Daily Mashriq

امیرقطر پاکستان کیوں آئے؟

امیرقطر پاکستان کیوں آئے؟

12مئی کو خلیج عمان میں سعودی اور اماراتی تیل ٹینکروں پر مبینہ حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں پائی جانے والی کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی۔ ٹھیک ایک ماہ بعد12جون کو ناروے اور جاپان کے ٹینکر سمندری مائنز کی زد میں آئے۔ امریکا، سعودی عرب اور عرب امارات نے الزام ایران پر دھرا۔18جون کو ایران نے امریکی ڈرون مار گرایا، جس کے اگلے ہی دن امریکی صدر نے ایران پر حملے کا حکم دیا اور تیاریاں مکمل ہونے کے بعد حملے سے صرف نصف گھنٹہ پہلے احکامات واپس لے لئے۔امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن، وزیرِخارجہ مائیک پومپیو اور صدر ٹرمپ کے داماد جارڈ کشنر نے ایران کیخلاف مشرق وسطیٰ کے اتحاد کی تشکیل کیلئے ہنگامی دورہ شروع کیا۔ دوسری طرف قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی، بھوربن میں افغان سیاستدانوں کی کانفرنس کے دوران اسلام آباد پہنچے۔ایران کیساتھ امریکا کی انتہا کو پہنچتی کشیدگی کو پاکستانی سوشل میڈیا دانشور پاکستان کا گھیراؤ کرنے کی سازش قرار دیتے نظر آئے۔ ان دانشوروں کے دلائل کو تسلیم کرنے سے پہلے واقعات کی کڑیاں دیکھنا ضروری ہیں کہ حالات اس نہج تک کیوں اور کیسے پہنچے۔ایران کی امریکا اور عرب ملکوں کیساتھ کشیدگی کوئی نئی بات نہیں لیکن سابق امریکی صدر بارک اوباما کے دور میں ایرانی جوہری پروگرام پر بین الاقوامی طاقتوں کیساتھ معاہدے نے اس کشیدگی کو کچھ عرصے کیلئے دبا دیا تھا لیکن چونکہ نئے آنے والے صدر ٹرمپ کے اوباما سے تعلقات اچھے نہیں اس لئے انہوں نے اپنے پیشرو کیساتھ ذاتی مخاصمت کی بنیاد پر ناصرف اندرون ملک ان کے کئی پروگراموں کو بند کیا بلکہ خارجہ پالیسی میں بھی اوباما دور کے معاہدوں اور پالیسیوں کو لپیٹنے کی کوشش کی۔ایران کیساتھ امریکا کی کشیدگی کم کرنے کیلئے جو ملک سرگرم ہیں ان میں جاپان، عمان اور قطر نمایاں ہیں۔ امیر قطر مبینہ طور پر16مئی کو خفیہ دورے پر تہران پہنچے اور صدر روحانی سے ملاقات کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قطر امریکی سینٹرل کمانڈ کا ہیڈکوارٹر بھی ہے۔ افغان طالبان کا سیاسی دفتر بھی دوحہ میں ہے۔ روس کیساتھ قطر کی گیس کے شعبہ میں بڑی شراکت داری بھی ہے۔ امریکا کے دوسرے عرب اتحادیوں کیساتھ مخاصمت ہے۔ ان حالات میں افغان امن عمل کیلئے بھوربن کانفرنس کے موقع پر امیر قطر کا دورہ اسلام آباد کئی حوالوں سے اہم تھا۔ بین الاقوامی تنازعات کو سفارتکاری کے ذریعے حل کرانے اور کشیدگی کم کرانے کیلئے قطر کا کردار برسوں سے اہم ہے۔بھوربن کانفرنس کے موقع پر امیر قطر کی آمد نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ افغان طالبان کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ وہ پاکستان کے زیراثر ہیں لیکن قطر کا اثر ورسوخ کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس وقت کوشش ہو رہی ہے کہ طالبان کسی طرح افغان فریقین کیساتھ میز پر اکٹھے ہوں لیکن طالبان امریکی انخلا سے پہلے اس پر تیار نہیں ہیں۔ بھوربن کانفرنس کے بعد دوسرا ہدف طالبان اور افغان فریقوں کو آمنے سامنے بٹھانا ہے۔امیر قطر کے دورے کی اہمیت کی دوسری وجہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ہے۔ ایران کیساتھ امریکا اور عرب اتحادیوں کا تصادم پاکستان کو بھی متاثر کر گا۔ایران تنازع کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ امریکی صدر کہتے ہیں کہ وہ جنگ نہیں چاہتے لیکن انہیں مجبور کیا جارہا ہے۔ امریکی کابینہ کے عقابوں کے علاوہ جو فریق جنگ چاہتے ہیں ان میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کیساتھ ساتھ ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا نام بھی لیا جاتا ہے۔ خلیج عمان میں سبوتاژ کی مشکوک کارروائیوں سے بھی لگتا ہے کہ کوئی فریق خطے کو جنگ میں دھکیلنے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔ ایران کو سبق سکھانے کے شدت سے خواہشمند سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں، اس سے قطع نظر وہ خود بھیانک اثرات سے محفوظ نہیں رہ پائیں گے۔ سعودی عرب کا ابھا ایئرپورٹ2مرتبہ ایران نواز حوثی باغیوں کے ڈرون حملوں کا شکار ہوچکا ہے۔ تیل پائپ لائنیں بھی محفوظ نہیں رہیں اور اگر خدانخواستہ جنگ ہوتی ہے تو عرب امارات ایرانی میزائلوں سے بھی بچا نہیں رہے گا۔ امیر قطر کے دورۂ اسلام آباد کے دوران مفاہمت کی کئی یادداشتوں پر بھی دستخط ہوئے لیکن مالی امداد یا براہِ راست سرمایہ کاری کسی اعلامئے میں شامل نہیں تھی لیکن امیر قطر کی وطن واپسی کے بعد قطری نیوز ایجنسی کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے 3ارب ڈالر ڈیپازٹ کرانے اور سرمایہ کاری کرنے کی خبر سامنے آئی۔ پاکستان کے معاشی حالات میں یہ اچھی خبر ہے اور وقتی طور پر زرِمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملے گا۔ امیر قطر کی وطن واپسی کے بعد سرمایہ کاری اور ڈیپازٹ کا اعلان امیر قطر کے کامیاب دورے کی سند ہے اور پیغام ہے کہ قطر کیساتھ موجودہ حکومت کے تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔ تحریک انصاف بطور سیاسی جماعت حکومت میں آنے سے پہلے نواز لیگ کی مخالفت میں قطری شاہی خاندان کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہے۔ وزیرِاعظم عمران خان کے دورۂ قطر کے موقع پر امدادی پیکج کی توقعات تھیں جو فوری پوری نہیں ہوئی تھیں۔ اسی طرح امیر قطر کا بھی مالی پیکج کے اعلان کئے بغیر واپس جانا مایوسی کا باعث بن رہا تھا لیکن قطر کے وزیرِ خارجہ نے مالی پیکج کے اعلان کیساتھ وزیرِاعظم عمران خان کی حکومت کی پالیسیوں کی تعریف بھی کی۔ اندرونی سیاست کی وجہ سے ایک دوست ملک کیساتھ خراب ہونے والے تعلقات کا دوبارہ معمول پر آنا نیک شگون اور اس دورے کا حاصل ہے۔

متعلقہ خبریں