Daily Mashriq


مٹھیاں مضبوطی سے بند کر لینی چاہئے

مٹھیاں مضبوطی سے بند کر لینی چاہئے

پاکستان میں جمہوریت پٹڑی پر چڑھی ہے تو دشمن سے برداشت ہو نہیں رہا اور وہ مسلسل اس کو شش میں ہے کہ اس سارے سلسلے کو کسی نہ کسی طرح سبوتاژ کر کے روکا جائے جس کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی ہے اور انتخابات سے پہلے ہی انتخابی جلسوں پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ دشمن سرگرم ہو چکا ہے۔ ہارون بلور، سراج رئیسانی، اکرام اللہ گنڈاپور اور ان کیساتھ ان کے سینکڑوںکارکنوںکی شہادت کئی دیگر کارروائیوں کا حصہ ہیں۔ اس کیساتھ ہی جس دوسری مکروہ مہم کو نہایت زور وشور سے چلایا جا رہا ہے وہ ففتھ جنریشن وار ہے یعنی اپنے ہی عوام کو اپنی ہی فوج کیخلاف لڑاؤ۔ حال ہی میں ہمارے محترم جج شوکت صدیقی نے کھل کر اس جنگ میں حصہ ڈالا، محمود خان اچکزئی جیسے سیاستدان کھل کر فوج کیخلاف اپنا غصہ نکالتے ہیں اور پڑوس کی فوج کی عظمت کے گن گاتے ہیں کہ وہ سیاست میں دخل اندازی نہیں کرتی، تو عرض ہے کہ وہ آپ کے ملک کی سیاست میں، ثقافت میں بلکہ حکومت میں اس قدر دخیل ہے کہ شاید اسی لئے اپنے ملک کی اُسے فرصت نہیں اور شاید اس کے سیاستدان اور حکمران قابو میں ہیں اس لئے فوج اپنے کام سے کام رکھ رہی ہے اور یہ کام وہ دشمن کیخلاف کر رہی ہے اور آپ جانتے ہیں اس کا دشمن آپ کا ملک ہے۔ دشمن تو اپنا کام کر ے گا کیونکہ وہ دشمن ہے لیکن دکھ تو اُس وقت ہوتا ہے جب اُسے اُس کے کارندے یہاں سے مل جاتے ہیں۔ میں اس حق میں نہیں ہوں کہ فوج حکومت سنبھالے، حکومت اہلِ سیاست کا کام ہے اور حفاظت فوج کا اور یہ بھی ذہن میں رہے کہ حفاظت نہ ہو تو نہ سیاست ممکن ہے نہ حکومت اور نہ ریاست۔ جب آپ دشمن کیلئے مال مفت ہوں تو کہاں کی حکومت اور کہاں کا ملک۔ میرا یہ نکتۂ نظر ہر ادارے کے بارے میں ہے کہ اُسے اپنا کام کرنے دیا جائے لیکن ہونا یہ بھی چاہئے کہ مملکت کا ہر ستون ایمانداری کیساتھ ملک کیلئے کام کرے۔ اگر فوج نے اپنے ان جرنیلوں کو نوکریوں سے برخاست کیا جو کسی بھی قسم کی بدعنوانیوں میں ملوث تھے تو ایسا ہی اہلِ سیاست کیوں نہیں کرتے بلکہ اگر عدالتیں انہیں سزا سنا دے تو انہیں ہیرو بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے اور اگلے الیکشن میں اسی جیل کھانے کی بنیاد پر وہ ووٹ مانگتے ہیں اور بسا اوقات لے بھی لیتے ہیں۔ کوچۂ سیاست کا چلن اپنی جگہ لیکن کیا واقعی سیاست میں سب کچھ جائز ہے، آج ایک کل دوسری اور پرسوں تیسری جماعت۔ ہمارے ملک سے نظریاتی سیاست ہی نہیں نظریہ بھی ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اگر ہمارے حکمران ہی ہماری سرحد کو لکیر کہیں تو فوج اُن قربانیوں کو کیسے بھلا دے جو اُس کے بزرگوں نے یہ لکیر کھینچنے کیلئے دی اور اسے قائم رکھنے کیلئے اس کے جوانوں نے اپنا بے تحاشہ خون بہایا لیکن ہمارے ملک میں ہو یہ رہا ہے کہ یہی اپنی فوج بے جا تنقید کی زد میں بُری طرح آتی ہے اور ہمارے عاقبت نااندیش یا صرف اپنے مفاد کی خاطر اور اپنی شہرت کی خاطر بولنے والے، اپنی فوج کیخلاف بول کر پوری عالمی رائے عامہ کو اس کیخلاف کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ڈان لیکس جیسے کئی نیویارک ٹائمز لیکس، کئی بی بی سی لیکس، کئی گارجین لیکس ہوتے رہتے ہیں۔ یہ اخبار اپنی فوج کے بارے میں تو نامعلوم کتنا لکھتے ہیں ہاں ہماری فوج ہمارے لکھاریوں کے ہاتھوں اکثر وہاں موجود ہوتی ہے۔ اگر اچھی رائے کیساتھ ہوتی تو بات تھی لیکن مصیبت تو یہ ہے کہ اگر ہم خود اسے مختلف خطابات دیتے ہیں اور اسے بے توقیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو دوسروں سے کیا توقع رکھیں۔ ہمارے اپنے لوگ ہی اسے ایسا پیش کرتے ہیں جیسے یہ کوئی قابض یا غاصب فوج ہو۔ یہ اپنے اپنے ملکوں کیلئے را، سی آئی اے، این ڈی ایس حتیٰ کہ موساد کی بھی خدمت کی تعریف کریں گے لیکن اپنی آئی ایس آئی انہیں مسلسل کھٹکے گی۔ میں یہ نہیں کہتی کہ فوج حکومت کرے لیکن میرا مطالبہ یہ ضرور ہے کہ حکومت، حکومت کرے خدمت کیلئے، دولت کیلئے نہیں تاکہ فوج اپنا کام کر سکے واپڈا، پولیس یا دوسرے کسی ادارے کو نہ سنبھالے۔ اگر ہمارے سیاستدانوں نے اپنی صلاحیتوں کو ملک کیلئے استعمال کرنا شروع کیا تو ان سے زیادہ باصلاحیت کوئی نہیں۔ آج بھی ہمارے ملک میں کچھ ایسے سیاستدان موجود ہیں جنہوں نے سیاست کی ساکھ کو قائم رکھا ہوا ہے اور وہ ملک کی خاطر سیاست کرتے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ وہ اتنی طاقت نہیں رکھتے کہ حکومت کی ایوانوں تک پہنچ سکیں اور اس کیلئے عوام کی تربیت اور سمجھ بوجھ سے کام لینا بھی ضروری ہے لیکن عوام کے پاس غم روزگار کے بعد اتنی فرصت اور ہمت نہیں ہوتی کہ وہ نظریوں اور منشوروں کے بین السطور کو سمجھ سکیں۔ ضرورت عوام، فوج اور سیاستدانوں میں دور یاں پیدا کرنے کی نہیں بلکہ ہر ایک کا کردار شناخت کر کے اسے تسلیم کرنا ہے۔ تنقید سے بالاتر کوئی نہیں لیکن الزامات وہ لگائے جائیں جن کا ثبوت ہو۔ دلائل اپنی جگہ لیکن فیصلے ثبوتوں کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ کیا اس کیلئے کہ فوج الیکشن پر اثرانداز ہوئی یہ دلیل کافی ہے کہ فوج کو الیکشن ڈیوٹی کے لیے بلایا گیا، کیا ایسا فوج کی درخواست پر ہوا یا اُس نے حکم مانا، اگر حکم مانا تو اُس کی توصیف ہونی چاہئے نہ کہ تنقید۔ اگر وہ دشمن ایجنسیوں کے منصوبے ناکام بنائے تو کیا تعریف اُس کا حق نہیں۔ آئی ایس آئی کا مقابلہ کئی ایک دشمن ایجنسیوں سے ہے اس سی آئی اے سے بھی جو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی دشمن ہے، اُس ''را'' سے بھی جو نظریہ پاکستان کی ہی دشمن ہے، اُس موساد سے بھی جو وجود پاکستان کی دشمن ہے اور منظور پشتین کے چہرے کی ٹی شرٹس بنا رہی ہے اور اُس این ڈی ایس سے بھی جو بھارت کا لے پالک بچہ ہے۔

(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں