Daily Mashriq

ارکان اسمبلی قبضہ گروپ کا کردار اختیار نہ کریں

ارکان اسمبلی قبضہ گروپ کا کردار اختیار نہ کریں

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے قبائلی اضلاع کے انتخابات میں نئے ارکان کی رہائش کے انتظام کے پیش نظر صوبائی اسمبلی کے ارکان کو ایم پی ایز ہاسٹل میں اضافی کمرے خالی کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے لیکن ارکان اسمبلی نے قبائلی اضلاع سے منتخب ہونے والے ایم پی ایز کیلئے کمرے خالی کرنے سے انکار کرتے ہوئے تجویز دی ہے کہ ان کیلئے شاہی مہمان خانہ میں رہائش دی جائے۔ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع میں انتخابات کے بعد جنرل اور خصوصی نشستیں ملا کر کل اکیس اراکین صوبائی اسمبلی کیلئے ایم پی ایز ہاسٹل پشاور میں کمرے خالی کرانے کے نوٹس پر ممبران اسمبلی کا انکار اور ان کیلئے شاہی مہمان خانہ میں رہائشی انتظامات کی تجویز اس لئے بلاجواز ہے کہ ایم پی ہاسٹل میں ابھی اتنی گنجائش اور وسعت موجود ہے۔ ارکان اسمبلی کو اضافی کمرے خالی کرنے کے نوٹس کا مطلب یہی ہے کہ ان کے پاس استحقاق کے علاوہ اضافی کمروں کا قبضہ بھی موجود ہے جسے وہ چھوڑنے پر تیار نہیں۔ ایم پی اے ہاسٹل میں سوائے ممبر صوبائی اسمبلی اور متعلقہ عملہ کے کسی کی بھی رہائش غیرقانونی ہے مگر آئین ساز ادارے کے اراکین جو خود کو عوامی نمائندے کہلوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں مگر ان کا کردار وعمل عوامی نہیں خواص کا ہے۔ بعض اراکین اسمبلی نے ضرورت سے زائد کمروں پر قبضہ کرکے پارٹی عہدیداران اور عزیز واحباب کے حوالے کر دیا ہے جہاں ان کو مفت کی گیس وبجلی کیساتھ بغیر استحقاق کے شاندار رہائشی سہولت میسر ہے۔ کم ہی ایسے اراکین اسمبلی ہوں گے جن کی پشاور میں ذاتی رہائش نہ ہو، بہرحال استحقاق کے مطابق کمرہ رکھنا ان کا حق ہے مگر اضافی کمروں پر قبضہ اور نوٹس کے باوجود خالی کرنے سے انکار کی گنجائش نہیں، لیکن وہ بضد ہیں کہ قبائلی اضلاع سے آنے والے اراکین کیلئے کمرے خالی نہیں کریں گے، اس انکار کا سپیکر صوبائی اسمبلی کو سخت نوٹس لینا چاہئے۔ اس موقع سے استفادہ کرتے ہوئے نہ صرف مطلوبہ تعداد میں کمرے خالی کرائے جائیں بلکہ جن جن ممبران اسمبلی نے اضافی کمروں پر غیرقانونی طور پر قبضہ کر رکھا ہے وہ کمرے واگزار کرائے جائیں اور مدت استعمال کا ان سے کرایہ، گیس، پانی اور بجلی کا بل بھی وصول کیا جائے۔

بی آر ٹی سب قابل اطمینان' مدت تکمیل کا عدم یقین

خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری محمد سلیم خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزاد بنگش اور ڈی جی پی ڈی اے انجینئر محمد عزیر اور دیگر اعلیٰ حکام کا بی آر ٹی کے تعمیراتی کام کا جائزہ لیکر کام کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت اطمینان کا باعث امر ضرور ہے تمام تر مساعی کے باوجود بی آر ٹی کی تکمیل اور افتتاح کے حوالے سے مسلسل خاموشی سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ حکومتی ادارے اس کی تکمیل اور آغاز بارے غیریقینی کا شکار ہیں۔ حکام کا یہ قرار دینا تسلی کا باعث امر ہے کہ بی آر ٹی کیلئے جدید بسیں منگوائی گئی ہیں۔ بس میں مُسافروں کے آرام اور سہولت کیساتھ ساتھ جدید دور کی تمام سہولیات موجود ہیں۔ بسوں میں اِنٹرنیٹ کی موجودگی متاثر کن ہے۔ بسوں کا معیار ترقی یافتہ ممالک جیسا ہے۔ بسوں کی معقول تعداد بھی آچکی ہے لیکن اس کے باوجود عوام کو یہ نہیں بتایا جا رہا ہے کہ اس منصوبے سے وہ کب تک استفادہ کر سکیں گے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کو چاہئے کہ وہ بی آر ٹی کی مدت تکمیل کے حوالے سے متعلقہ حکام سے مشاورت کے بعد افتتاح کی متوقع تاریخ کا اعلان کریں تاکہ انتظار کی گھڑیاں ختم ہوں اور عوام کو باسہولت ذریعہ سفر میسر آنے کی آس پیدا ہو۔

نانبائیوں کو سستے داموں آٹا دیا جائے

پشاور میں کم وزن اور مقرر ریٹ سے زائد پر روٹی فروخت کرنے پر ضلعی انتظامیہ کی طرف سے 16نانبائیوں کی گرفتاری مسئلے کا حل اس لئے نہیں کہ نانبائی گھاٹے کا سودا کیسے کریں۔ آٹے کی قیمت میں اضافہ، گیس کی قیمتوں میں باربار اضافہ، بجلی کی قیمت میں اضافہ اور مہنگائی کے باوجود مقررہ قیمت اور وزن پر روٹی فروخت کرنے کو یقینی کیسے بنائیں۔ ان سوالات کا چھاپہ مارنے والے حکام کے پاس بھی جواب نہ ہوگا۔اس کے باوجود ڈپٹی کمشنر پشاور نے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنرز کو اپنے علاقوں میں نانبائیوں کی بلاتعطل نگرانی کی ہدایت کی ہے اور کم وزن روٹی یا مقرر ریٹ سے زائد پر روٹی فروخت کرنے والوں کیخلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔ ہم روٹی کی قیمت بڑھانے کے نانبائیوں کے اقدام کی وکالت تو نہیں کرتے لیکن انتظامیہ کی غیرحقیقت پسندانہ اقدامات کی بھی حمایت نہیں کی جاسکتی۔ انتظامیہ نانبائیوں کو سستے آٹے کی فراہمی کا بندوبست کرسکے تو مسئلہ حل ہوسکتا ہے بصورت دیگر نانبائی یا تو عوام پر بوجھ ڈالیں گے یا پھر کاروبار بند کرنے پر مجبور ہوں گے۔

متعلقہ خبریں