Daily Mashriq

معاشی صورتحال کی بہتری کیلئے ملکی حالات کی اصلاح کی ضرورت

معاشی صورتحال کی بہتری کیلئے ملکی حالات کی اصلاح کی ضرورت

پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بجا طور کہا ہے کہ ملک کی سیکورٹی اور معیشت کے درمیان ناقابل تردید ربط ہے کیونکہ دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ معاشی خودمختاری کے بغیر کسی قسم کی خودمختاری ممکن نہیں ہے۔ معیشت کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ قومی اہمیت کے امور پر حکومت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی کھل کر بات چیت ضروری ہے۔ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کے حوالے سے جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ہم مالیاتی بدانتظامیوں کی وجہ سے مشکل معاشی صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ ماضی میں ہم مشکل فیصلے لینے سے گھبراتے رہے ہیں جس کی وجہ سے مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں حکومت نے طویل المدتی فائدے کیلئے مشکل اور نتیجہ خیز فیصلے کئے ہیں۔ اس ضمن میں ہم سب کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ حکومت کے یہ مشکل اقدامات کامیاب ہوں۔ آرمی چیف نے کہا کہ ماضی قریب میں ایسی مثالیں موجود ہیں جب دیگر ممالک نے بھی ایسے ہی چیلنجز کا سامنا کیا اور وہ مشکل فیصلے لیکر کامیابی کیساتھ باہر نکلیں۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجودہ نے خطے میں امن کے قیام کی بحالی کیلئے پاکستان کی کوششوں کو اُجاگر کیا اور کہا کہ یہ کوششیں بہتر تجارتی رابطوں کی طرف لیکر جائے گی۔ خطے میں رابطوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آرمی چیف نے ایک بار پھر اپنے ویژن کو دہرایا کہ کوئی ملک تنہا ترقی نہیں کر سکتا، یہ خطہ ہوتا ہے جو ترقی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے خطے کی ترقی کیلئے ہمیں اپنے تقریباً تمام ہمسایوں کیساتھ وسیع رابطہ کاری کی ضرورت ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا ملکی معاشی صورتحال کا تذکرہ اور اس ضمن میں حکومت کو تعاون کی مکمل واضح اور کھلم کھلا یقین دہانی اور تعاون کی اہمیت اپنی جگہ ضرور ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک پہلو ہے اس کا اس سے زیادہ ضروری، مضبوط اور دنیا کیلئے قابل قبول اور کشش کا حامل پہلو یہ ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام آئے' جمہوری ادارے مضبوط ہوں' پالیسیوں کا تسلسل اور ملک میں ہم آہنگی ہو۔ ہمسایہ ممالک اور بالخصوص سرحدوں سے متصل ممالک کیساتھ ساتھ خطے کے تمام ممالک کیساتھ سفارتی اور تجارتی دونوں قسم کے تعلقات مضبوط' مربوط اور مستحکم ہوں تاکہ جہاں خطے کے ممالک کے درمیان بہتر تجارتی روابط استوار ہوں وہاں موافق تجارتی اور کاروباری ماحول، بین الاقوامی سرمایہ کاروں کیلئے موزوں سرمایہ کاری کے مواقع اور کشش کا باعث بنیں۔ اس بات سے مفر ممکن نہیں معاشی استحکام کیلئے سیاسی استحکام کی ضرورت ہوتی ہے اور سیاسی استحکام اس وقت آتا ہے جب تمام ادارے آئین کے تحت اپنے حدود وقیود میں اپنی ذمہ داریاں احسن طور پر انجام دیں۔ سیاسی استحکام کے بعد اداروں کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کی فضا ہونی چاہئے اگر ان دونوں معاملات کو گاڑی کے اگلے اور پچھلے دو دو پہیوں کی مثال دیں تو زیادہ مناسب ہوگا۔ گاڑی کا ایک ٹائر بھی کمزور ہو تو گاڑی کی رفتار پر اثرانداز ہونا فطری امر ہے۔ اس بات سے انکار کی گنجائش نہیں کہ ماضی کی حکومتوں کے آسان فیصلے ملکی معیشت کو زیربار لانے کا باعث بنتے رہے۔ موجودہ حکومت کی پالیسی کے ثمرات کی تو توقع نہیں لیکن کم ازکم حالات کو سنبھالا دینے میں بھی حکومت کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی اور معاشی حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ روپے کی قیمت گر رہی ہے اور قرضوں پر قرضے لینے کے باوجود بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ حکومتی فیصلوں کے باعث جاری صورتحال میں عوام کی مشکلات میں اس قدر اضافہ نہیں ہونا چاہئے کہ بحران اور قحط کی صورتحال سے خدانخواستہ واسطہ پڑے۔ جہاں تک خطے میں امن وامان اور تجارتی روابط بڑھانے کی بات ہے اس کیلئے گزشتہ حکومتوں کی مساعی کی کسی نہ کسی سطح پر مخالفت اور مزاحمت کوئی راز کی بات نہیں۔ عدم آہنگی کی فضاء کے باعث گزشتہ ادوار میں اس ضمن میں پیشرفت نہ ہوسکی اب جبکہ ہمیں اس کا احساس ہو چکا ہے اور پاکستان ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے تو دوسری جانب سے یا کم ازکم بھارت کی جانب سے اس وقت تک اطمینان بخش جواب ملنا تو درکنار بھارت اس امر پر آمادہ ہی نظر نہیں آتا کہ وہ پاکستان کیساتھ تجارتی روابط میں اضافہ کرے۔ افغانستان کی جانب سے قدرے بہتری کا عندیہ ضرور ہے لیکن آگے بڑھنے کا دار ومدار حالات پر ہوگا جو دونوں ممالک کے درمیان کبھی بھی یقینی نہیں رہے۔ بھارت کیساتھ تعلقات معمول پر آنے اور تجارتی روابط میں اضافہ کی صورتحال فی الوقت حوصلہ افزاء نہیں ہمسایہ ممالک کیساتھ تعلقات کی بہتری اور روابط استوار کرنے کیلئے ماحول کی تیاری بھی ملک میں اندرونی سیاسی استحکام اور پوری قوم کے متحد ہونے کے بعد ہی ممکن ہوسکے گی۔ بہتر ہوگا کہ حزب اختلاف کی میثاق معیشت کی تجویز پر بھی غور کیلئے ماحول کو سازگار بنایا جائے اور کوئی متفقہ قومی لائحہ عمل مرتب کرکے ملک وقوم کو ان مشکل حالات سے نکالنے کی متحدہ سعی کی جائے۔

متعلقہ خبریں