Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

باغیوں نے سیدنا عثمان کا محاصرہ کرلیا ، ان پر ہر چیز کی پابندی لگادی ۔ اس محاصرے کے آخری دن جب آپ شہید کر دیئے گئے ، اسی روز آپ صبح بیدار ہوئے تو آپ نے بتادیا کہ سبائی لوگ مجھے شہید کردیں گے ۔

پھر فرمایا : میں نے نبی اکرمۖ کو خواب میں دیکھا ۔ آپۖ کے ساتھ سیدنا ابوبکر اور سیدنافاروق بھی تھے ۔ نبی اکرمۖ نے فرمایا:

''اے عثمان ! آج ہمارے ہاں افطار کرنا''۔

اس روز سیدنا عثمان غنی کا روزہ تھا ۔

(سیرت عثمان ذوالنورین ، ازڈاکٹر محمد الصلابی ، ص:729)

سیدنا ابوبکر فتح شام کے بارے میں سوچ بچار کرتے تھے ۔ اسی اثنا میں مرتدین کے خلاف جنگ میں شریک ایک کمانڈر سیدنا شرجیل بن حسنہ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : '' خلیفة المسلمین ! کیا آپ کے دل میں شام کی طرف لشکر روانہ کرنے کا کوئی ارادہ ہے ؟ ''

آپ نے فرمایا: ''ہاں ! میرے دل میں یہ ارادہ موجود ہے ، لیکن میں نے اس بارے میں کبھی کسی کو کچھ نہیں بتایا ، البتہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس بارے میں ضرور کسی خاص وجہ سے سوال کر رہے ہیں ''۔

انہوں نے عرض کیا:'' جی ہاں ، خلیفة الرسول ۖ! میں نے خواب دیکھا ہے کہ لوگ آپ کی قیادت میں شام کی طرف لشکر کررہے ہیں ''۔

سیدنا ابو بکر نے فرمایا : ''تمہارا آنکھیں پرسکون رہیں ، تم نے بہت اچھا خواب دیکھا ہے اور یہ بہت بہتر ہوگا ان شاء اللہ ''۔

(تاریخ مشق لابن عساکر،62,61)

شیخ اسماعیل فرغانی فرماتے ہیں کہ مجھے ایک عرصہ سے اسم اعظم سیکھنے کی تمنا تھی ۔ ایک روز میں دمشق کی جامع مسجد میںبیٹھا تھا کہ دو آدمی مسجد میں داخل ہوئے اور میرے قریب کھڑے ہو گئے ۔ مجھے ان کو دیکھ کر خیال ہوا کہ یہ حق تعالیٰ کے فرشتے معلوم ہوتے ہیں ، ان میں ایک نے دوسرے سے پوچھا کیا تو اسم اعظم سیکھناچاہتا ہے ؟

اس نے کہاں ہاں ، بتادیجئے۔ میں ان کی یہ گفتگو سن کر توجہ اور غور کرنے لگا ، کیونکہ مجھے اسم اعظم سیکھنے کا بہت شوق تھا ۔ کئی کئی دن فاقے کرتا ، حتیٰ کہ فاقوں کی وجہ سے بے ہوش ہو کر گر جاتا ۔ بہر حال ان دونوں کی گفتگو پر میں نے پوری توجہ دی۔ اس نے اپنے دوسرے ساتھی کوکہا کہ اسم اعظم لفظ اللہ ہے ، بشرطیکہ وہ مبارک صدق لجا سے ہو ۔ شیخ اسماعیل فرماتے ہیں کہ صدق لجا کا مطلب یہ ہے کہ اسم اعظم کہنے والے کی حالت اس وقت ایسی ہو کہ جیسا کہ کوئی شخص دریا میں غرق ہو رہا ہو اور کوئی بھی اس کا بچانے والا نہ ہو تو ایسے وقت میں جس خلوص سے نام لیا جائے گا ، وہ حالت مراد ہے ۔

اسم اعظم معلوم کرنے کے لیے بڑی اہلیت اور بڑے ضبط و تحمل کی ضرورت ہے ۔ ٭

متعلقہ خبریں