Daily Mashriq

طفیلی پودے ’جین کی چوری‘ بھی کرتے ہیں، تحقیق

طفیلی پودے ’جین کی چوری‘ بھی کرتے ہیں، تحقیق

پنسلوانیا: تحقیقی جریدے ’’نیچر پلانٹس‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع شدہ ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دوسرے پودوں پر پلنے والے طفیلی پودے (پیراسائٹک پلانٹس) صرف اپنے میزبان (ہوسٹ) پودوں کے غذائی اجزاء ہی استعمال نہیں کرتے بلکہ ان کے جین بھی چوری کرلیتے ہیں تاکہ مستقبل میں اپنا ’’طفیلی پن‘‘ مزید بہتر بنا سکیں۔

واضح رہے کہ ’’طفیلیے‘‘ یا پیراسائٹ وہ جاندار ہوتے ہیں جو اپنی غذا خود نہیں بنا سکتے۔ اس لیے وہ کسی دوسرے جاندار (میزبان) پر حملہ کرکے اس کے غذائی ذرائع پر قابض ہوجاتے ہیں؛ اور بعض مرتبہ اپنے میزبان کو ہلاک بھی کردیتے ہیں۔

ویسے تو دنیا کا سب سے خطرناک طفیلیہ ’’انسان‘‘ خود ہے جو دنیا بھر کے بیشتر غذائی وسائل پر قابض ہے اور جس کی وجہ سے کئی جاندار معدومیت کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں، البتہ عالمِ نباتات (پودوں کی دنیا) میں اس کی سب سے مشہور مثال ’’آکاس بیل‘‘ (dodder plant) ہے جو کسی سرسبز پودے کے گرد لپٹ جاتی ہے اور اس کی بنائی ہوئی غذا کو ’’مالِ مفت، دلِ بے رحم‘‘ کے محاورے پر عمل کرتے ہوئے، بے دردی سے استعمال کرتی ہے۔

پنسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی اور جیورجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں آکاس بیل اور دوسرے طفیلی پودوں پر کی گئی مشترکہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ طفیلی پودے نہ صرف اپنے میزبان کی تیار کردہ غذا استعمال کرتے ہیں بلکہ ان کے جین بھی چوری کرکے انہیں اپنے جینوم (جین کے مجموعے) کا حصہ بنا لیتے ہیں تاکہ مستقبل میں اپنے طفیلی پن کو بہتر بناسکیں اور اپنے میزبان کو زیادہ مؤثر انداز سے متاثر بھی کرسکیں۔

پنسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی میں حیاتیات کے پروفیسر اور اس مقالے کے سینئر مصنف، ڈاکٹر کلاڈ ڈی پامفلس کا کہنا ہے کہ جین کی چوری کا عمل اب تک وائرس اور بیکٹیریا میں زیادہ دیکھا گیا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے اندر مزاحمت بڑھاتے رہتے ہیں۔ یہ عمل جسے ’’جین کی افقی منتقلی‘‘ (ہوریزونٹل جین ٹرانسفر) کہتے ہیں، پودوں اور دوسرے پیچیدہ جانداروں میں بہت کم دیکھا گیا ہے جبکہ اس طرح سے ان جانداروں میں منتقل ہونے والے جین بھی غیر فعال ہوتے ہیں… یعنی بالعموم اپنا کام کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔

اس کے برعکس، آکاس بیل کے تجزیئے سے معلوم ہوا ہے کہ اس نے اپنے میزبان پودوں سے بڑی تعداد میں جین نہ صرف چرائے ہوئے ہیں بلکہ ان میں سے بھی کم از کم 100 جین ایسے ہیں جو (آکاس بیل میں پہنچ جانے کے باوجود) پوری طرح فعال ہیں اور متعلقہ پروٹین بنانے کی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کررہے ہیں۔

اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں آنے والے برسوں میں حیاتیات سے متعلق اپنے مروجہ تصورات و نظریات پر نظرِ ثانی کی اشد ضرورت پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں