Daily Mashriq

خیرات بھی سخی سے نہ ملتی فقیر کو

خیرات بھی سخی سے نہ ملتی فقیر کو

بھوکے بٹیر جب لڑنے پہ آتے ہیں تو مرنے مارنے کی حدود پار کر جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بٹیرباز جب بھاری بھر کم شرطیں لگا کر ان کو آپس میں لڑاتے ہیں تو ان کو کھانے پینے کو کچھ نہیں دیتے۔ مبادا وہ بھگیلا یا سر پر پاؤں رکھ کر بھاگنے والا بٹیرا بن جاتا ہے اور بٹیرباز کو بٹیرے لڑاتے وقت لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔ بصورت دیگر ایک اچھا بٹیرباز اپنے بٹیرے کو اپنے لئے اچھا اور سودمند بنانے کی غرض سے اسے دیسی گھی کی چوریاں کھلاتا ہے، اس کے ناز ونعم اٹھاتا ہے، اس کے خلتے کو موتیوں اور کچکڑوں سے سجاتا ہے اور کھلا پلا کر موٹا کرنے کی بجائے اس سے اتنی ورزش یا کسرت کرواتا ہے کہ 'رہے نام باقی فجے پہلوان کا'۔ صبح سویرے منہ اندھیرے جب تیتر اپنی کان پھاڑ آواز میں ''سبحان تیری قدرت'' کا ورد کرتا ہے تو اللہ کے نیک بندے پکار اٹھتے ہیں کہ سنئے اور اپنے سروں کو دھنئے یہ صبح سویرے منہ اندھیرے سبحان تیری قدرت کا نغمہ الاپ رہا ہے۔ نہیں بے نہیں۔ ہاتھ میں پکڑے بٹیرے کو ورزش کروانے والے نے اللہ کے نیک بندے کی بات سن کر کہا کہ کبک یا تیتر سبحان تیری قدرت نہیں کہہ رہا۔ یہ کہہ رہا ہے کہ ''کھا گھی اور کر کسرت''۔ یعنی گھی کھا کر ایک لڑنے والے بٹیرے کی طرح خوب ورزش کر تاکہ تو مرد میدان بن جائے۔ مرد میدان سے یاد آیا کہ بٹیرباز اپنے بٹیر کو لڑنے مرنے کیلئے تیار کرتے وقت اسے شیر شیر جوان یا شیرا بھی کہہ کر پکارتے ہیں حالانکہ نہ اس کی شیروں جیسی شکل وشبہات ہوتی ہے نہ وہ نون لیگ سے تعلق رکھتا ہے۔ شیرا وے بٹیرا وے۔ تیرا وے نہ میرا وے۔ ویسے بٹیرباز لوگ اپنے بٹیر کے متعلق اس قسم کے مقفیٰ یا مطنزہ جملے اس وقت ادا کرتے ہیں جب ان کو اس بات کا علم ہو جاتا ہے کہ ان کا بٹیرا اصلی کی بجائے فصلی یا طوطا چشم بٹیرا ثابت ہوا ہے۔ وہ ایسے بٹیرے کی تکا بوٹیاں کر کے اس کی ننھی سی جان کو کاٹ کھانے پر اتر آتے ہیں۔ شیرا وے بٹیرا وے۔ ادھا تیرا وے ادھا میرا وے۔ لڑتے یا لڑنے اور آپس میں لڑ لڑ کر مرنے کیلئے صرف بٹیرے ہی تیار نہیں کئے جاتے۔ کتے باز، کتوں کو اور مرغ باز مرغوں کو آپس میں لڑانے کیلئے پالتے پوستے اور ان کی خاطر مدارت کرتے ہیں اور لڑائی کے میدان میں ان کو لڑتا جھگڑتا دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں۔ شائد اسلئے کہ اس طرح ان کے نام کیساتھ ''باز'' کا دم چھلا لگ جاتا ہے۔ مرغ باز تو اپنا یہ شوق پورا کرنے کیلئے مرغ کو مرغ بننا تو دور کی بات اس کے چوزہ بننے یا اس دنیا میں آنکھیں کھولنے سے پہلے ہی لڑانا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو آپ کسی میلے ٹھیلے میں جا کر انڈے لڑانے کا نظارہ کر سکتے ہیں۔ ہمارے سیاستدان اپنے پارٹی ورکروں کو اپنے مدمقابل سیاستدانوں کے چمچوں سے لڑانے کیلئے پہلے پہل ان کو گالم گلوچ اور دشنام طرازی سکھاتے ہیں، ان کو سبزباغ دکھانے کی بجائے بھرے پرے جلسے میں پوچھتے ہیں کیا تم ہمارے لئے لڑو گے؟؟ جس کے جواب میں ٹھاٹھیں مارتی جلسہ گاہ کے بھوکے بٹیرے ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر سب کچھ کر جانے کی حدیں پار کر جاتے ہیں۔ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید طاقت کے سرچشموں کو آپس میں گتھم گتھا ہوتا دیکھنے کیلئے لاکھوں چاہنے والوں کے ٹھاٹھیں مارتے جلسے میں کوٹ اُتار کر پھینک دیتے تھے اور یوں ان کا کوٹ 'تن میرا پرزے پرزے جے درزی دیاں لیراں ہو'۔ ویسے کسی کو کسی سے لڑوانا بری بات نہیں، اگر بری بات ہوتی تو شاعر مشرق کبھی نہ کہتے کہ

اٹھا پردہ ساقیا اس راز سے

لڑا دے ممولے کو شہباز سے

لگتا ہے یہ دنیا لڑنے جھگڑنے کیلئے وجود میں آئی ہے۔ کچھ لڑنے جھگڑنے والے جینے کیلئے لڑتے ہیں اور کچھ لڑنے جھگڑنے کیلئے جیتے ہیں۔ یہ بات سوچ کر ہمیں دو بلیاں یاد آگئیں جو پنیر کے ایک ٹکڑے کیلئے آپس میں لڑ لڑ کر ہلکان ہو رہی تھیں۔ ان کی اس خوفناک لڑائی کا منظر جب کسی بندر نے دیکھا تو اس نے آرڈر آرڈر کہہ کر دونوں کی لڑائی ختم کرا دی اور ان دونوں کے درمیان صلح صفائی کرنے کے ارادے سے بندر بانٹ شروع کر دی۔ ہم نے آخری بار بندر بانٹ کا یہ لفظ، ریڈیو پاکستان پشاور کے لیجنڈری اکبر خان کی زبانی سنا۔ صرف وہ ہی نہیں درجن بھر کتابوں کے مصنف حنیف گل مستانہ بھی ان کا ساتھ دیتے ہوئے بتا رہے تھے کہ کلچر ڈیپارٹمنٹ کے ارباب بست وکشاد نے بندر بانٹ کرتے ہوئے مستحق فنکاروں کا حق مارنے کی جو سازش کی ہے ہم نے اس کیخلاف عدالت سے حکم امتناعی حاصل کر لیا ہے اور یوں کلچر ڈیپارٹمنٹ والوں کی بندر بانٹ روک دی گئی ہے۔ واہ ڑے۔ کس نہج پر چل نکلے ہیں ثقافت کے زندہ امین۔

رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھئے تھمے

نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

اب دیکھنا یہ ہے کہ فنکاروں اور قلم کاروں کی اس لڑائی میں کس کو کتنا فائدہ پہنچتا ہے اور کون کتنے نقصان میں رہتا ہے اور ان بے ضرر اور حساس لوگوں کو بھوکے بٹیرے بنانے والوں کے ہاتھ کیا آتا ہے۔ سینئر براڈکاسٹر اکبر خان نے کلچر ڈیپارٹمنٹ والوں کے اس روئیے کو بندر بانٹ کا نام دیا ہے جبکہ راقم السطور اسے اندھے کی ریوڑھیاں قرار دے چکا ہے جو ثقافت کا زندہ امین سے مردہ امین ہونے تک اس کی جھولی میں بھی ڈالی گئی تھیں۔

وعدہ معاوضے کا نہ کرتا اگر خدا

خیرات بھی سخی سے نہ ملتی فقیر کو

متعلقہ خبریں