Daily Mashriq

انتخابی سیاست کی منڈی کا مال

انتخابی سیاست کی منڈی کا مال

انتخابات کے انعقاد کا دن قریب آتا جا رہاہے لیکن فقیر راحموں ابھی تک بضد ہیں کہ ’’خلیل خان بس فاختہ اڑائیں گے‘‘ مطلب یہ کہ کچھ المیے تعاقب میں ہیں اور کچھ فیصلے ایسے کہ ان سے تنازعات جنم لیں گے۔ ذاتی طور پر اپنے ہمزاد کے وجدان سے متفق نہیں ہوں البتہ یہ سچ ہے کہ کچھ لوگوں کی خواہش ہے کہ نون لیگ کے ہاتھ پائوں باندھ کر اکھاڑے میں ان کی مہارت دیکھی جائے۔ اسی دوران وسطی پنجاب کے چند پیر خانوادوں ‘ مولانا خادم اور کچھ دیگر عناصر نے نون لیگ کے خلاف ختم نبوتؐ کارڈ کو مہارت کے ساتھ کھیلنا شروع کردیا ہے۔ افسوس کہ الیکشن کمیشن نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ سادہ سا ایک سوال ہے وہ یہ کہ جس قسم کی فضا چھتریوں کے نیچے بن رہی ہے اس فضا میں ہوئے انتخابات کی کوئی ساکھ ہوگی؟ ۔ سوال پر غور کیجئے اتنی دیر ہم وسطی پنجاب میں پیپلز پارٹی کے اعلان کردہ امیدواروں پر بات کرلیتے ہیں۔ وسطی پنجاب سے پیپلز پارٹی نے72 امیدواران قومی اسمبلی کااعلان کیا ہے۔ کچھ نشستوں کا فیصلہ ابھی ہونا ہے۔ سب سے دلچسپ صورتحال لاہور میں ہے جس کی 13قومی اسمبلی کی نشستوں کے لئے نامزد کردہ امیدواروں میں سے 7کا تعلق خالص کارکن کلاس سے ہے۔ خالص کارکن کلاس کا بچا کھچا مال ابھی پیپلز پارٹی کے پاس موجود ہے۔ آڑے وقتوں میں بلی چڑھانے کے لئے ورنہ حالات اچھے ہوتے تو ان کارکنوں کو بلدیہ عظمیٰ لاہور کی ممبری کے لئے بھی ٹکٹ نہیں ملنے تھے۔ بہر طور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اے این پی کی طرح پیپلز پارٹی کے پاس آج بھی قربانی دینے والے کارکن موجود ہیں ورنہ کون ہے جو کرائے کے تین سے پانچ مرلے کے مکان میں رہتا اور عادی سڑک چھاپ ہو۔ پھر بھی پارٹی کی خاطر آتشیں انتخابات میں کود پڑے۔ ہمارے وہ دوست جو وسطی پنجاب سے پیپلز پارٹی کے کریا کرم کی نوید دیتے نہیں تھکتے تھے پچھلی پہر سے کارکن کلاس کے امیدوار لانے پر پھبتیاں کس کر ثواب دارین حاصل کر رہے ہیں۔

اس سے انکار نہیں کہ پاکستان کی عمومی سیاست اور خصوصاً انتخابی سیاست کے چلن 1985 سے یکسر مختلف ہو چکے۔ نظریاتی سیاست کے ہو کے بس ہو کے ہیں ورنہ سیاست بھی اب منڈی کا سودا ہے اور ’’اشرافیہ‘‘ کی پشت پناہی رکھنے والی جماعت کی ٹکٹیں بالا دست طبقات لے اڑتے ہیں۔ انتخابی حلقے اور تیل و مال پانی رکھنے والے امیدواروں کو ٹکٹیں دینے کے بارے میں پیشوائے بنی گالہ شریف نے دو ہفتے قبل جن خیالات کااظہار کیا تھا ان کا گلیوں‘ بازاروں کی زبان میں ترجمہ یہ ہے کہ ’’ ٹکٹوں کو فقروں کی پہنچ سے دور رکھیں‘ جاری کرتے وقت امیدوار کی اوقات کنفرم کرلیں‘‘۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی چھتوں سے اڑ کر بنی گالہ شریف کے درختوں منڈھیروں اور بوٹوں پر جا بیٹھنے والے سینکڑوں پرندوں میں سے جن کو ٹکٹوں کی خوراک نہیں ملی وہ واپسی کے لئے اڑانیں بھرنے والے ہیں۔ چند ایک نون لیگ اور پیپلز پارٹی میں واپس بھرتی بھی ہوچکے۔ سیاست کے بازار اور انتخابی منڈی کے سودے یہی ہیں۔ مسائل نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو درپیش ہیں تو تحریک انصاف کے لئے بھی پیدا ہونے والے ہیں اس لئے وسطی پنجاب کے بزرگ صوفی شاعر حضرت میاں محمد بخشؒ فرماگئے تھے ’ دشمن مرے تے خوشی نا کرئیے سجناں توں وی مرجاناں‘‘۔ دوسری طرف صورت یہ ہے کہ ایم ایم اے میں شامل تحریک جعفریہ کو الائنس والوں نے اپنے تانگے پر سوار تو کرلیا ہے لیکن چاروں صوبائی یا قومی اسمبلی کے لئے ان کی جماعت کا کوئی امیدوار نہیں بنایا‘ کیوں؟۔ اس سوال کاجواب صرف مولانا فضل الرحمن ہیں جو گھاٹے کاسودا نہیں کرتے۔ خیر یہ اہل اسلام کی اندرونی کتھائیں ہیں ہمیں کیا وہ خوش ہیں چاکری پر تو سوال کس لئے اٹھائیں۔ ہاں بعض کالعدم جماعتوں کے معاملے میں الیکشن کمیشن کے دوہرے معیار پر رائے دہندگان حیران و پریشان ہیں۔ قانون موم کی ناک ہے جدھر چاہے ’’پیا‘‘ موڑ دے۔ ’’پیا‘‘ راج کو جو مرضی نام دیجئے سچ یہی ہے کہ ستر برسوں سے اصل حکمران ’’ پیا‘‘ ہیں ان کی مرضی سے سب کچھ ہوتاہے۔ پیپلز پارٹی کو دوسرے مرحلہ میں سرائیکی وسیب کے لئے قومی اور صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کی حتمی لسٹ جاری کرنا ہے ہوسکتاہے کہ ان سطور کی اشاعت تک وسطی پنجاب کے بقایا حلقوں کے ساتھ سرائیکی وسیب سے وہ اپنے امیدواروں کااعلان کردے۔ امیدواروں کی حتمی لسٹ سامنے آنے پر ہی یہ عرض کیا جاسکتاہے کہ پنجاب کے دونوں حصوں سے اس کے کتنے امیدوار کامیاب ہو پائیں گے۔ فی الوقت یہ کہ کم از کم اس نے امیدوار تو دئیے اور ان لوگوں کا منہ بند کروایا کہ پی پی پی والے اپنی ٹکٹیں جیتو پاکستان نامی کسی پروگرام میں بھجوا رہے ہیں جہاں ایک ساتھ ایک ٹکٹ مفت ملے گا۔

اب آئیے ابتدائی سطور کے دو سوالوں پر غور کرتے ہیں۔ خاکم بدہن ایسا لگتاہے کہ جس طرح نون لیگ پر مذہبی جارحیت سے کچھ حلقے حملہ آور ہیں ایسے میں اسے انتخابی مہم چلانے میں دقت ہوگی۔ ایسا ہواتو فساد خلق کا خطرہ ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کی بنیاد پر ہمزاد فقیر راحموں دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس خون خرابے میں انتخابات گم ہوجائیں گے۔ اللہ کرے ایسا نہ ہو اور الیکشن کمیشن سمیت تمام متعلقہ ادارے انتخابی ماحول کو تمام فریقین کے لئے ساز گار بنائے رکھنے کا فرض اداکرے۔ ثانیاً یہ کہ کیا تحریک انصاف اپنے دعوے کے موجب واقعتا قومی اسمبلی کی 150نشستیں جیت لے گی؟قدرے مشکل ہے150 نشستیں حاصل کرنا‘ گئے گزرے حالات میں بھی نون لیگ اور پیپلز پارٹی اسے ٹف ٹائم دیں گی کے پی کے میں اے این پی موجودہے پھر ایم ایم اے مگر پر امن انتخابات کے لئے اداروں کا غیر جانبدار رہنا ضروری ہے جو ابھی تک ممکن نہیں ہو پایا۔

متعلقہ خبریں