہا تھا اور قید بھی ایسی سخت کہ کوئی اور ہوتا تو کب کا دم توڑ دیتا لیکن اللہ نے اس نیک بندے کو ایسے صبر اور ایسی استقامت سے سر فراز فرمایا تھا کہ اس کا عمل صبر ایوبی کی یاد دلاتا تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ قرآن مخلوق نہیں ہے ، جن کے ہاتھ میں حکومت کی باگ ڈور تھی وہ کچھ اور کہلوانا چاہتے تھے ، سرکای مولویوں نے تو یہ کہہ بھی دیا لیکن امام احمد بن حنبل بہت بڑے آدمی تھے ، اپنی رائے پر جمے رہے ۔ صاحب علم کا بڑا مرتبہ ہوتا ہے ، اس لئے اس کی بڑی آزمائش بھی ہوتی ہے ، لوگوں نے کہا ، حضرت ! فلاں فلاں بھی عالم ہیں انہوں نے وہ بات کہہ دی آپ بھی کیوں نہیں کہہ دیتے ؟ اس مصیبت سے آپ کو بھی نجات مل جائے گی ۔ فرمایا نہیں یہ ممکن نہیں ! میں ہاں کروں گا تو لوگ اسی کو سچ سمجھیں گے اور اسی کو ماننے لگیں گے ۔ میں اپنی جان بچانے کے لئے مسلمانوں کو غلط راستے پر نہیں ڈال سکتا ۔ دوسروں کی باتیں مجھ سے نہ کرو ۔ ان کا دین ایمان وہ جانیں ۔ جمے دربار میں جہاں ایک طرف بیچارہ قیدی تھا اپنے دور کا سب سے بڑا محدث عظیم عالم بڑا صاحب تقویٰ انسان اور دوسری طرف حاضر باشان دربار تھے ۔ وزیر تھے مشیر تھے علمائے دربار تھے وہیں ایک طرف ایک جلاد بھی کھڑا تھا ۔ ہاتھ میں ننگی تلوار تھی ۔ تازہ تازہ باڑھ پر رکھی ہوئی ۔ کچھ اور قیدی بھی اسکے پاس کھڑے تھے ان میں سے کوئی قاتل تھا کوئی باغی کوئی ڈاکو ۔ حکم ہوا امام احمد بن حنبل کو جلاد کے قریب کھڑا کیا جائے ۔ جب انہیں وہاں پہنچا دیا گیا تو جلاد کو اشارہ ہوا ۔ اُس نے عام قیدیوں میں سے ایک قیدی کو پکڑا اس کی گردن اڑادی ، اتنے میںدوسرا قیدی آگے بڑھایا گیا اس کی گردن بھی اڑا دی گئی ۔ یہ سب کچھ اس لئے ہورہا تھا کہ امام صاحب ہیبت زدہ ہو کر اپنی رائے بد ل دیں ، لیکن اللہ کے نیک بندوں کا کچھ اور ہی حال ہوتا ہے ، امام صاحب نے جلاد کے پاس کھڑے کھڑے اپنے قریب کے لوگوں پر نظر ڈالی تو وہاں انہیں امام شافعی کے ایک شاگرد نظر آئے ، امام احمد بھی امام شافعی کے شاگرد تھے ۔جیسے ہی امام صاحب کی نظر ان پر پڑی ذرا ان کے قریب ہوئے اور پوچھا موزے پر مسح کرنے کے بارے میں تمہیں کوئی ایسی حدیث یاد ہے جو امام شافعی بھی روایت کرتے ہوں ! پاس والوں نے یہ بات سنی تو سناٹے میں آگئے ، کیا موقع تھا اور کیا بات پوچھی جارہی تھی ۔ یہ بھی کوئی وقت تھا کہ کسی علمی مسئلے کی تحقیق ہو ؟ احمد بن دائو د امام صاحب کا شدید مخالف تھا ۔ ان پر یہ ساری مصیبت اسی کی لائی ہوئی تھی ۔وہ بھی وہیں پاس کھڑا تھا جب اس نے امام صاحب کی یہ حالت دیکھی تو بے اختیار بولا اس شخص کو دیکھو اس کی گردن اڑنے والی ہے اور حدیث پوچھ رہا ہے ۔ اللہ رے شوق علم ۔ (روشنی)

متعلقہ خبریں