Daily Mashriq

انتخابی امن خطرے میں کیوں؟

انتخابی امن خطرے میں کیوں؟

نیشنل کائونٹر ٹیرر ازم اتھارٹی کی جانب سے مسلم لیگ(ن) بالخصوص اس کے صدر شہباز شریف پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز اور عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت اور جلسوں کو نشانہ بنانے کی افغانستان میں منصوبہ بندی کے انکشاف اور انتباہ کو اگر 2013ء کے دہشت گردی کے عروج کے سال کی واپسی قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ سمجھ سے بالا تر امر یہ ہے کہ ان پانچ سالوں کے دوران ملک سے دہشت گردوں کا صفایا کیا جاچکا۔ قبائلی علاقوں کی ہیئت ہی تبدیل ہوچکی۔ افغانستان اور پاکستان کی سرحدوں پر باڑ اور خندقیں بنا کرانہیں محفوظ بنایا جاچکا۔ طورخم سرحدپر آمد و رفت کو باقاعدہ اور دستاویزی بنایا جا چکا۔ پاکستان میں حملوں کے ذمہ دار ملا فضل اللہ سمیت کئی ایک بدنام دہشت گرد کیفر کردار کو پہنچائے جاچکے۔ وطن عزیز کے شہریوں نے امن کی بحالی اور رونقوں کے لوٹ آنے کا یقین کرلیا۔ پاک فوج وطن عزیز کی سرحدوں سے لے کر چپہ چپہ محفوظ بنا کر قوم کا اعتماد بحال کرچکی۔ جنوبی پنجاب میں دہشت گردوں کے خفتہ مراکز تک باقی نہیں رہے جو تحریک طالبان 2013ء میں تھی۔ آج اس کا وجود زخم خوردہ اور ٹکڑے ٹکڑے ہے۔ اس کی قیادت پاک سرحد کے قریب پھٹکنے کی ہمت نہیں کرسکتی۔ اس کے باوجود اس کی اس قسم کی منصوبہ بندی اور حملے کی پوزیشن میں آنا اور اس کو خطرہ گردانتے ہوئے انتباہ کا اجراء سمجھ سے بالا تر امر ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس قسم کی صورتحال کا سوشل میڈیا پر بھی ٹوٹی کمر کے ساتھ حملہ وغیرہ قسم کے طنزیہ جملوں سے مذاق اڑایا جانے لگا ہے۔ اس صورتحال میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ یا تو محولہ بالا تمام تاثرات سطحی غیر حقیقی اور نفی کی صورت میں ہیں یا پھر تحریک طالبان پاکستان افغانستان میں خدانخواستہ اتنی منظم ہوچکی ہے کہ ایک بار پھر خاکم بدہن وطن عزیز سے اس کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں اور اس کی روک تھام اور کیفر کردار تک پہنچانے میں ہمیں مشکل ہوگی۔ ٹی ٹی پی قیادت کی اس مبینہ دھمکی کا بڑا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ گزشتہ عام انتخابات میں اے این پی اور پی پی پی اس کے نشانے پر تھی اور رہی ایم کیو ایم کو بھی خطرات رہے لیکن مسلم لیگ(ن) سے تعرض نہ کیاگیا۔ اس مرتبہ نام و نشان مٹ جانے کے باوجود مسلم لیگ(ن) بھی اس کی ہٹ لسٹ پر آگئی ہے حالانکہ ٹی ٹی پی نے اپنے عروج کے دور میں بھی پنجاب میں کارروائیوں میں ہتھ ہولا رکھا تھا جس کے باعث مسلم لیگ(ن) کو اس سے قربت یا پھر سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کی اس سے معاملت تک کی کہانیاں عام ہوئیں۔ اب اچانک ٹی ٹی پی کی لسٹ میں یہ نیم مذہبی جماعت بھی شامل ہوگئی ہے۔ اگرچہ کسی دہشت گرد تنظیم سے کسی اصول کی توقع نہیں اور نہ ہی کسی پالیسی سے اس کو جوڑا جاسکتاہے لیکن اس کے باوجود یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ اب کے بار اس کی ہٹ لسٹ کی ترجیحات میں تبدیلی کا راز کیا ہے۔ حیرت انگیز امر تو یہ ہے کہ ایک تواتر کے ساتھ سینٹ کی کمیٹی میں انتخابات کو بیرونی قوتوں کی جانب سے نشانہ بنانے کا معاملہ زیر بحث لایاگیا پھر سیکرٹری الیکشن کمیشن نے اسی نوعیت کابیان دیا۔ ایک اور بیان بھی الیکشن کمیشن کے حلقوں سے اس نوعیت کا آیا مگر نگران وزیر داخلہ اور سیکرٹری داخلہ سمیت کسی اعلیٰ ادارے نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ اب نیکٹا کا انتباہ سامنے آیا ہے۔ اس قسم کے پے در پے خدشات کے اظہارسے سیاسی جماعتوں کو حفظ ما تقدم کے طور پر عوامی جلسے جلوسوں کو محدود کرنا فطری امر ہوگا۔ بعید نہیں کہ خدانخواستہ کسی جگہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہونے سے نہ روکا جاسکے گا اور سارا انتخابی عمل عدم تحفظ کے باعث شروع ہونے سے قبل سبو تاژ ہو جائے گا۔ ویسے بھی انتخابی عمل میں مختلف جانب سے جس قسم کا دبائو سامنے آرہا ہے اس صورتحال میں آزادانہ طور پر انتخابی مہم ممکن نہیں۔ یہاں تک کہ قومی احتساب بیورو کے اقدامات پر بھی انگلیاں اٹھ رہی ہیں اور انتخابی عمل کو متاثر ہونے سے بچانے کے لئے غیر جانبدار مبصرین انتخابی عمل کی تکمیل تک توقف کی تجویز پیش کرتے ہیں جس کی افادیت سے انکار کی گنجائش نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خطرات کامقابلہ کرنا ہماری فوج ہمارے حساس اداروں‘ رینجرز‘ ایف سی اور پولیس کی ذمہ داری ہے امیدواروں کو تحفظ فراہم کرنا اور ضابطہ اخلاق کے دائرے میں انتخابی مہم چلانے کو یقینی بنانا نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کابنیادی فریضہ ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ اس میں ان کے ناکام ہونے کا خطرہ ہے اور ملک میں انتخابی عمل شروع ہونے کے باوجود انتخابات کے انعقاد شفافیت اور غیر جانبداری کے حوالے سے جن شکوک و شبہات کا اظہار کیاجا رہاہے وہ اذہان و قلوب کے وسوسے سے نہیں بلکہ حقیقت سے قریب تر ہیں۔شفاف انتخابات کا ابھی مرحلہ باقی ہے۔ انتخابی مہم میں کیا مشکلات اور حالات پیش آتے ہیں وہ بھی معلوم نہیں لیکن کیا یہ معلوم حقیقت نہیں کہ سپریم کورٹ کی جانب سے بیان حلفی کے ذریعے امیدواروں کے کوائف کی مکمل تفصیل کو ضروری اور یقینی کرنے کے باوجود امیدواروں پر اس کا اطلاق یقینی دکھائی نہیں دیتا۔ اب تک ٹیکس نادہندگان آمدن سے زائد اثاثوں اور صادق و امین کا مشہور عالم فارمولہ کسی پر لاگو نہیں کیاگیا جو اس کی زد میں آئے یا لائے گئے اس میں بھی مینگنیاں صاف نظر آتی ہیں۔ اس ساری صورتحال سے شکوک و شبہات میں اضافہ ہوتا ہے اور انتخابی عمل کی وقعت متاثر ہو رہی ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ نیکٹا کے انتباہ کے بعد سیاسی جماعتیں احتیاط اور حفاظتی اقدامات کے تقاضوں کو پوری طرح ملحوظ خاطر رکھیں گی جبکہ ہمارے سیکورٹی ادارے ان کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیںکریں گے۔ پاکستان عالمی سطح پرجہاں کھڑاہے وہاں سے اس کے نکلنے کا واحد راستہ دہشت گردی کے نیٹ ورک اور ہر قسم کے مشکوک عناصر کاپوری طرح صفایا ہے۔ عام انتخابات کو مکمل طور پر محفوظ‘ شفاف اور غیر جانبدارانہ بنانے کی ذمہ داری پوری کرکے ہی ہم دنیا کو یہ پیغام دے سکتے ہیں کہ ہم گرے لسٹ کے نہیں وائٹ لسٹ کے حامل ملک ہیں۔

متعلقہ خبریں