Daily Mashriq

تحریک انصاف اورقبائل دونوں کو جیت مبارک

تحریک انصاف اورقبائل دونوں کو جیت مبارک

ایک بادشاہ نے اپنی رعایا سے کہا کہ اسے کوئی ایسی بات بتائی جائے جسے سن کر وہ خوش بھی ہو اورغمگین بھی، پتہ نہیں اس کی رعایا نے اسے کیا کہہ کر مطمئن کیا لیکن میرے کالم کے حوالے سے ہمارے مہربانوں نے کچھ عرصے سے ہمارے ساتھ کچھ ایسا رویہ اپنایا ہوا ہے کہ سمجھ نہیں آتی کہ اس پر ہنسیں یا روئیں، ان کی میرے کالم میں انتہا درجے کی دلچسپی سے دل خوش بھی ہوتا ہے کہ چلو کوئی اسے پڑھتا بھی ہے اوراس پرجواب بھی طلب کرتا ہے لیکن ساتھ ہی جب وہ اسے پڑھے بغیر نازیبا الفاظ کے ساتھ سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں تو رنج ہوتا ہے میں سوچتا ہوں کہ کاش وہ اسے پڑھ کرردعمل دیتے تو کتنا اچھا ہوتا۔ نہ وہ میری نیت سے واقف نہ ہی تحریر کو پڑھ کر اسے سمجھے ہیں لیکن پھر بھی گالیاں دے رہے ہوتے ہیں۔ اب میں اپنے ان قارئین یا تحریک انصاف کے حمایتیوں کویہ کیسے سمجھائوں کہ جب ہم تحریک انصاف کے بارے میں بات کرکے اس کا موازنہ کسی سے کرتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ہم اس کے خلاف ہیں بلکہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ چونکہ یہ جماعت اب حکومت میں ہے تو ہم اس کے بارے میں بات کرینگے یہ ہمارا وہ کام ہے جس کے لئے ہم نے جان اورعزت دونوں ہتھیلی پررکھ کر یہ میدان چُنا ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہوتا کہ ہم تنقید بھی کسی مقصد یا تقاضے کے لئے کرینگے ہم جب یہ کام کررہے ہیں تو ہم اپنے لوگوں اورضمیر کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں کہ جب ہم زندہ ہیں اوریہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں توپھرکچھ تو لکھیں گے ۔ ایک بات تو بڑی واضح ہے کہ یہ کام ہماری پیٹ پوجا کا ذریعہ کبھی نہیں رہا ہے بلکہ جس طرح ہمارے لئے سانس لینا ضروری ہے اسی طرح ہمارے لئے یہ کام کرنا ضروری ہے انہیں شاید تب اس بات کی سمجھ آئے گی جب ملک اورصوبے میں ان کی حکومت ختم ہوگی اورعوام کسی اورکومنتخب کرینگے اس وقت ہمارا رخِ احتساب ان سے نئی جماعت کی جانب مڑ جائے گا پھر یہ ہمیں کہیں گے بھی تووقت اورحالات بدلنے کی بدولت ہم ان کے بارے میں اتنا کچھ نہیں لکھیں گے اورپھراس وقت کے حکمران ہماری تنقید کی زد پرہونگے پھر اس وقت تحریک انصاف کے حق میں اس تنقید کا شایداتنا ہی حصہ آئے جتنا آج کل اس صوبے کے سابق حکمرانوں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن، جمعیت علما اسلام، جماعت اسلامی اوراے این پی کے حصے میں آرہا ہے۔ تحریک انصاف جب حکمران نہیں رہے گی اوراس وقت اس میں موجود بہت سارے لوگ پارٹیاں بدل کرنئی حکمران جماعت کا حصہ ہونگے ہم تب بھی یہی کام کررہے ہونگے اس لئے کہ بات ان کی کی جاتی ہے جن میں کوئی بات ہوتی ہے جن کے پاس اختیار ہوتا ہے اوروہ کچھ کرنے کے قابل ہوتے ہیں انہوں نے کچھ وعدے کئے ہوتے ہیں ۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم تحریک انصاف کے بارے میں کیوں زیادہ بات کرتے ہیں اوراس کی اچھائی برائی ہی نظرمیں کیوں رہتی ہے تو بات بڑی واضح ہے کہ تحریک انصاف طاقت کے منبعوں کے ساتھ چل رہی ہے اس لئے کسی اچھائی کی امید بھی اسی سے کی جارہی ہے ۔ تحریک انصاف سے پہلے بھی یہاں حکمران گذرے ہیں لیکن ان کی قیادت اورپروگرام کو لوگ اس لئے تنقید کا نشانہ نہیں بناتے کہ وہ ناں ہی اتنے پارسا تھے اورناں ہی انہوں نے لوگوں کی خود سے اتنی امیدیں وابستہ کی تھیں۔ اب یہی دیکھ لیں تحریک انصاف نے قبائلی علاقوں میں حالیہ صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں شکست کا سامنا کیا لیکن بعد میں اس نے ان کے امیدواروں سے جیتنے والوں کو اپنے ساتھ شامل کرلیا ہم نے ان کے بارے میں زیادہ لکھا ورنہ ہاری تو ان قبائلی علاقوں پراپنے اپنے گورنروں کے ذریعے راج کرنے والی مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی بھی تھی لیکن ہم نے ان کو لائٹ لیا۔ تحریک انصاف ان جماعتوں سے مختلف ہے اس لئے لوگ ان کے بارے میں زیادہ بات کرتے ہیں اور جس دن اس کے کارکنوں کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جائے گی وہ خدا واسطے گالیاں دینے کی بجائے اس بات پر ایک لمحے کے لئے ضرورسوچیں گے کہ وہ چونکہ کئی حوالوں سے خاص ہیں اس لئے ان کے ساتھ زیادہ حساب کتاب کیا جاتا ہے وہ قبائلی علاقوں میں انتخابات کے بعد بھی ایک بار پھر صوبے کی اسمبلی میں دوتہائی اکثریت حاصل کرنے کے قریب ہیں قبائلی علاقوں میں ہار کر بھی دوبارہ جیت رہے ہیں جہانگیر ترین اوروزیراعلی محمود خان کے ساتھ ساتھ عمران خان صاحب کی شخصیت اور عہدے کو نئے ایم پی ایز کی شمولیت کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ تحریک انصاف کا طریقہ کار اورحکمت عملی جوبھی ہو اس نے پارلیمانی سیاست کے مقاصد حاصل کرلئے ہیں جس پر اسے مبارک ہو۔ لیکن جس ایک چیز نے دل باغ باغ کردیا ہے وہ یہ ہے کہ ان انتخابات نے سترسال سے زائد تک جنگل کے ایک قانون ایف سی آرکے تحت رکھے جانے والے پختون قبائل کے ماتھے سے یہ داغ دھو دیاہے کہ وہ وحشی ہیں وہ جرائم پیشہ ہیں وہ صرف بندوق کی زبان سمجھتے ہیں بلکہ ان پرامن انتخابات نے پوری دنیاکی نظروں میں ان کا تاثر بدل دیا کہ جتنے پرامن اورمہذب یہ ہیں ان جیسا کوئی نہیں۔وہ جب بھی ماضی میں کسی بھی جگہ کسی کے لئے بھی بندوق اٹھاکرگئے تووہ نالائق اوربے وقوف نہیں بلکہ اپنے اخلاص کی بدولت ہی گئے تھے انہوں نے اگرکشمیر میں بھارت کو ناکوں چنے چبوائے تھے تو وہ ناسمجھی میں نہیں گئے تھے بلکہ بہادر اور سمجھدارتھے کہ واپس آتے ہوئے کشمیر کاایک بڑا حصہ بھی ساتھ لے آئے تھے۔اس لئے الیکشن جس نے بھی جیتا ہو اس کے دوران مہذب اورباوقار رہ کر قبائل نے کردارجیت لیا ہے جس پر وہ جیتنے والی پارٹی اورامیدواروں سے زیادہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔

متعلقہ خبریں