Daily Mashriq

پاک امریکہ تعلقات کا نیا دور اور چند سوالات

پاک امریکہ تعلقات کا نیا دور اور چند سوالات

وزیر اعظم اور عسکری قیادت کے دورہ امریکہ سے علاقائی اور عالمی سیاست میں کتنی تبدیلی آتی ہے اور پھر اس د ورہ کے پاکستان کی داخلی سیاست پر آنے والے دنوں میں کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اس حوالے سے پچھلے چند دنوں میں بہت کچھ لکھا جاچکا۔ جس بنیادی بات کو نظر انداز کیا جارہا ہے وہ یہ ہے کہ ’’ صدر ٹرمپ نے کہا پاکستان کی فوجی امداد اس لئے بند کی تھی کہ ماضی کی پاکستانی حکومتیں تعاون نہیں کر رہی تھیں۔ اب عمران خان کی قیادت میں ہمیں تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی ہے‘‘۔ سوال یہ ہے کہ پچھلی حکومتوں نے کن امور پر تعاون نہیں کیا اور موجودہ حکومت تعاون میں کس حد تک جائے گی؟ آگے بڑھنے سے قبل یہ ضرور جان لیجئے کہ وزیر اعظم اور عسکری قیادت کے دورہ امریکہ کے بعد پاکستان کی فوجی امداد بحال کردی گئی ہے۔ ہمارے ہاں ایک طبقہ بلند آواز کے ساتھ یہ کہہ رہا ہے کہ امریکہ نے یہ فیصلہ بھارت سے بے نیاز ہو کر کیا ہے۔ ممکن ہو یہ بات درست ہو لیکن عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے گارڈ فادر امریکہ کے لئے قطعی طور پر یہ ممکن ہوگا کہ وہ بھارت میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی 120 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کو یکسر نظر انداز کردے؟۔ خیر چھوڑئیے یہ امریکہ اور بھارت کا معاملہ ہے۔ وہ دونوں جانے ہمیں کیا۔ ہمارا معاملہ (پاکستان کا) یہ ہے کہ ہم اول دن سے امریکی کیمپ کے پرجوش اتحادی ہیں۔ پچھلے ستر اکہتر برسوں کے دوران ہم نے امریکہ کے لئے کیا کیا نہیں کیا اور جواب میں امریکہ نے ہمارے ساتھ کیا کیا نہیں کیا۔ تاریخ کے دفتر کھولئے جوابات چودہ طبق روشن کردیں گے۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ پاک امریکہ تعلقات کے نئے پرجوش اور تعاونی دور کے لئے سی پیک کو رول بیک کیا جائے گا‘ پالیسی یہ ہوگی کہ اس کو خیر باد بھی کہہ دیا جائے اور شور بھی نا ہو۔ بظاہر تو سی پیک کو رول بیک کرنے کی کوئی وجہ دکھائی دیتی ہے نا اثرات لیکن امریکی دوریاں تھیں اسی منصوبے کی وجہ سے۔ امریکہ سی پیک کا مکمل بلیو پرنٹ چاہتا تھا جو نہیں دیاگیا‘ اب کیا ہوگا؟ اس کا جواب حکومت کو دینا ہے۔ دوسرا مسئلہ امریکہ کی افغان پالیسی ہے۔ ہم 1979ء سے اس پالیسی کاایک پرجوش کردار ہیں اس کردار کی وجہ سے دنیا نے ہمیں کئی نام دئیے مگر یہاں ہمیں یہی سمجھایا گیا کہ افغان پالیسی میں امریکہ کی ہمنوائی شہ رگ سے زیادہ اہم ہے۔پاک امریکہ تعلقات کے نئے دور میں پاک چین روس ایران اور ترکی کا سیاسی و معاشی اتحاد بنانے کے لئے جو کوششیں ہو رہی تھیں اب ان کا حال کیا ہے اور مستقبل کیا۔ ہم تو سی پیک میں روس‘ ایران اور سعودی عرب کے ساتھ ترکی کو بھی شامل کرنے کی باتیں کرتے تھے۔ کیا وہ محض لفاظی تھی یا اس میں کچھ حقیقت بھی تھی۔ حقیقت تھی تو اب کیا ہوگا؟ امریکی کبھی یہ نہیں چاہیں گے کہ ہماری خارجہ اور معاشی پالیسی ان کے چنگل سے نکلے۔ ثالثاً یہ امر بھی اہم ہے کہ کیا ہم آنے والے دنوں میں بھارت کو وسط ایشیائی ریاستوں تک راہ داری دینے پر آمادہ ہو جائیں گے۔ اصولی طور پر ہمارے پالیسی سازوں کو کھل کر اس پر بات کرنی چاہئے صرف بات ہی نہیں بلکہ اس ملک کے لوگوں کو اعتماد میں لینا ہوگا۔ سی پیک منصوبے پر کام کے آغاز سے ہمیں بتایا جا رہا تھا کہ یہ منصوبہ جب مکمل ہوگا تو ہمیں سالانہ 5ارب ڈالر کی آمدنی ہوگی۔ نواز لیگ کے دور میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ اس پانچ ارب ڈالر کی آمدنی پر حکومت اور ریاستی اداروں کے درمیان تنازع اٹھا۔ اس وقت کے وزیر خزانہ کہتے تھے کہ یہ رقم سی پیک اتھارٹی کو نہیں حکومت کو ملنی چاہئے۔ یہی بات اختلافات کو بڑھانے اور دیگر معاملات تک پہنچی۔ اب اگر ادھر ادھر سے سی پیک کو رول بیک کرنے کے لئے اٹھتی باتوں پر یقین کرلیا جائے تو پھر کیا متبادل ہے؟۔ سی پیک معاہدوں پر بعض تحفظات کے باوجود اس ملک کے اہل دانش‘ ماہرین معاشیات اور تجارتی حلقے اسے پاکستان کے لئے اہم قرار دیتے آرہے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ ہے‘ ستر اکہتر سال کے تعلقات ہمیں یہ سمجھاتے ہیں کہ امریکی تعمیر و ترقی کے مستقل عمل میں مدد کرنے کی بجائے وقتی طور پر اتنی ضرورتیں پوری کرتے ہیں جن سے ان کے لئے خدمات سر انجام دینے میں خلل نہ آئے۔ تو کیا اب امریکہ ماضی کے برعکس رویہ اور معاملات اپنا ئے گا یا پھر اپنی افغان پالیسی کی نئی جہت کی تکمیل کے بعد ہمیں بند گلی میں دھکیل کر پتلی گلی سے نکل جائے گا؟۔

مکرر عرض کروں امریکہ نوازی کے سات عشروں کی داستان کھلی کتاب کے طور پر سامنے رکھی ہے۔ اوراق الٹ کر دیکھ لیجئے امریکی حکام نے کبھی بھی ہمیں ایک طفیلی ریاست سے زیادہ اہمیت نہیں دی۔ افغانستان کو ہی دیکھ لیجئے۔ 1979ء کے انقلاب ثور کے بعد یہاں ہم نے جہاد اسلامی کو پروان چڑھانے والی ریاست کا کردار ادا کیا المیوں سے دوچار ہوئے ادھر امریکہ جنیوا معاہدے کے بعد خاموشی سے نکل گیا۔ افغانستان میں خانہ جنگی کا دروازہ کھلا۔ جہاد سے زیادہ لوگ اس خانہ جنگی میں مارے گئے۔ طالبان کا ظہور ہوا‘ امریکیوں نے ان سے معاہدہ کرلیا۔ امریکہ طالبان اختلافات ہوئے۔ 9/11 کے بعد طالبان کا اقتدار محدود ہوا۔ کرزئی کے آگے اب اشرف غنی ہیں امریکی ترجیحات بدلتی رہیں ہم مودب انداز میں اس کے پیچھے چلتے رہے۔ اب پھر کہا جا رہا ہے کہ افغان ایشو پر پاکستان اور امریکہ ایک پیج پر آگئے ہیں۔ غالباً فوجی امداد کی بحالی ابتدائیہ ہے۔ (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں