Daily Mashriq

امداد وصولی

امداد وصولی

پاکستان کا اپنی معاشی حالت بہتر کرنے اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے لیے عالمی مالی اداروں پر انحصار کوئی نئی بات نہیں۔ البتہ بہت کم لوگ جانتے ہیںکہ پاکستان اوور سیز ڈویلپمنٹ اسسٹنس کا بھی اہم حصہ ہے اور یہ فنڈ ملک کی معاشی ابتری میں کہیں نہ کہیں اپنا معمولی کردار ادا کرتا آ رہاہے۔ اس امداد کا بنیادی مقصد صحت، تعلیم، حصول انصاف، حقوق نسواں، جمہوری اصلاحات، کاروبار کے لیے چھوٹے قرضوں کی فراہمی اور دیہات کی ترقی جیسے سماجی شعبوں میں بہتری لانا ہے۔ گو کہ ان شعبہ ہائے جات میں بہتری لانا پاکستان کی ضرورت بھی ہے اور ریاست کا فرض بھی۔ البتہ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم یہ سب کسی بیرونی امداد کے بغیر نہیں کر سکتے یا یہ کہ کیاہمیں یہ بیرونی امداد کے بغیر کرنا چاہیے؟ اس کا جواب یقینی طور پر ہاں ہونا چاہیے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمارے اداروں میںا ہل اور قابل افراد کی کمی اور دقیانوسی بیوروکریٹک نظام کی وجہ سے ملک پر قرضوں کے انبار اور ان کی ادائیگیوں میںہونے والی نا اہلی کے باعث یہ شعبے ہمیشہ سے ہی ابتر رہے ہیں۔ او ڈی اے گو کہ اس ضمن میں مالی اور تکنیکی امداد مہیا کرتا ہے جس سے کچھ حد تک مدد بھی ملتی ہے اور دلچسپ بات یہ کہ اس امداد کی رقم ہمیں کسی طور لوٹانا بھی نہیں ہوتی۔ اعداد و شمار کے مطابق او ڈی اے کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی امداد میں پچھلی دو دہائیوں کے درمیان خاصا اضافہ ہوا ہے اور 1997 میں نو سو ملین ڈالر سے شروع ہونے والی یہ امدادسال 2017میں 2.283 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہے اور پاکستان کو ملنے والی اس امداد میں سب سے بڑا حصہ امریکہ کی جانب سے دیا جاتا ہے۔

دہائیوں سے ملنے والی اس امداد کے باوجود پاکستان میں ان شعبہ جات کی حالت اب تک دگر گوں ہے اور عالمی درجہ بندیوں کے مطابق، پاکستان ہیومن ڈولپمنٹ رینکنگ میں سال2018میں 189ممالک میںسے 150ویں نمبر پراور جنسی بنیادوں پر نا انصافی کرنے والے ممالک کی لسٹ میں سال2017 میں189 ممالک میں سے 133 ویں نمبر پر رہااور عالمی بدعنوانی انڈکس میں اس کا شمار 117ویں نمبر پر ہوتا ہے۔

یہاں ایک اور سوال یہ جنم لیتا ہے کہ اس قدر دگرگوںحالات کے باوجود عالمی دنیا کیوں کر ہمیں امداد دینے سے ہاتھ نہیں روکتی اور اس سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان یہ امداد لینے سے معذرت کیوں نہیں کرتا جب کہ اس کو معلوم ہے کہ اس کا اثر نہ ہونے کے برابر ہوگا۔ اس حوالے سے پاکستان کی جغرافیائی لوکیشن اور عسکری تنازعات سے بھرپور تاریخ نہا

یت اہمیت کی حامل ہیں کہ اس کے تناظر میں پاکستاان اور یہ امداد دینے والے ممالک دونوں کے عالمی سطح پر سٹیک موجود ہیں۔ پاکستان کا امداد لیے جانا اور نتائج کے حوالے سے بے فکر رہنا عالمی ڈونرز کو موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ پاکستان کے بدعنوان نظام میں کام کرنے کے حوالے سے اُنگلیاں اُٹھائیں۔ یہی وجہ ہے کہ درجنوں ایسے منصوبے جن کے لیے ہمیں مالی اور تکنیکی امداد فراہم کی گئی، وقت کے ساتھ ہماری حکومت کی جانب سے بھلا دیے گئے ۔ البتہ اس ضمن میں پاکستان کی یہ بے چینی بھی اپنی جگہ ٹھیک ہے کہ عالمی اداروں کی جانب سے ملنے والی امداد کے مصارف بھی یہ ادارے خود طے کرتے ہیں جو کہ اکثر اوقات ملک کی اندرونی ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ پاکستان کا اس حوالے سے بے بس ہونا صورتحال کو بہتری کی جانب جانے نہیں دیتا۔ ان پیچیدگیوں سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اگر ہم نے اپنے نظام میں موجود بدعنوانی اور دیگر سقموں کو دور نہ کیا تو ہم آئندہ بھی بیرونی امداد کے محتاج ہی رہیں گے۔ یہ صورتحال اس تاثر کو فروغ دیتی ہے کہ پاکستان اپنے سماجی شعبوں میں بیرونی امداد کے بغیر کوئی بہتری لانے کے قابل ہی نہیں ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم اس ایجنڈے کا خود سے تجزیہ کر سکیں جس کے تحت یہ بیرونی امداد ہمیں دی جاتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس تاثر میں بھی توازن پیدا کرنے کی کوشش کریں جو ہمارے ڈونرز کے ذہنوں میں تشکیل پا رہاہے؟ اس کا ایک حل یہ ہو سکتا ہے کہ ہم ان بیرونی امداد کے پروگراموں سے خود کو کچھ دیر کے لیے الگ کر کے اپنی کارکردگی اور اس امداد کے نتائج کا شفاف تجزیہ کر یں البتہ اس ضمن میں حکومت اور امدادی اداروں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اب تک کی روایت تو یہ ہے کہ ہم ان امداد دینے والے اداروں کی رپورٹس پر ہی تکیہ کیے رہتے ہیں جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اندرونی طور پر ہر تھوڑے عرصہ بعد اس حوالے سے اپنامواخذہ خود کریں۔ اس سارے عمل میں پلاننگ کمیشن آف پاکستان اور اکنامک افئیرز ڈویژن کا کردار کلیدی ہے البتہ ہمیں بیرونی ماہرین کی بجائے اپنے لوگوں کی قابلیت کو ہی بروئے کار لانا ہوگا کیونکہ اپنے ملک کے لیے پالیسیوں اور ترجیحات کا تعین کسی غیر ملک کے ماہرین سے کرانا چنداں ہمارے مفاد میں نہیں۔

ہمیں بدعنوانی، تعلیم ،حقوق نسواں، عدالتی اصلاحات اور معاشرتی سدھار کی اہمیت سمجھنے کے لیے کسی بیرونی امداد کی ضرورت نہیںتاہم او ڈی اے جیسے امداد ی پروگراموں کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ان کے ذریعے ہمیں عالمی تعاون اور معلومات تک رسائی مل جاتی ہے جو ہمارے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ البتہ ہمیں یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح سے ہم اس امداد کو اپنی ترجیحات اور ضروریات کے تحت استعمال کریں نا کہ غیر ملکی اداروں کی ڈکٹیشن پر اکتفا کیے رہیں۔ گو کہ ہمیں اس اختیار کے حصول میںکچھ دیر لگ سکتی ہے البتہ اس کا آغاز فوری طور پر ہو جانا چاہیے۔ (بشکریہ ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں