Daily Mashriq


ہوش اور عقلمندی کے تقاضے

ہوش اور عقلمندی کے تقاضے

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے قومی اسمبلی میں حلف اُٹھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اسمبلیوں کے بائیکاٹ کا آپشن استعمال نہ کرنے کا عندیہ دے کر یقیناً مثبت سیاسی گیم کا آغاز کیا ہے۔ اس سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اے پی سی میں شرکت نہ کرکے اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے الیکشن میں مبینہ دھاندلی پر اے پی سی کا ساتھ دیتے ہوئے احتجاج کا عندیہ دیا تھا تاہم بائیکاٹ کے آپشن کو مسترد کر دیا تھا جبکہ لیگ (ن) نے اسمبلیوں میں حلف اُٹھانے یا نہ اُٹھانے کے حوالے سے دو دن کی مہلت طلب کی تھی اور اب تازہ اطلاعات کے مطابق احتجاج جاری رکھنے کیساتھ ساتھ اسمبلیوں میں حلف برداری میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ یوں اپوزیشن کی دو بڑی اور مؤثر سیاسی جماعتوں کے واضح مؤقف کے بعد دیگر اپوزیشن جماعتوں کے اسمبلیوں میں اپنے منتخب نمائندوں کو نہ بھیجنے پر اصرار نہ صرف بے معنی ہو جاتا ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ موجودہ سیاسی حالات کے تقاضوں اور برسر زمین حقائق کے سراسر منافی بھی ہے کیونکہ اب ان چھوٹی جماعتوں کی آواز نقارخانے میں توتی کی صدا کے سوا کچھ بھی نہیں ہے جبکہ یہ ملک گزشتہ چار برس سے جس طرح سیاسی افراتفری کا شکار رہا ہے اس نے نہ صرف ملک کو سیاسی طور پر کمزور کر دیا ہے اور سیاسی استحکام بری طرح مجروح ہوا ہے بلکہ انہی حالات کی وجہ سے ملکی معیشت پر انتہائی مضر اثرات مرتب ہونے کی وجہ سے روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں کہیں کم سطح پر آچکی ہے۔ برآمدات میں شدید کمی اور درآمدات میں معتدبہ اضافے نے ملک میں بیروزگاری میں اضافے کا رجحان بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ادائیگیوں کی صورتحال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے اور ماہرین اقتصادیات ومعاشیات جن خدشات کا گزشتہ کئی ماہ سے اظہار کرتے آئے ہیں ان کے سنگین نتائج برآمد ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ان حالات میں ملک کسی نئی افراتفری اور احتجاجی سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا خصوصاً جب ابھی اسمبلیوں کا اجلاس بلایا ہی نہیں گیا اور سیاسی رہنما اہم شہروں کو بند کرنے اور اسمبلیوں کا بائیکاٹ کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔ ہماری نپی تلی رائے یہی ہے کہ جملہ سیاسی قیادت اس صورتحال میں جو بھی فیصلے کریں وہ پارٹی پالیٹکس کی سطح سے اوپر اٹھ کر ملک وقوم کے بہترین مفاد میں ہونے چاہئیں۔ ہوش وخرد کا یہی تقاضا ہے اور اس کیساتھ ہی یہ محترم رہنما اپنی جماعتوں کی پالیسیوں میں موجود کمزوریوں کا جائزہ لیکر ابھی سے ان میں بنیادی تبدیلیاں کرکے نئے عزم کیساتھ عوام کی خدمت پر کمربستہ ہو جائیں۔ عوام سے اپنے رابطوں کو مستحکم کرکے ان کے مسائل حل کرنے کیلئے ایک مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کریں تاکہ آنیوالے سالوں میں یہ اپنی ساکھ کو زیادہ مضبوط بنا سکیں۔ تاہم یہ ذمہ داری صرف پارلیمنٹ میں نسبتاً کم نمائندگی حاصل کرنیوالی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی ہی نہیں ہے بلکہ جیت کا جشن منانے والی تحریک انصاف کے رہنماؤں پر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں سے زیادہ ذمہ داری یوں عائد ہوتی ہے کہ وہ عددی اکثریت کے زعم میں اپوزیشن رہنماؤں اور ان کی جماعتوں کو دیوار سے لگانے کی عمومی پالیسی سے (جو ماضی میں ہماری سیاست کا حصہ رہا ہے) اجتناب برتیں اور انہیں ساتھ لیکر ملکی مسائل کو حل کرنے کی سعی کریں۔ نئے حکمرانوں کو یہ بات ہرگز بھولنی نہیں چاہئے کہ جب تک وہ مخالف سیاسی قوتوں کو اہمیت نہیں دیں گے اور ان سے مشاورت کرنے یعنی اسمبلیوں میں ان کے مؤقف کو کھلے دل سے سننے کا حوصلہ نہیں رکھیں گے تب تک ملک کو درپیش مسائل کا حل تلاش کرنے میں انہیں دشواریوں کا ہی سامنا کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین اور متوقع وزیراعظم عمران خان کو ایسے مشیروں کے غلط مشوروں سے اجتناب کی پالیسی ہی راس آسکتی ہے جو ان کے کان بھرنے اور اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی سوچ رکھتے ہوں کیونکہ مخالف سیاسی قوتیں حکومتی پالیسیوں پر گہری اور تنقیدی نظریں رکھتے ہوئے ظاہر ہے ملکی مفاد کیلئے ہی مشورے دیں گی۔ جن پر پارٹی مفادات سے بلند ہو کر صرف قومی مفاد کے تقاضوں کے تحت ہی فیصلے کرنا مناسب ہوں گے۔ تحریک انصاف قوم کیساتھ جو وعدے کرکے اقتدار میں آئی ہے ان کا بھی تقاضا ہے کہ ان وعدوں پر نہ صرف خلوص نیت کیساتھ عمل کیا جائے بلکہ صرف اقتدار کے نشے میں ان کو طاق نسیاں میں رکھنے کی کوئی بھی پالیسی خود پارٹی مفاد میں نہیں ہوگی۔ عوام کو تحریک انصاف سے بڑی توقعات ہیں اور ان توقعات کو ماضی میں برسر اقتدار رہنے والی مختلف جماعتوں کے وعدوں کی طرز پر بھول جانے اور ذاتی مفادات کی تکمیل کے نتیجے ہی میں کئی سیاسی جماعتیں بھی اپنا وقار کھو کر تاریخ کے کوڑے دان میں پڑی کراہ رہی ہیں۔ اسلئے نئے حکمرانوں کیلئے ماضی کی غلط پالیسیوں کا حشر اپنے سامنے رکھتے ہوئے پھونک پھونک کر قدم اٹھانا پڑے گا بصورت دیگر یہ تو عوام ہیں جو کسی کو اقتدار کے اوج ثریا پر پہنچا سکتے ہیں تو انہیں گمنامی کے اندھیروں میں دھکیلنے میں بھی زیادہ وقت نہیں لگتا۔

متعلقہ خبریں