Daily Mashriq

سیاسی معاملات سڑکوں پر طے نہ کئے جائیں

سیاسی معاملات سڑکوں پر طے نہ کئے جائیں

ایک جمہوری ملک میں جلسے جلوسوں ملین مارچ اور قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کی مخالفت نہیں کی جاسکتی ہمارے ملک میں سیاسی و جمہوری استحکام کی جو ابتداء ہوئی تھی اورتین جمہوری حکومتیں مدت اقتدار مکمل کر کے ملک میں سیاسی استحکام کی نوید دے گئیں گو کہ کچھ نادیدہ قسم کی سرگرمیوں کے باعث مسلم لیگ(ن) کی مدت اقتدار کاآخری سال مثالی نہ رہا لیکن چونکہ معاملات عدالت واحتساب کے تھے اس لئے ان کی مدت اقتدار کا دورانیہ نا مکمل نہ رہا۔ موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد ملک میں سیاسی عدم استحکام اور معاشی عدم استحکام کا ایک مرتبہ پھر تاثر بڑھنے لگا ہے جس کی ایک بڑی وجہ حزب اختلاف کی طرف سے حکومتی مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرنے کا ہے۔اس کی ابتداء گزشتہ حکومت سے ہوئی تھی اب اس میں شدت آنے لگی ہے جہاں تک ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کا سوال ہے تحفظات کے باوجود اب تک ان جماعتوں سے دوچار کرنے اور نظام کو خطرے میں ڈالنے کے موقف سے احتراز ہی نظر آتا ہے سوائے جے یو آئی کے جوروز اول سے اس حکومت کے خاتمے کی بات کرتی رہی ہے۔ بعض عناصر کے مطابق یہ لطیفہ نما بات کی جاتی ہے کہ یہ واحد دورحکومت ہے جس میں حزب اختلاف اسمبلیوں کا تحفظ چاہتی ہے مگر حزب اقتدار کو دلچسپی نہیں ہم سمجھتے ہیں کہ اس لطیفے سے قطع نظر حکومت کو سنجیدگی کے ساتھ اس امر کا جائزہ لینا چاہئے کہ عدم استحکام کی اس صورتحال میں حکومتی فیصلوں موقف اور حکمران جماعت کی سیاست اور اسمبلیوں میں کردار کا حصہ کس حد تک ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ جانے انجانے میں اس قسم کی صورتحال سے نمٹنے کی بجائے خود ایسی سیاسی غلطیوں کا ارتکاب ہورہا ہے جس کے تناظر میں حکومت پر اسمبلیوں کی بقاء سے عدم دلچسپی کا گمان گزرنے لگتا ہے۔حکومتی اور حکمران جماعت کو ایسے عمل سے ارتکاب کرنے اور حالات کو اس طرح سے معمول پر لانے کی ضرورت ہے کہ حزب اختلاف کو سخت ردعمل کا اظہار کرنے کا موقع نہ ملے جہاں تک جے یو آئی(ف) کا تعلق ہے اس کی اعلیٰ قیادت اسمبلیوں سے باہر ہونے کی بناء اس کی حکومت کی شدید مخالفت کی گنجائش ہے لیکن چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی واپسی کیلئے حکومتی اراکین کا ان کے گھر جا کر خود کو تسلیم کرانے میں ناکامی اور ان کو عملی طور پر تسلیم کئے جانے کا جو واقعہ ہوا ہے اس سے حکومت کی کمزوری کا اظہار ہوتا ہے اس طرح کا رابطہ بالواسطہ بھی ہوسکتا تھا جو زیادہ مناسب تھا۔ چیئر مین سینٹ کے خلاف حزب اختلاف کی تحریک اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں حکومت کیلئے مشکلات میں اضافہ ہوگا اور اسے نئے چیلنجوں کاسامنا کرنا پڑے گا اگر چیئر مین سینیٹ کیلئے حکمران جماعت کے تمام اختلافات اور جے یو آئی کی قیادت کیلئے شدید ترجذبات کو بھی پس پشت رکھ کر ان سے براہ راست رابطہ کیا جا سکتا ہے تو سیاسی مذاکرات میں کیا حرج ہے۔اس وقت ملکی حالات کسی طور احتجاج اور دھرنے کے نہیں بہتر ہوگا کہ سیاسی معاملات کا فیصلہ دھرنوں اور سڑکوں پر کرنے کی بجائے مذاکرات اور معاملت کے ذریعے انہیں حل کیا جائے جو سیاسی جماعتوں ہی کیلئے نہیں ملک وقوم کیلئے بھی بہتر ہوگا۔

وزیراعلیٰ کا احسن ا قدام

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نوشہرہ میں تزئین و آرائش پر 10کروڑ روپے خرچ سے متعلق تحقیقات کا حکم دے دیا ہے صوبائی انسپکشن ٹیم کو ایک ماہ کے اندر تحقیقاتی رپورٹ مرتب کرنے کی ہدایت نہ صرف اس مخصوص مقدمے ہی کی حد تک موزوں اقدام ہے بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کو نظیر بنا کر دیگر اس قسم کے واقعات کی بھی تحقیقات ہونی چاہئے۔ہمارے جامعات میں فیسوں میںاضافہ اس فیصلے کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ اخراجات پورے نہیں ہوتے حکومت گرانٹ بھی دیتی ہے اس کے باوجود جامعات کے اخراجات پورے نہیں ہوتے اس کی وجہ شاید اس قسم کی شاہ خرچیاں اور بدعنوانی کے مظاہر ہیں جو اس کا بنیادی سبب ہیں صرف جامعات ہی میں نہیں دیگر سرکاری اداروں میں بھی صورتحال مختلف نہیں اس قسم کے واقعات کا نوٹس لینے اور سامنے آنے والے چھوٹے بڑے مشتبہ واقعات کی پوری تحقیقات کرانے کا ایک سلسلہ شروع کیا جائے اور یہ تاثر دیا جائے کہ معمولی سے معمولی رقم ضیاع، اسراف اور غلط استعمال نا قابل برداشت ہے اور اس کا حساب دینا پڑے گا۔ بد عنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کوکسی چھوٹے بڑے پیمانے پر نہیں ماپا جائے بلکہ بدعنوانی کو بدعنوانی قرار دے کر اس کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کو سزا دینے کی سخت روایت قائم کرنے کی ضرورت ہے جب اس امر کا یقین ہو کہ ہر قیمت پر تحقیقات اور پوچھ گچھ ہونی ہے اور سزا ملتی ہے تب بد عنوانی میں کمی آئے گی۔توقع کی جانی چاہئے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا صوبے کے مختلف محکموں اور اداروں میں ہونے والی اس قسم کی بے قاعدگیوں اور بد عنوانی کے واقعات کی روک تھام کیلئے اور ہونے والے واقعات کی تحقیقات کے بعد ذمہ دار عناصر کیخلاف سخت کارروائی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے ۔

متعلقہ خبریں