Daily Mashriq

نئی حکومت کیلئے چند تجاویز

نئی حکومت کیلئے چند تجاویز

تحریک انصاف کی حکومت قائم ہونے میں بظاہر کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ چند دن کے احتجاج اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے تنقید کے بعد نئی کابینہ اپنے عہدوںکا حلف اٹھالے گی جس کے وزیراعظم عمران خان ہوں گے۔ انتخابات سے پہلے ناقدین کہتے رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے مقدر میں اقتدار نہیں ہے لیکن الیکشن 2018ء میں پاکستان کے عوام نے اس سوچ کے برعکس کرپشن کیخلاف ووٹ دے کر تحریک انصاف کو کامیاب کرایا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ الیکشن 2013ء میں پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ لوڈشیڈنگ تھا، مسلم لیگ ن نے اس مسئلے کی نوعیت اور عوام کے ذہنو ں میں پیدا ہونیوالے سوالات کو بھانپتے ہوئے جب لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا نعرہ لگایا تو پاکستان کے عوام نے اس پر لبیک کہا اور مسلم لیگ ن کو کامیاب کرایا۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے آئینی عرصہ میں اگرچہ ترقیاتی کام بھی کئے لیکن الیکشن 2018ء میں وہ عوام کے ذہنوں کو نہ پڑھ سکے اور ترقیاتی کاموں کے ہی گن گاتے رہے جس کا نتیجہ انتخابات میں شکست کی صورت میں برآمد ہوا۔ اس کے برعکس تحریک انصاف نے عوام کے ذہنوں کو پڑھتے ہوئے کرپشن کا خاتمہ اور معاشی ترقی کا نعرہ لگایا تو اس پر سب سے پہلے اوورسیز پاکستانیوں نے لبیک کہا کیونکہ اوورسیز پاکستانی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ملک سے باہر اور اپنی فیملی سے دور رہ کر ہر ماہ اربوں روپے پاکستان بھیجتے ہیں جبکہ پاکستان کے سیاستدان کرپشن کر کے ان کی محنت مزدوری کی کمائی منی لانڈرنگ کے ذریعہ بیرون ملک اپنے خفیہ اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کر دیتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر وہ پاکستانی جو سالوں سے پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو اقتدار میں دیکھ رہے ہیں اور ملک کی پسماندگی کا ذمہ دار انہی دو پارٹیوں کو سمجھتے ہیں ایسے لوگوں میں بڑی تعداد پڑھے لکھے اور نوجوانوں کی ہے جن کا نظریہ ہے کہ عمران خان کو ایک موقع ضرور ملنا چاہئے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان ان لوگوں کی توقعات پر پورا اُتر سکیں گے؟ کیا عمران خان اور ان کی ٹیم پاکستان میں جاری بحرانوں پر قابو پا لیں گے؟ اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ملک قرضوں کی دلدل میں ڈوبا ہوا ہے۔ اداروں میں کرپشن کا کلچر فروغ پا چکا ہے۔ کئی ایک قومی ادارے دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں' ملکی بینکوں نے مزید قرض دینے سے انکار کر دیا ہے' ملک کے نفع بخش شعبے گروی رکھ دئیے گئے ہیں' ان حالات میں عمران خان اور ان کی ٹیم کیلئے ڈیلیور کرنا صحیح معنوں میں ان کا امتحان ہوگا۔ دوسری طرف سیاسی صورتحال یہ ہے کہ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے انتخابی نتائج پر اپنے تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔ اس بار عمران خان کے مدمقابل مولانا فضل الرحمان ہیں جنہوں نے اس امر کا اظہار کر دیا ہے کہ وہ حکومت کو چلنے نہیں دیں گے۔ اگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے واقعی ایسی مشکلات کھڑی کی گئیں، عمران خان کو کام نہ کرنے دیا گیا اور عمران خان کو جان بوجھ کر ناکام بنانے کی کوشش کی گئی تو پاکستان تحریک انصاف کیلئے ڈیلیور کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا لیکن حوصلہ افزاء بات یہ ہے کہ عمران خان نے زمام اقتدار سنبھالنے سے قبل ہی اس بات کا کھل کر اظہار کر دیا ہے کہ وہ شاہی اخراجات کو کنٹرول کر کے سادگی کو فروغ دیں گے' عمران خان کا پلس پوائنٹ یہ ہے کہ پاکستان کے لوگ عمران خان کی ذات پر اعتبار کرتے ہیں' ایسے میں وہ لوگ جو یہ سوچ کر ٹیکس نہیں ادا کرتے تھے کہ کرپٹ حکمرانوںکو وہ ٹیکس کی رقم کیوں دیں وہ لوگ بخوبی ٹیکس ادا کریں گے' یوں ٹیکس کی مد میں بہت سا پیسہ اکٹھا ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے، اس کیساتھ ساتھ بیرونی دنیا بھی عمران خان پر اعتبار کرتی ہے۔ اس تناظر میں بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے کی دعوت دی جا سکتی ہے اور عالمی منڈیوں میں پاکستان کا مال پہنچا کر زرِمبادلہ کمایا جا سکتا ہے' کیونکہ پاکستان کی متعدد ایسی پرا ڈکٹس ہیں جن پر تھوڑا سا دھیان دینے سے عالمی دنیا کی توجہ حاصل کی جا سکتی ہے۔ جیسے دنیا کا بہترین کینو' آم اور چاول پاکستان میں پیدا ہوتا ہے۔ اس کی برآمد کو یقینی بنا کر کثیر زرِمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔عمران خان کو یقیناً اس بات کا اندازہ ہوگا کہ پاکستان کے لوگ بہت جذباتی ہیں یہ جسے کامیاب کراتے ہیں اس سے توقعات بھی رکھتے ہیں اور مایوس بھی بہت جلد ہوتے ہیں، ممکن ہے اقتدار کے چھ ماہ یا سال گزرنے کے بعد عوام سوال اُٹھا دیں کہ تحریک انصاف کی پرفارمنس تسلی بخش نہیں ہے۔ اس تناظر میں عوام کو اعتماد میں لینے کیلئے اور بحرانوں سے نمٹنے کیلئے ٹھوس لائحہ عمل کی ضرورت ہوگی جس کیلئے اسی مضبوط اعصاب کی ضرورت ہوگی جس کا مظاہرہ عمران خان نے اپنی 22سالہ سیاسی جدوجہد میں کیا ہے۔ ہم نے نیک نیتی کیساتھ چند تجاویز لکھ دی ہیں تاکہ پاکستان میں جمہوری تسلسل قائم رہے اور ہم جمہوریت کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔

متعلقہ خبریں