Daily Mashriq

مضبوط اپوزیشن کی ضرورت

مضبوط اپوزیشن کی ضرورت

انتخابات ہو چکے' کچھ تاخیر سے سہی نتائج بھی آچکے ہیں جس میں پاکستا ن تحریک انصاف نے برتری حاصل کی ہے، صوبائی سطح پر صورتحال یکساں مختلف ہے، کامیاب ہونیوالی جماعتیں جشن منا رہی ہیں جبکہ مسلم لیگ ن سمیت کئی ایک بڑی سیاسی جماعتوں کی طرف سے انتخابی نتائج پر تحفظ کا اظہار کیا گیا ہے۔ 25جولائی انتخابات کے دن مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے انتخابات پر متعدد سوالات اٹھاتے ہوئے انتخابی نتائج کو مسترد کر دیا تھا قومی اسمبلی میں اپوزیشن بنچوں پر بیٹھ کر بھرپور حزب اختلاف کا کردار ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا جبکہ پنجاب میں حکومت بنانے کی کوشش کا بھی اظہار کیا گیا۔پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کی طرف سے جس امر کا اظہار کیا جا رہا ہے یہ عمل جمہوری پراسس کیلئے سودمند ہے اور پاکستان کے موجودہ حالات میں سیاسی جماعتوں کی طرف سے اسی طرح کے فیصلوں کی ضرورت ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت جب سے شہباز شریف نے سنبھالی ہے تب سے صلح جوئی اور اداروں کیساتھ باہمی تعاون کا تاثر ابھر کر سامنے آیا ہے' بعض ناسمجھ دوستوں نے شہباز شریف کے اس اقدام کو میاں نواز شریف کے راستے کے علاوہ راستہ اختیار کرنے سے بھی تشبیہہ دی ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ میاں شہباز شریف اس وقت جو فیصلے کر رہے ہیں اور پارٹی کو جس سمت لے کے جا رہے ہیں اس میں پارٹی کی بھی بقاء ہے اور ملک وقوم کا بھی اسی میں فائدہ ہے۔ماضی میں ہمارا یہ المیہ رہا ہے کہ اقتدار کے حصول کیلئے سیاسی جماعتیں ہر حد سے گزر جاتی تھیں' جس کا خمیازہ ملک وقوم کو بھگتنا پڑا' گزشتہ دورِ حکومت کو ہی لے لیں۔ 2013ء کے انتخابات کے نتیجے میں جب مسلم لیگ ن کی مرکز میںحکومت قائم ہوئی تو روزِ اول سے ہی دھاندلی کا شور اٹھ گیا، پاکستان تحریک انصاف نے اول اول پریس کانفرنس اور میڈیا کے ذریعے اور بعدازاں کھلے عام اور سڑکوں پر مظاہروں کے ذریعے دھاندلی کیخلاف آواز اٹھائی۔ 2014ء میں تو منہاج القرآن کے ڈاکٹر طاہر القادری اور پاکستان تحریک انصاف نے مل کر حکومت کیخلاف تاریخی دھرنے بھی دئیے' جس سے ملکی نظام مفلوج ہو کر رہ گیا تھا اور ایک منتخب حکومت جس نے اپنی آئینی مدت میں عوامی مسائل کو حل کرنا تھا نان ایشوز میں پھنس کر رہ گئی تھی' لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ تمام تر مسائل کے باوجود منتخب جمہوری حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری کی۔ اب جبکہ انتخابات کے بعد ایک بار پھر جمہوری حکومت قائم ہونے جا رہی ہے تو ضروری معلوم ہوتا ہے کہ سیاستدان بالغ نظری کا مظاہرہ کریں اور جمہوریت کو ڈی ریل ہونے سے بچائیں۔پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ انتخابی نتائج پر تمام تر تحفظات کے باوجود انہوں نے کہا ہے کہ وہ پنجاب میں حکومت بنائیں گے۔ مسلم لیگ ن کے اس اقدام پر پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان کا امتحان بھی ہے کیونکہ جب 2013ء میں مسلم لیگ ن کے قائد نے خیبر پختونخوا میں مولانا فضل الرحمان کیساتھ ملکر حکومت بنانے کے آپشن کے باوجود تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کو مشترکہ طور پر حکومت بنانے کی دعوت دی تھی۔ اب پنجاب میں مسلم لیگ ن کے پاس 129نشستیں جبکہ تحریک انصاف کے پاس 123نشستیں ہیں تو کیا عمران خان پاکستان مسلم لیگ ن کو پنجاب میں حکومت بنانے کی دعوت دیں گے؟مسلم لیگ ن کے موجودہ صدر میاں شہباز شریف نے مرکز میں رہ کرحزب اختلاف کا بھرپور کردار ادا کرنے کی بات کی ہے جس کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے تحسین کی جانی چاہئے کیونکہ کسی بھی جمہوری حکومت کیلئے مضبوط اپوزیشن کی ضرورت بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے' مہذب اقوام اور جمہوری معاشروں میں اس کی واضح شکل دیکھی جا سکتی ہے جبکہ ہمارے ہاں ہر دور حکومت میں اس کی شدید کمی محسوس کی جاتی رہی ہے بلکہ اپوزیشن پر فرینڈلی اپوزیشن کے الزامات بھی عائد ہوتے رہے ہیں۔ جب 2008ء کے انتخابات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو مسلم لیگ ن اپوزیشن جماعت تھی۔ اس وقت مسلم لیگ ن پر یہ الزام عائد ہوتا رہا کہ فرینڈلی اپوزیشن ہے۔ 2013 میں مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہوئی تو پیپلز پارٹی اپوزیشن میں تھی جس پر مبینہ طور پر فرینڈلی اپوزیشن کے الزامات عائد ہوتے رہے حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اگر اپوزیشن اپنے اہداف سے روگردانی کرے گی تو حکومت کبھی بھی پرفارمنس نہیں دے پائے گی۔ جمہوری معاشروں میں درحقیقت اپوزیشن کا ہی اصل کردار ہوتا ہے، اپوزیشن بھرپور کردار اور مثبت تنقید سے حکومت سے کام کرواتی ہے۔ پاکستان میں اول تو مضبوط اپوزیشن کا خواب پورا ہی نہیں ہو سکا اور اگر کبھی مضبوط اپوزیشن آئی بھی تو اس کا کردار ملک وقوم کی فلاح کے بجائے حکومت کو گرانے میں رہا۔ جس کا نقصان ملک وقوم کو کبھی جمہوریت ڈی ریل ہونے کی صورت میں اور کبھی معاشی وسیاسی بحران کی صورت میں دیکھنا پڑا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کی قیادت ملکی نامساعد حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے بھرپور اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی تاکہ مثبت تنقید کے ذریعے ملک ترقی کرے۔ خدا نخواستہ اگر ایک بار پھر دھاندلی کے نام پر وہی کھیل شروع ہوگیا جو ماضی میں ہوتا آیا ہے تو ہم 70سال بعد بھی وہیں کھڑے ہوں گے جہاں سے چلے تھے۔

متعلقہ خبریں