Daily Mashriq

غیر قانونی گیسٹ ہائوسز کیخلاف سخت کارروائی کی ضرورت

غیر قانونی گیسٹ ہائوسز کیخلاف سخت کارروائی کی ضرورت

حیات آباد کے رہائشیوں کی جانب سے شہری ادارے کے متعلقہ حکام اور سپرنٹنڈنٹ پولیس حیات آباد کو دی جانیوالی درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ حیات آباد کے مختلف مقامات پر گھروں میں کھولے گئے گیسٹ ہائوسزسے نہ صرف سیکورٹی کا خدشہ پیدا ہورہا ہے بلکہ مقامی آبادی بھی گیسٹ ہائوسز کا رخ کرنیوالوں کے باعث عدم تحفظ کا شکارہے شہریوں نے حیات آباد کے رہائشی علاقہ میں جاری کاروباری سرگرمیوں کو فی الفور بند کرنے اور غیر قانونی طور پر کھولے گئے گیسٹ ہائوسز کیخلاف بھی بلا امتیاز کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ امر واقع یہ ہے کہ پی ڈی اے ،پولیس اور ایکسائز کے حکام کی چشم پوشی کے باعث حیات آباد یونیورسٹی ٹائون اور شہر کے دیگر رہائشی علاقوں میں جگہ جگہ غیر قانونی گیسٹ ہائوسز کے کھل جانے کی شکایات میں اضافہ ہورہا ہے۔شہری رہائشی علاقوں میں صرف گیسٹ ہائوسز ہی قائم نہیں بلکہ سکول،کالج، یونیورسٹیاں ،ہسپتال، این جی اوز دیگر اداروں کے دفاتر، بیوٹی پارلرز اور کئی دیگر قسم کے تجارتی مقاصد کیلئے رہائشی آبادی کا استعمال بھی ہورہا ہے متعلقہ حکام اس سے بالکل لاعلم نہیں اور اگر لاعلم ہوں بھی تو بھی عوام شکایت کی صورت میں وقتاً فوقتاً ان سے رجوع کرتے ہیں مگر اس کے باوجود ٹھوس کارروائی نہیں ہوتی جہاں تک حیات آباد کے رہائشیوں کی شکایات پر کارروائی کا معاملہ ہے بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ غیر قانونی گیسٹ ہائوسز اور ہاسٹلز مالکان کی پی ڈی اے حکام سے ملی بھگت ہے ممکن ہے بہت بڑے پیمانے پر ایسا ہو بھی نہیں عام طور پر ان شکایات پر کارروائی نظر آتی ہے ایسا لگتا ہے کہ اس ضمن میں قوانین میں کچھ ایسے اسقام ہیں جس کے باعث حکام فوری کارروائی نہیں کرپاتے بعض جگہ دیکھا گیا ہے کہ پی ڈی اے کے متعلقہ حکام آکر غیر قانونی ہاسٹل سیل کر جاتے ہیں مگر دیوار اور دروازے پر سیڑھی لگا کر سیل توڑے بغیر ہاسٹلز میں آمدورفت جاری رہتی ہے البتہ گیسٹ ہائوسز میں ایسا ممکن نہیں تاہم گیسٹ ہائوسز کم ہی سیل کئے جاتے ہیں یونیورسٹی ٹائون اور دیگر پوش علاقوں میں چلنے والے گیسٹ ہائوسز کے خلاف سخت کارروائی کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے حالانکہ اس ضمن میں عدالت کے بھی سخت احکامات موجود ہیں جس کی پیروی اور کارروائی میں سنجیدگی نظر نہیں آتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی عمارتوں کے بجلی،گیس اور پانی کے کنکشنز منقطع کرنے کی ضرورت ہے جس بھی عمارت کو سیل کیا جائے اس کے پانی کا کنکشن متعلقہ محکمہ کے پاس ہی ہوتا ہے اس لئے عمارت سیل کرنے کے ساتھ ساتھ پی ڈی اے اور بلدیہ کا عملہ پانی کا کنکشن بھی منقطع کرے تو مئوثر ہوگا غیر قانونی گیسٹ ہائوسز اور ہاسٹلز سے علاقہ مکینوں کو تحفظات اور مشکلات اپنی جگہ ان کے قیام کی گنجائش نہ ہونے کے باوجود ان کا برسوں سے قائم رہنا حکومتی عملداری اور قوانین پر عملدرآمد بارے بھی سوالیہ نشان ہے،غیر قانونی گیسٹ ہائوسز کی مختلف اقسام ہوتی ہیں بعض گیسٹ ہائوسز واقعی گیسٹ ہائوسز ہوتے ہیں جہاں ضرورتمند اور مسافر آکر رات گزار جاتے ہیں یا پھر چند چند رہ جاتے ہیں لیکن بعض گیسٹ ہائوسز نام کے ہوتے ہیں جن کو گیسٹ ہائوسز کی بجائے قحبہ خانے قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا پوش علاقوں میں کئی قسم کے گیسٹ ہائوسز ہوتے ہیں جہاں مساج سے لیکر فاعل ومفعول کی فراہمی تک ہوتی ہے اہل علاقہ کو اس کی بھنک ہی نہیں ہوتی علاقہ پولیس بھی اس سے پوری طرح باخبر ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود کا رروائی نہیں کرتی بعض اوقات تو بار بار کی شکایات اور اعلیٰ ترین سطح پر رجوع بھی مئوثر نہیں ہوتا ۔ ایک اور صورت یہ بھی دیکھی گئی ہے کہ پوش علاقے میں گھر کرایہ پر لیا جاتا ہے اور کوئی مستقل رہائش نہیں رکھتا بلکہ خفیہ واعلانیہ آمدورفت دیکھی جاتی ہے اس طرح کے مکان جرائم پیشہ افراد اور دہشت گردوں کے بھی ٹھکانے ہوتے ہیں جس کی حال ہی میں مثال پولیس کے سامنے ہے لیکن افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ اس واقعے کے باوجود پولیس نے اس نوعیت کے ممکنہ ٹھکانوں کا سراغ لگانے اور ان کے خلاف کارروائی گوارا نہ کی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک جانب جہاں قانون کرایہ داری ایکٹ کا ایسا غلط استعمال سامنے آیا کہ خود حکومت کیلئے باعث ندامت بن گیا دوسری جانب حقیقی مشکوک عناصر کے خلاف کارروائی سے احتراز کی درجنوں مثالیں موجود ہیں بار بار کی شکایات سامنے آنے اور مختلف قسم کے واقعات سے واسطہ پڑنے کے بعد اب نہ صرف رہائشی علاقوں سے غیر قانونی گیسٹ ہائوسز ہاسٹلز اور تجارتی مقاصد کیلئے رہائشی عمارتوں کے استعمال کی روک تھام ہونی چاہئے بلکہ اس صورتحال کے تدارک کیلئے حکومت کو قانون سازی کر کے سخت قوانین لانے کی بھی ضرورت ہے جس پر عملدرآمد مئوثر بنانے کیلئے کوئی اتھارٹی بھی بنائی جائے۔

متعلقہ خبریں