Daily Mashriq

دل چاہتا تھا ہدیہ دل پیش کیجئے

دل چاہتا تھا ہدیہ دل پیش کیجئے

اگرکوئی اس کو خوش آمد پر محمول نہ کرے تو نگران وزیر اعلیٰ کے ساتھ آج تک ملاقات نہ ہونے کے باوجود دو چار بہت گہرے تعلق نکل آئے ہیں۔ پہلا تعلق تو نام کا ہے کہ میں ان کا ہم نام ہوں۔ چونکہ میڈیا والے آج کل بعض اوقات جسٹس(ر) نہیں لکھتے بلکہ خبر یا بیان کے ساتھ صرف دوست محمد لکھ دیتے ہیں تو ہمارے محدود حلقہ احباب کو ابتداء میں ہمارے نام کا بھی شائبہ ہوا حالانکہ میں نہ اس قابل ہوں اور نہ ہی آج تک اس کا تصور کیا ہے کہ کبھی ہمارے سر پر بھی ہما بیٹھ سکتا ہے۔ لیکن پچھلے دنوں پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر شبیر منصوری نے فون کیا اور کہا کہ ہم تو پختونخوا میں دو ہی دوست محمد جانتے ہیں ایک نگران وزیر اعلیٰ جسٹس ریٹائرڈ دوست محمد خان اور دوسرے پروفیسر دوست محمد خان۔خدا گواہ ہے کہ اس بات پر بھی ہمیں کافی خوشی ہوئی کہ وزیر اعلیٰ کے مصاحبین میں نہ سہی کم از کم ہم نام ہونے کے سبب دوست احباب کو وزیر اعلیٰ کے بیانات اور ٹیلیفون پر ذکر خیر کے ساتھ ہماری یاد بھی آہی جاتی ہے۔

دوسرا تعلق یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ بنوں کے جس کالج سے پڑھے ہیں وہاں ان کے جونیئر سیشن فیلو کی حیثیت سے ہم نے بھی ماہ و سال گزارے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ نگران وزیر اعلیٰ نے مکتب عشق کے دستور پر عمل کیا اور انہیں چھٹی نہ ملی اور عدالت عالیہ پاکعستان کے اعلیٰ مناصب پر فائز ہو کر خدمت ملک وقوم کرتے رہے۔ اور ہم بقول اقبال

مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے

نظارے کی ہوس ہو تو لیلیٰ بھی چھوڑ دے

کی مصداق ہو کر غربت کے ہاتھوں مجنوں سے منسوب صحرائوں کی خاک چھانتے ہوئے پیٹرو ڈالر کی تلاش میں ایک عشرہ تک صحرا نشین رہے۔

جسٹس صاحب کے ساتھ تیسرا تعلق یہی ہے کہ وہ ہمارے وزیر اعلیٰ( نگران) ہیں۔ اور اس حیثیت میں اچھے اچھوں کا دل چاہتا ہوگا کہ ہم بھی آپ کے قافلے میں ہوتے۔لیکن یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا۔ البتہ خوشی اس بات کی ہوئی کہ میرا کلاس فیلو ڈاکٹر عبدالرئوف خٹک اور میرے جامعہ پشاور کی محترمہ ڈاکٹر سارہ صفدر کا انتخاب یا چنائو ایسا ہی ہے۔ جیسا میرا پورا ضلع اور میرا مادر علمی جامعہ پشاور پورے کا پورا نگران کابینہ میں شامل ہے۔

اور اسی بناء پر ہم ویسے ہی ان کے ساتھ اور نگران وزیر اعلیٰ کے ساتھ تعلق پر اور یہ تعلق دور ہی کا سہی اتراتے پھرتے ہیں۔ بقول غالب

واں کے نہ سہی واں سے نکالے ہوئے تو ہیں

ان بتوں سے بھی نسبت ہے کعبے سے دور کی

چوتھا اور آخری تعلق نگران وزیر اعلیٰ کے ساتھ میدان تعلیم کا ہے۔ ہم پختونخوا کے لوگ خوش قسمت ہیں کہ ہمارے خاکستر میں ایسی چنگاری بھی ہے جو جسٹس ریٹائر ڈ اور نگران وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجود پختونخوا کی تاریخ میں پہلی شخصیت ہیں جو پشاور بورڈ کے میٹرک کے امتحان میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کو اپنے فنڈ سے خصوصی انعامات دینے اور ان ذہین طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لئے بنفس نفیس پشاور بورڈ تشریف لا کر چیئر مین بورڈ ڈاکٹر فضل الرحمن اور بورڈ کے دیگرعملہ اور طلبہ و طالبات کے ساتھ اس اہم تقریب میں شریک ہوئے جس سے طلباء کی کافی حوصلہ افزائی ہوئی ہوگی اور ان میں تعلیم حاصل کرنے کا جذبہ مزید بڑھا ہوگا۔

نگران وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر جن زریں خیالات کا اظہار کیا ہے کہ تعلیم کے لئے چالیس فیصد بجٹ مختص کرنا لازمی ہوگیا ہے۔ اللہ کرے کہ آپ اپنے باقی ماندہ بائیس دنوں میں اس کے لئے بنیاد ڈالیں اور چار ماہ کے لئے بجٹ میں تعلیم کے اڑتالیس ارب دس کروڑ کی خطیر رقم کا مختص ہونا اسی بات کی علامت ہے لیکن منتخب حکومتوں سے اس کی توقع بہت کم ہے۔ لیکن اب شاید تعلیم کے معاملات کو پس پشت ڈالنا بھی ممکن نہ ہوگا۔ عوام کے سیاسی شعور کی بیداری سے اچھی تبدیلیوں کی توقعات ہیں۔

جہاں تک تعلیم کے لئے قومی کمیشن بنانے کی بات ہوتی ہے یہ سونے کے حروف سے لکھنے کی بات ہے۔ اور یکساں نظام تعلیم وطن عزیز کے نظریاتی اور دفاعی و جغرافیائی استحکام کے لئے ناگزیر ہے۔ لیکن جاگیر داروں‘ وڈیروں اور سرمایہ داروں کے ملک میں ایں خیال است و محال است و جنوں۔

استاد اور شاگرد کے درمیان احترام کے رشتوں کی کمزوری بھی تعلیم میں سرمایہ داروں کی سرمایہ کاری کا شاخسانہ ہے۔ تعلیم اب عبادت نہیں تجارت بن چکی ہے۔جس سے تعلیم کا معیار روز بروز گر رہا ہے اور حالیہ میٹرک کے نتائج اس کا بین ثبوت ہیں۔ جہاں تعلیم بکتی ہو وہاں استاد صرف ایک سیلر اور مزدور ہی ہوسکتا ہے اور اساتذہ صبح و شام دیہاڑیاں لگا رہے ہیں۔ اقبال کا شاہین ہم سے کب کا اڑ چکا ہے اس لئے فرمایا تھا

تھا وہ کبھی وقت کہ خدمت استاد کے عوض

دل چاہتا تھا ہدیہ دل پیش کیجئے

بدلا زمانہ ایسا کہ لڑکا پس از سبق

کہتا ہے ماسٹر سے کہ بل پیش کیجئے

جان کی امان پائوں تو عرض کروں کہ کاش نگران وزیر اعلیٰ کے پاس کچھ زیادہ ہی مدت ہوتی تو ہم بھی ان کے ساتھ اس قومی درد‘ غم و فکر میں شریک ہو کر پھرتے اور کچھ نہ کرسکتے تو اتنا تو کہتے کہ بقول غالب

بنا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا

ورنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے

متعلقہ خبریں