Daily Mashriq

مالیاتی اداروں سے نجات

مالیاتی اداروں سے نجات

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہونے کے بعد اگلے پانچ برسوں میں پاکستان آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سمیت تمام عالمی مالیاتی اداروں اورحکومتوں سے چھٹکارا حاصل کر لے گا۔ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد عمران خان اپنی عوامی قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا بھر میں موجود پاکستانیوں اور دوستوں سے قرضوں کی ادائیگی کیلئے عطیات دینے کی اپیل کریں گے، عمران خان کے قریبی ذرائع کی جانب سے اس حوالے اشارے سامنے آرہے ہیں کہ آئندہ دوماہ کے اندر حکومتی سیٹ اپ مکمل ہونے کے بعد قوم سے خطاب میں عمران خان ایک فنڈ کا اعلان کریں گے جس کا نام ''قرضوں سے پاک پاکستان'' ہوگا جہاں تک قرضوں سے نجات کا تعلق ہے اگرچہ اپنی انتخابی مہم کے دوران مختلف موقعوں پر اپنی تقاریر میں خود تحریک انصاف کے چیئرمین بھی تسلسل کیساتھ اسی نوعیت کے دعوے کرتے رہے ہیں کہ وہ ملک کو قرضوں سے نجات کیلئے بیرون ملک سے بھاری مقدار میں نہ صرف فنڈز لیکر آئیں گے بلکہ ملک سے لوٹی ہوئی دولت بھی واپس لاکر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔ آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں سے گلو خلاصی کے دعوے بھی ان کی تقاریر کا حصہ رہے ہیں لیکن اب جبکہ ابھی تحریک انصاف کی حکومت قائم بھی نہیں ہوئی اور ممکنہ وزیرخزانہ اسد عمر نے جو پہلے بلند بانگ دعوے کرتے رہے ہیں واضح کر دیا ہے کہ آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج لئے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے، ایسی صورتحال میں اصولی طور پر ''قرضوں سے پاک پاکستان'' فنڈ کے قیام کی سوچ یقیناً ایک مثبت انداز فکر کی نشاندہی تو ضرور کرتی ہے تاہم اس حوالے سے وضاحت ضرور آنی چاہئے کہ آیا اس فنڈ کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانی باشندے امداد کے طور پر عطیات دیں گے یا پھر یہ بھی قرض حسنہ کی کوئی شکل ہوگی؟ اگر تو یہ امداد اور عطیات ہوں گی تو پاکستان کوئی این جی او نہیں ہے جو کسی خاص شعبے میں فلاح وبہبود کیلئے بیرونی ڈونرز کے عطیات کیلئے جھولی پھیلائے اور بفرض محال عطیات آتے بھی ہیں تو آخر ان کی حد کس قدر ہوگی یعنی کیا پردیس میں مقیم پاکستانی ملک پر چڑھے ہوئے کھربوں کے قرضے ادا کرنے پر تیار ہو جائیں گے؟ جو ناممکن سی بات دکھائی دیتی ہے، خصوصاً ایسی صورتحال میںجب ملک کے ماضی کے کئی ادوار کے حکمرانوں نے اربوں ڈالر چوری کر کے بیرونی بنکوں میں ذخیرہ کر رکھے ہیں اور اگر یہ قرض حسنہ ہوگا تو ماضی میں ''قرض اُتارو ملک سنوارو'' جیسے انتہائی مقبول نعروں کے بعد آنیوالے غیر ملکی زرمبادلہ کے فنڈز کا حشر کیا ہوا یہ سوال ضرور ان پاکستانیوں کے پیش نظر ہوگا جنہوں نے پہلے بھی ملکی محبت میں قرضے دیئے مگر ان کو درست طور پر استعمال کرنا تو درکنار ان کا آج تک عوام اور قرض خواہوں کو حساب تک نہیں دیا گیا، اس لئے اس قسم کے نعرے تب بیرون ملک مقیم محب وطن پاکستانیوں کو اپنی جانب متوجہ کر سکیں گے جب ملک سے لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کا بھی کوئی مربوط نظام وضع کر کے اس کو عملی صورت دی جائے۔ اسلئے بہتر ہے کہ بلا کسی تخصیص کے لوٹی ہوئی دولت پہلے واپس لانے کا اہتمام کیا جائے اس کے بعد کسی بھی پاکستانی نژاد کو قرض تو کیا عطیات دینے میں بھی کوئی تامل نہیں ہوگا اور بہتری یہی ہے کہ ہوا میں قلعے تعمیر کرنے کی سوچ تج کر عملی اقدامات پر توجہ دی جائے۔

لوڈ شیڈنگ کیلئے نئے حربے؟

اخبار مشرق کی ایک خبر کے مطابق صوبائی دارالحکومت پشاور کے شہریوں نے مرمت کے نام پر کئی کئی گھنٹوں تک بجلی کی بندش پر احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سلسلہ فوری طور پر ختم کیا جائے عوام کے مطابق ایک جانب لوڈشیڈنگ کے نام پر شہریوں پر عذاب مسلط ہے تو دوسری جانب مرمت کے نام پر کئی کئی گھنٹوں تک بجلی کی بندش معمول بن چکا ہے ۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ مرمت کا جتنا بھی کام ہو وہ سردی کے موسم میں انجام دیا جائے کیونکہ گرمی میں بجلی کی بندش سے لوگوں کا برا حال ہوتا ہے جبکہ رات کے اوقات میں لوڈشیڈنگ سے لوگوں کی نیند حرام ہو جاتی ہے، بچے گرمی سے بلکتے رہتے ہیں اور مرد حضرات گلیوں میں بے چینی سے ٹہلتے رہتے ہیں، امر واقعہ یہ ہے کہ پشاور کے کئی علاقوں میں معمول سے زیادہ لوڈشیڈنگ پر عوام ایک عرصہ سے نوحہ کناں ہیں مگر متعلقہ حکام کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی اور وہ مختلف حیلوں بہانوں سے لوڈشیڈنگ کا جواز ڈھونڈتے رہتے ہیں، اس ضمن میں بہرحال دوسرا رخ مسئلے کا یہ بھی ہے کہ عوام پر پیسکو حکام کی جانب سے کنڈے لگا کر بجلی چوری کے الزامات بھی لگتے رہتے ہیں اور متعلقہ حکام کا یہ مؤقف بھی بار بار سامنے آتا رہا ہے کہ جن علاقوں میں بجلی کی زیادہ چوری ہوتی ہے لوڈشیڈنگ بھی انہی علاقوں میں زیادہ کی جاتی ہے گویا یہ ایک ٹووے ٹریفک ہے جس کا حل ہر صورت تلاش کرنا ضروری ہے، جو بجلی چوروں پر سخت گرفت ہی سے ممکن ہے کیونکہ جو لوگ چوری میں ملوث نہیں ہیں ان کو بجلی چوروں کی وجہ سے سزا دینا بھی ناجائز ہے۔

متعلقہ خبریں