Daily Mashriq

بد صد سامان رسوائی سر بازار می رقصم

بد صد سامان رسوائی سر بازار می رقصم

گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل‘ کبھی تو یوں بھی ہوتاہے کہ اخبارات کی سرخیوں پر بار بار نظر دوڑانے سے بھی گوہر مراد کاملنا ممکن نہیں ہوتا۔ یعنی کوئی ایسا موضوع توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہی نہیں ہوتا جس پرکالم باندھا جائے مگر کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کئی سرخیاں چنگھاڑتی ہوئی اپنی جانب توجہ مبذول کر رہی ہوتی ہیں کہ جاایں جاست۔ ان سرخیوں میں ایسی بھی ہوتی ہیں جو الگ الگ سے کالم کی متقاضی ہوتی ہیں اور جو رہ جاتی ہیں ان پر لکھنے کا یا تو بعد میں موقع نہیں ملتا یا پھر اگلے روز وہ باسی خبروں میں شامل ہو جاتی ہیں اور زیادہ اہم موضوعات سامنے آچکے ہوتے ہیں۔ آج بھی لگ بھگ ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔ کئی خبریں پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ ہماری اہمیت کسی سے کم نہیں اس لئے آج یہی سوچا ہے کہ مختلف خبروں پر ضرورت کے تحت تبصرہ کرکے انہیں ضائع ہونے سے بچایا جائے۔ گویا بقول میر تقی میر

یوں پکارے ہے مجھے کوچہ جاناں والے

ادھر آبے‘ ابے او چاک گریباں والے

تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ اکثریت نہ ملی تو اپوزیشن میں بیٹھیں گے۔ مخلوط حکومت کا خیبر پختونخوا میں تلخ تجربہ ہوا۔ اتحادیوں کو کنٹرول کرنا آسان نہیں۔ زرداری سے مل کر حکومت بنانی ہے تو اقتدار میں آنے کا کیا فائدہ۔ ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران جن خیالات کا اظہار عمران خان نے کیا ہے ان کے علاوہ پاک پتن شریف میں بابا فرید گنج شکر کے مزار پر ہونے والے واقعہ کے بارے میں بھی انہوں نے وضاحت کی ہے جس پر ہم اس لئے حرف زنی سے گریز کر رہے ہیں کہ سوشل میڈیا پر پہلے ہی کپتان کے معترضین اور حامیوں کے مابین ٹیسٹ میچ جاری ہے۔ اس لئے خود کو کپتان کے ان خدشات تک ہی محدد رکھنا چاہتے ہیں جو ’’عمران وزیر اعظم‘‘ کے بلندآہنگ دعوئوں کے علی الرغم اچانک اس احساس کی غمازی کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ شاید اب کپتان خود بھی مایوس ہو رہے ہیں۔ حالانکہ محولہ ٹی وی انٹرویو سے پہلے تو پوری پارٹی عمران وزیر اعظم کی ’’دیوالی‘‘ میں رنگی ہوئی تھی اور ’’ ناچ ناچ‘‘ کر بلکہ ’’بھنگڑے‘‘ ڈال ڈال کر ابھی سے کپتان کو وزارت عظمیٰ کے سنگھا سن پر براجمان کرانے کے ترانے گا رہی تھی۔ اب اچانک یہ کیا صورتحال ہوگئی کہ کایا کلپ کی شکل واضح ہونے لگی ہے؟ اس حوالے سے ایک خبرتو خود پارٹی کے اندر گروپ بندی کی وہ اطلاعات ہیں جن کی تصدیق خودکپتان نے بھی حال ہی میں ایک اور ٹی وی انٹرویو میں کی ہے اور اب تازہ ترین اطلاعات کپتان کے انتہائی قریبی ساتھی جہانگیر ترین کا اہل خاندان کے ہمراہ لندن سدھارنا ہے جبکہ ان کے حامیوں سے بعض مقامات پر ٹکٹوں کی واپسی اور شاہ محمود قریشی کی سفارش پر ان کی تقسیم ہے۔ یہ خبریں بھی گردش کرتی رہیں کہ جہانگیر ترین کی نا اہلی کے بعد کپتان نے اپنے لئے دوسرا ’’پائلٹ‘‘ ڈھونڈ نکال کر ترین کو اس کے اصل مقام پر پہنچا دیا تھا یعنی زلفی بخاری کی شکل میں اڑان بھرنی شروع کردی تھی۔ بہر حال موجودہ ’’مایوسی‘‘ کا کارن شاید وہ خبریں بھی ہوں جن کے مطابق خود پارٹی کی صفوں میں ایسی مبینہ سازشیں سامنے آرہی ہیں کہ پارٹی کلین سویپ نہ کرے تو مجبوراً زرداری کے ہاتھوں ایک اور اپ سیٹ یہ ہوسکتا ہے کہ وہ کپتان کی جگہ کسی اور کو وزیر اعظم بنانے کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ ایسی صورت میں اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کی ’’ امیدیں‘‘ بر آسکتی ہیں۔

ہمیں خبر ہے ہماری صفوں میںشامل ہیں

چراغ بجھتے ہی خیمہ بدلنے والے لوگ

خبر ہے کہ سابق وزیر مملکت رانا افضل کو حلقے میں ووٹرز نے گھیر لیا۔ گزشتہ روز خورشید شاہ‘ مراد علی شاہ اور ناصر شاہ کو بھی وٹرز نے گھیر کر اپنے غصے کا اظہار کیا تھا۔ یہ تو خیر ایک خبر ہے جبکہ مختلف چینلز پر دیگر سیاسی رہنمائوں کے حوالے سے بھی ایسی ہی خبریں سامنے آرہی ہیں اور سوشل میڈیا پر تو مزید براحال دکھائی دے رہا ہے۔ جہاں ایک لیڈر کے پیچھے لوگ لٹھ لیکر دوڑ پڑے تھے۔ پتہ نہیں ان کی کیا درگت بنائی۔ درگت بنی بھی یا نہیں۔ اور وہ جان بچانے میں کامیاب ہوئے یا نہیں لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ اب عوام ماضی کی بہ نسبت زیادہ جاگ چکے ہیں۔ تاہم یہ شور و غوغا آرائی بھی وقتی ابال ہے اس لئے کہ سیاسی جماعتوں نے جن لوگوں کو کروڑوں کے عوض ٹکٹ فروخت کئے ہیں وہ یہی لوگ تو ہیں۔ ایک نہیں تو دوسرا‘ جو بھی منتخب ہو کر آئے گا اگلے پانچ سال کے لئے اس نے عوام کے ساتھ پھر وہی سلوک روا رکھنا ہے جو موجودہ ممبران یا وزیروں نے رکھا تھا۔ کیونکہ سارا سسٹم ہی کرپٹ اور پیسے کاکھیل بن چکا ہے۔ جس میں غریب صرف ووٹ دینے پر مجبور ہے۔ اس لئے جب تک اس کرپٹ نظام کو بیخ و بن سے اکھاڑنے کی تدبیر نہیں کی جائے گی یہی لوگ ہم پر مسلط رہیں گے۔ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ متوسط طبقے کا کوئی بھی امیدوار میدان میں نہیں چہ جائیکہ عام غریب لوگ۔ (باقی صفحہ7)

اور جب الیکشن کو دولت کے بل بوتے پر لڑنے والے سامنے آئیں گے تو انہیں کیا پاگل کتے نے کاٹا ہے کہ عوام کے غم میں اتنی دولت خرچ کرکے صرف خدمت کا ثواب کمائیں گے؟ یہ ایک انڈسٹری ہے جس میں آج دو چار کروڑ خرچ کرو اور اگلے پانچ سال میں ’’مع سود‘‘ اربوں بنا کر عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے دوڑاتے رہو۔

خورشید عمر برسر دیوار و خفتہ ایم

فریاد بردرازیٔ خواب گران ما

سابق وزیر اعلیٰ اور سابق وزیر خزانہ خیبر پختونخوا نے مقامی حکومتوں کے فنڈز سے کٹوتی کرتے ہوئے 83کروڑ روپے سے زیادہ رقم اپنی صوابدید پر خرچ کردی۔ ایک خبر کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ کے آبائی ضلع نوشہرہ میں 49 کروڑ روپے خرچ کئے گئے جبکہ صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید نے اپنے آبائی ضلع لوئر دیر میں 20کروڑ روپے سے زائد خرچ کئے حالانکہ صوبے کے9اضلاع مذکورہ صوابدیدی فنڈ سے محروم رہے۔ اس خبر کی تفصیل میں جانے کی بجائے ہم صرف یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ تحریک انصاف کے وزیر اعلیٰ سے لے کر دیگر وزراء پر تو الزام پہلے ہی لگتے رہے ہیں مگر جماعت اسلامی کے وزراء خود کو منزہ عن الخطا قرار دے کراپنے دامن نچوڑنے سے فرشتوں کے وضو کرنے کے دعوے کرتے آئے ہیں۔ تو پھر اسے کیا کہاجائے؟ یعنی چوں کفراز کعبہ برخیزد کجا ماند مسلمانی؟؟

بیا جانا تماشا کن کہ درانبوہ جانبازاں

یہ صد سامان رسوائی سربازار می رقصم

متعلقہ خبریں