Daily Mashriq

دوہری شہریت رکھنے والوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینے کیلئے بل کا ڈرافٹ تیار

دوہری شہریت رکھنے والوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینے کیلئے بل کا ڈرافٹ تیار

اسلام آباد: دوہری شہریت کے حامل افراد کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینے کے لیے بل کا ڈرافٹ تیار کرلیا گیا ہے جسے پارلیمنٹ میں جلد بحث کے لیے پیش کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جو افراد انتخابات جیت جائیں گے انہیں حلف اٹھانے سے قبل اپنی غیر ملکی شہریت چھوڑنی پڑے گی۔

اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ انہوں نے صدر مملکت عارف علوی سے ملاقات کی اور اوورسیز پاکستانیوں کو حق رائے دہی دینے کے معاملے پر بات چیت ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اوور سیز پاکستانی ملک کا اثاثہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو متعدد بورڈ آف گورنرز میں نمائندگی دینے پر بھی غور کیا جارہا ہے، اگر نسل نو امریکا اور یورپ میں خدمات انجام دے سکتے ہیں تو ہم ان کی قابلیت سے کیوں نہ فائدہ اٹھائیں۔

دوہری شہریت رکھنے والوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینے کے لیے وزیر اعظم عمران خان کے زیر صدارت جمعے کے روز ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا۔

آئینی ترمیم کے حوالے سے قانونی چارہ چوئی کی ابتدا کے لیے کمیٹی بھی قائم کردی گئی۔

اجلاس کے دوران کابینہ کے اراکین کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو حق رائے دہی دینا ملک کے مفاد میں ہے۔

وزیر اعظم نے اجلاس میں متعلقہ وزارتوں سمیت الیکشن کمیشن آف پاکستان سے اوورسیز پاکستانیوں کو حق رائے دہی دینے کے لیے تجاویز پیش کرنے کا کہا۔

اس فیصلے کے اطلاق کے بعد آئین کے آرٹیکل 63 (سی) میں ترمیم کی ضرورت ہوگی، جس میں لکھا ہے کہ 'کوئی مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے رکن کے طور پر منتخب ہونے یا چنے جانے اور رکن رہنے کے لیے نا اہل ہوگا اگر وہ پاکستان کا شہری نہ رہے، یاکسی بیرونی ریاست کی شہریت حاصل کرے'۔

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کابینہ کے فیصلے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'ای سی پی نے اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹر لسٹ میں اندراج کے عمل کا آغاز کیا تھا تاہم چند وجوہات کی بنا پر اسے روکنا پڑا، اب وزیر اعظم نے خود ای سی پی اور متعلقہ محکموں کو اوورسیز پاکستانیوں کی رجسٹریشن کے عمل کے فوری آغاز کی ہدایت دی ہے'۔

قبل ازیں اعظم سواتی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے صحافیوں سے اپنے قلم کا ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنے کی درخواست کی اور کہا کہ میڈیا کو کسی بھی فرد کے خلاف بے بنیاد الزامات لگانے کا کوئی حق نہیں ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 'حفیظ اللہ نیازی نامی شخص نے جیو ٹی وی کے پروگرام میں 6 جولائی کو دعویٰ کیا کہ میں امریکا میں انشورنس فراڈ کے کیس کا سامنا کر رہا ہوں، ان بے بنیاد الزامات سے میری ساکھ کو نقصان پہنچا ہے'۔

اعظم سواتی نے حفیظ اللہ نیازی سمیت جیو ٹی وی کے خلاف پیمرا میں کیس دائر کردیا جبکہ وہ ہتک عزت کے حوالے سے 1 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ کرنے کا بھی ارادہ بھی رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جس شخص نے مجھ پر الزامات لگائے اسے قانونی کارروائی سے بچنے کے ناظرین کے سامنے اس ہی پروگرام میں معافی مانگنی ہوگی یا پھر ثبوت پیش کرنے ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں 1978 میں آخری مرتبہ امریکا گیا تھا اور 2001 تک وہاں رہا، گزشتہ 45 سالوں میں میرے خلاف کوئی کیس نہیں'۔

متعلقہ خبریں