عمران خان، ٹرمپ نہ ٹارزن

30 جولائی 2018

انتخابی کامیابی کے بعد پہلی تقریر میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے جہاں اپنے داخلی اور خارجہ پالیسی کے خدوخال کا سرسری جائزہ پیش کیا وہیں انہوں نے بھارت کو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکرات کی دعوت بھی دی۔ عمران خان نے دونوں ملکوں کے درمیان الزامات کی روایت وسیاست کو ختم کرنے کی بات بھی کی اور بھارت کیساتھ تجارت اور خوشگوار تعلقات کو برصغیر کے خوشحال مستقبل کیلئے ناگزیر بھی قرار دیا۔ انہوںنے کشمیریوں کی مشکلات اور تکالیف اور وہاں فوجی جماؤ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکرکرنے کیساتھ ساتھ بھارت کو مسئلہ کشمیر پر بات چیت کی دعوت بھی دی۔ عمران خان کی دعوت کے جواب میں بھارت کے سرکاری حلقوں میں مکمل خاموشی ہے، شاید بھارتی حکومت اور میڈیا ابھی اس حوالے سے ''دیکھو اور انتظار کرو'' کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ کانگریس سے تعلق رکھنے والے ایک سابق وزیر اور سفارتکار مانی شنکر آئر نے بھارت کو مذاکرات کا آغاز کرنے کا مشور ہ دیا۔ بھارتی میڈیا نے عمران خان کی جو شبیہہ بنانے اور اپنے عوام کو دکھانے کی کوشش کی تھی اسے خود عمران خان نے شکوے کے انداز میں بالی ووڈ کی فلموں کے وولن کے مماثل قرار دیا۔ بھارتی میڈیا یہ تاثر دے رہا تھا کہ عمران خان چونکہ فوج کیساتھ اچھے تعلقات کی شہرت رکھتے ہیں اسلئے ان کا حکومت میں آنا بھارت کیلئے تباہ کن ثابت ہوگا۔ مغربی میڈیا نے گزشتہ دہائیوں میں عمران خان کو ''طالبان خان'' کہہ کر ان کا ایک سخت گیر امیج بنایا تھا۔ اس سخت گیر امیج کیساتھ بھارت اور مغرب کا میڈیا اسلام آباد کی شاہراہ ِ دستور سے ایک اور ''ٹرمپ'' کے ظہور کی امید لگائے بیٹھا تھا۔ یوں بھی قومی سیاست میں عمران خان ایک تندخو اور مخالفین پر تابڑ توڑ حملوں کی شوقین شخصیت کی پہچان رکھتے تھے۔ ان کی پہلی تقریر سے پاکستان کے منتخب ایوانوں سے ایک اور ''ٹرمپ '' کے اُبھرنے کا خدشہ غلط ثابت ہوا اور انہوں نے اندرونی اور بیرونی طاقتوں، ہمسایوں اور دور دیس والوں سب کی جانب ایک شاخ زیتون اچھال کر دنیا کو ورطہ حیرت میں مبتلا کر دیا۔ عمران خان نے داخلی اور خارجہ پالیسیوں کے حوالے سے متوازن مگر مشکل خیالات کا اظہار کیا۔ بھارت کو مذاکرات کی دعوت کیساتھ ہی انہوں نے کشمیری عوام کی قربانیوں اور تکالیف کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ مسئلہ کشمیر کی موجودگی میں بھارت سے تعلقات پاکستان کے ہر حکمران کیلئے تنی ہوئی رسی کا سفر رہا ہے۔ بھارت سے اچھے تعلقات کی خواہش کوئی جرم نہیں۔ یوں بھی جب اقتدار سنبھالنے والے کسی حکمران کو معاشی ترقی کی رکاوٹوں کی بریفنگ ملتی ہے تو پاس پڑوس کے تعلقات کی خرابی فطری طور پر ایک اہم وجہ قرار پاتی ہے۔ اسلئے پاکستان کے ہر حکمران کے دل میں ہمسایہ ملک کیساتھ اچھے تعلقات کی خواہش کی کلی پھوٹتی رہتی ہے مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب مسئلہ کشمیرکو طاق میں رکھ کر موسم، کھیل، ثقافت اور کھانوں پر بات چیت شروع ہو جاتی ہے۔ جب کوئی حکمران کشمیریوں کی قربانیوں اور طویل جدوجہد کو نظرانداز کرکے بھارت سے تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے تو خرابی کا آغاز ہو جاتا ہے۔ عمران خان کی طرف سے بھارت کو مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کا مقبوضہ کشمیر میں وسیع پیمانے پر خیر مقدم کیا گیا۔ میر واعظ مولوی عمر فاروق سے سید علی گیلانی، ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے محبوبہ مفتی تک ہر شخصیت نے بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کو مثبت جواب دینے کا مطالبہ کیا۔ عمران خان کی دعوت مذاکرات کا بھارت ہوش مندی سے جواب دے گا اس کا امکان کم ہی ہے۔ کشمیر میں پھنسا ہوا بھارت اب بھی اٹوٹ انگ سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ اس کے باوجود بھارتی حکمرانوں اور میڈیا کیلئے عمران خان کی دعوت مذاکرات ایک غیر متوقع صورتحال ہے۔ یہ صرف عمران خان کی ہی پاکستان کی سیاسی قوتوں اور ہئیت مقتدرہ کی مشترکہ پیشکش ہے کیونکہ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کئی مواقع پر بھارت کو اچھے تعلقات کیلئے مسئلہ کشمیر کے حل کی دعوت دے چکے ہیں۔ بھارت کا میڈیا ابھی عمران خان کو فوج کے ہاتھوں میں ایک مظلوم سویلین حکمران ثابت کرے گا۔ جوں جوں عمران خان اس تاثر کو جھٹکنے کیلئے کچھ اقدامات اُٹھائیں گے تو اسے ٹارزن بننے کی ہلہ شیری دی جائے گی۔ محمد خان جونیجو سے نوازشریف تک یہ کھیل ہر سویلین حکمران کیساتھ کھیلا جاتا رہا۔ اس حکمت عملی کا ایک ثبوت بھارتی اخبار کی یہ سرخی ہے ''Between Imran and India hangs the shadow of Pakistan army''۔ اول تو ''عمران خان اور بھارت'' کی اصطلاح ہی بے تُکی ہے جبکہ درست اصطلاح پاکستان اور بھارت ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک نہیں دو سائے ہیں اور وہ دونوں طرف کی فوجیں ہیں جو خود کو سٹریٹجک معاملات سے بوجوہ الگ نہیں کر پائیں۔ پاکستان اور کشمیر سمیت کئی اہم سٹریٹجک معاملات میں بھارت کی فوج کا رول بھی کچھ کم نہیں۔ کشمیر پر من موہن مشرف مذاکرات کو سمجھوتے تک نہ پہنچنے دینے والوں میں بھارت کی فوج کا پورا پورا ہاتھ تھا کہ جس نے کشمیر میں اپنی موجودگی اور تعداد کو کم کرنے سے صاف انکارکیا بلکہ حیلوں بہانوں سے فوج کی تعداد بڑھانا شروع کر دی تھی۔ راجیو گاندھی خالصتان تحریک پر ریلیف حاصل کرنے کے بدلے بینظیر بھٹو کیساتھ سیاچن سے فوج کی واپسی کا وعدہ کر گئے تھے۔ اسلام آباد سے دہلی واپس پہنچتے ہی فوج نے اس کمٹمنٹ کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا تھا اور راجیو گاندھی نے بینظیر بھٹو سے اپنی معذوری کا اظہار کرکے کہا تھا کہ فوج نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔ جس سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بڑھتی چلی گئیں اور یوں پاکستان میں جوابی ردعمل کا آغاز ہوگیا۔ توقع تو یہی ہے کہ مغربی اور میڈیا کے کارٹونوں اورطنزیہ مضامین کی بنیاد پر عمران خان ''ٹارزن'' نہیں بنیں گے۔ (باقی صفحہ7)

مزیدخبریں