Daily Mashriq

سرکاری تعلیمی اداروں کاایک مرتبہ پھر بدترین نتیجہ

سرکاری تعلیمی اداروں کاایک مرتبہ پھر بدترین نتیجہ

آرٹس گروپ کے نویں اور دسویں جماعت میں مجموعی طور پر52 ہزار 803بچوں کی ناکامی اور سب سے زیادہ36 ہزار950 طلبہ کے نویں جماعت میں فیل ہونے سے تعلیمی نظام کے انحطاط کے درجے کا تعین کچھ مشکل نہیں۔ ہمارے نمائندے کے مطابق سابق حکومت کی جانب سے تعلیمی اصلاحات اور معیار کی بہتری اور اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجودپشاوربورڈکے میٹرک کے نتائج میں کسی سرکاری سکول کابچہ ٹاپ ٹوئنٹی پوزیشنوں میں جگہ نہ بناسکا۔ واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی سابق حکومت نے اربوں روپے خرچ کرنے کے بعد سرکاری سکولوں کا معیار نجی سکولوں سے بہتر کرنے اور لاکھوں بچوں کے نجی سکول چھوڑ کرسرکاری سکولوں میں داخل ہونے کے دعوے کئے تھے۔توقع کی جارہی تھی کہ شاید اب کی بار پشاور بورڈ کے امتحانی نتائج میں کوئی سرکاری سکول بھی نام بنا سکے لیکن حسب سابق مایوس کن کارکردگی ایک مرتبہ پھر سرکاری سکولوں کی کارکردگی عوام کے سامنے لے آئی ہے۔ نتائج کے مطابق بورڈ میں پہلی بیس پوزیشنوں میں سرکاری سکولوں کا نام ونشان تک نہیں۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اگر نگران نہ ہوتے تو ان کا تعلیم کے حوالے سے سنجیدہ طرز عمل اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کے باعث اصلاح احوال کی توقع تھی۔ افسوسناک امر تو یہ ہے کہ سابق دور میں جس کو تعلیم کی وزارت دی گئی اب انکشاف ہوا کہ وہ خود انڈر گریجویٹ تھے اور دعوے تعلیمی انقلاب کے ہو رہے تھے۔سابق حکومت کے تعلیمی ایمرجنسی کاعقدہ باون ہزار طلبہ کے فیل ہونے کی صورت میں کھل چکا ہے۔ سائنس گروپ میں طلبہ کے اچھے نمبروں کا سہرا کسی سرکاری تعلیمی ادارے اور سرکاری کوششوں کے سر نہیں بلکہ یہ طلبہ کی محنت اور ان کے ماں باپ کے مالی بوجھ اٹھانے کے باعث ممکن ہوا۔ آرٹس گروپ میں جن 48طالب علموں نے اے ون گریڈ حاصل کیا اور جن آٹھ سو تیرہ طلبہ نے اے گریڈ میں کامیابی حاصل کی یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ان کی بھی غالب اکثریت نجی تعلیمی اداروں ہی سے ہوگی۔ ہمارے تئیں یہی چند طالب علم جن کی تعداد ہزار سے بھی کم ہے آئندہ کسی قابل ثابت ہوں گے۔ صوبے میں مایوس کن نتائج پہلی بار نہیں قبل ازیں یعنی گزشتہ سال بھی یہی صورتحال رہی۔ سرکاری تعلیمی ادارے اب وسائل کا ضیاع اور نیم بیروزگار اور بیروزگار نوجوان پیدا کرنے کی فیکٹریاں بن چکے ہیں جن کو یا تو درست طریقے سے چلایا جائے یا پھر بند کیا جائے۔ سرکاری سطح پر کسی ایک سکول سے بھی اچھے نمبروں سے طالب علموں کا پاس نہ ہونا اس پورے نظام کے منہ پر طمانچہ ہے۔ طبقاتی نظام تعلیم سے کسی بھلائی کی توقع نہیں جب تک تعلیم والدین ‘ طلبہ اور حکومت کی بھی اولین ترجیح نہیں ہوگی اور سرکاری تعلیمی اداروں کا یہ حال ہوگا عوام کے پاس پیٹ کاٹ کر تعلیمی تجارت کے سیٹھوں کا توند بڑھانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہے گا۔

نگران حکومت نوٹس لے

پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور صوبائی ادارہ برائے تعمیر نو بحالی و آبادکاری کے حکام کا پراجیکٹ کے مستقل ہونے والے ملازمین میں سے مطلوبہ تجربہ اور اہلیت پر پورا نہ اترنے کے باوجود منظور نظر جونیئر ترین ملازمین کو نوازنا کسی اعلیٰ حکومتی شخصیت کی مداخلت اور دبائو کے بغیر ممکن نہیں۔ رولز کی اس قدر خلاف ورزی کا اب تک نوٹس کیوں نہیں لیاگیا اس کی بھی وجہ سمجھنا مشکل نہیں۔ پی ڈی ایم اے نے میرٹ کے برعکس پارسا ملازمین کی مستقلی کی جو فہرستیں محکمہ خزانہ کو ارسال کی ہیں ان پر ملازمین کے تحفظات کا اظہار کا ڈائریکٹر جنرل کو نوٹس لینا چاہئے مگر ایسا لگتا ہے کہ وہ اب بھی کسی اعلیٰ حکومتی شخصیت کے دبائو میں ہیں یا پھروہ خود بھی انہی کے نظر کرم سے مستفید ہونے والوں میں سے ہیں۔ بہر حال صورتحال جو بھی ہو گزشتہ دور حکومت میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال اور خاص طور پر سینئر ملازمین سے ہونے والی نا انصافی کا نگران حکومت کو نوٹس لے کر اس کا ازالہ کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں