Daily Mashriq

پاکستانیوں پر بجٹ ۔۔؟

پاکستانیوں پر بجٹ ۔۔؟

وزیرمملکت ریونیو حماداظہر نے نئے مالی سال کیلئے فنانس بل کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جس کو اکثریت کیساتھ ایوان نے منظور کر لی، بل میں حزب اختلاف کی جانب سے تجویز کردہ تمام تجاویز مسترد کر دی گئیں اور حکومتی ارکان کی جانب سے کئی ترامیم کو قبول کر لیا گیا، بل کی منظوری کے موقع پر حکومت کو 178ووٹ ملے جبکہ اپوزیشن کے حق میں 147ووٹ، فنانس بل کی شق وار منظوری کے مرحلے میں بی این پی مینگل کے تین ارکان آغا حسن بلوچ، ہاشم خان نوتیزئی اور ڈاکٹر شہناز نصیر بلوچ نے حکومت کے حق میں ووٹ دیا جبکہ اختر مینگل اس موقع پر ایوان سے غیرحاضر پائے گئے۔ اختر مینگل جو حکومت کیساتھ اپنے معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے پر کچھ کچھ اکھڑے اکھڑے لگ رہے تھے تاہم وزیراعظم سے ملاقات کے بعد ان کے چہرے پر ہشاش بشاش محسوس کی گئی تھی، ساتھ ہی یہ اطلاع بھی گردش کر رہی تھی کہ وزیراعظم نے بلوچستان کی ترقی کیلئے پندرہ ارب روپے دینے کا وعدہ کرلیا ہے ورنہ اس سے پہلے سردار اختر مینگل حزب اختلاف کے لیڈروں سے ملاقاتیں بھی کررہے تھے اور ساتھ ہی یہ عندیہ بھی دے رہے تھے کہ وہ مولانا فضل الرحمان کی طلب کردہ اے پی سی میں شرکت کریں گے، بجٹ کی منظوری پر پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی میں زبردستی بجٹ منظور کیا گیا اور پارلیمنٹ کی تاریخ کی بدترین دھاندلی کی گئی ہے، وہ اس عمل کی مذمت کرتے ہیں۔ ادھر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے ایک جاری بیان کے مطابق نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں پاکستانی معیشت چیلنجز اینڈ وے فاروڈ کے عنوان سے منعقد سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ قومی امور پرکھل کر بات چیت ضروری ہے، اس موقع پر سپہ سالار اعلیٰ پاکستان نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تقاریب قومی اہمیت کے مسائل پر حکومت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تبادلہ خیال کیلئے اہم ہیں، موصوف نے سیکورٹی اور معیشت کے درمیان تعلق کی اہمیت پر زور دیا کیونکہ دونوں ایک دوسرے کیلئے ضروری ہیں علاوہ ازیں آرمی چیف نے ایک اہم ترین بات یہ کی کہ معاشی خودمختاری کے بغیر کوئی دوسری خودمختاری ممکن نہیں ہے، جنرل باجوہ کی اس اہم ترین بات سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا، تاہم ماضی کی حکومت نے اس بات پر عمل کرنے کی غرض سے بھارت کیساتھ تعلقات استوار کرنے کی سعی کی تھی جس کو سبوتاژ کر دیا گیا تھا اور اس وقت کے حکمرانوں کو مودی کا یار کہہ کر موجودہ حکمرانوں نے طعنے دینا شروع کر دئیے تھے۔ جس طرح آرمی چیف نے ملک کی اقتصادی صورتحال کے گمبھیر ہونے پر روشنی ڈالی ہے وہ اپنے خطوط میں درست ہے اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا مگر اس کو سنبھالا دینے کیلئے تمام تر ذمہ داری موجودہ حکمرانوں کیساتھ سا تھ اداروں پر بھی عائد ہوتی ہے مگر دیکھنے میں آرہا ہے کہ جس انداز میں ٹیکس وصولی کی مہم چلائی جا رہی ہے اس نے پاکستان کے تاجر پیشہ افراد کا اعتماد ختم کر دیا ہے اور وہ بیرون ملک سرمایہ کاری کا سوچنے لگے ہیں۔ پاکستان میں کارخانہ داری ناپید ہے جس کی وجہ سے صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کی درآمدات ساٹھ ارب روپے سالانہ ہے اور برآمد ات بیس ارب روپے سالانہ ہے اس طرح پاکستان کو ہر سال چالیس ارب روپے کا خسارہ ہے۔ حالات اسی وقت سگھڑتے ہیں جس وقت حکومت اپنی ذمہ داری نبھائے۔ ایک طرف یہ دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ کسی کو نہیں چھوڑوں گا، دوسری طرف ٹیکس کی وصولی کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں، عالمی سطح پر یہ راگ الاپا جا رہا ہے کہ بائیس کروڑ عوام ٹیکس نہیں دیتے جبکہ عام آدمی تک قدم قدم پر ٹیکس ادا کر رہا ہے سب سے زیادہ ٹیکس تنخواہ دار طبقہ دے رہا ہے کہ وہ ہر ماہ اپنی تنخواہ وصول کرنے کیساتھ ہی ٹیکس کی کٹوتی کراتا ہے اور باقی سارے مہینے بالواسطہ عائد ٹیکس بھی ادا کرتا ہے۔ ملک کی معیشت کیلئے حکومت اور قومی ادارو ںکو سجید ہونا پڑے گا کیونکہ موجودہ پالیسیوں سے صورتحال کے سنبھلنے کے امکانات نہیں نظر آرہے ہیں۔کرنسی کارروبار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس وقت صرف وہ لوگ ڈالر خرید رہے ہیں جن کے بچے باہر پڑھ رہے ہیں یا کسی کو علاج کی غرض سے ملک سے باہر جانا ہوتاہے، گویا کاروباری طبقہ ڈالر نہیں خرید رہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تجارت تعطل کا شکار ہوکر رہ گئی ہے اگر تجارت نہ ہوگی تو ملک معاشی طور پر کیسے ترقی کرے گا۔ تجزیہ کاروں کا موقف ہے کہ حکومت کی جانب سے دعوے کئے جاتے تھے کہ بیرونی ممالک پاکستانیوں کے اثاثوں کا ان کے پاس پورا ریکارڈ ہے مگر اب یہ خوف بھی جاتا رہا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت کی دس ماہ کی پالیسیوں سے سرمایہ کاروں کو عمران خان پر جو اعتماد تھا اسے دھچکا لگا ہے، جہاں تک بجٹ سے عوامی سہولیات کا تعلق ہے تو اس بارے میں صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ جب بجٹ نافذ ہوگا اور بجلی، گیس کی قیمتیں چڑھیںگی تو مہنگائی نہ رک پائے گی، اس مہنگائی کی وجہ سے معاشی ابتری کا پیر بھی لگ سکتے ہیں۔ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کیلئے میثاق معیشت لازمی اور احسن تجویز بھی ہے مگر یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس کیلئے سیاسی طور پر اور پالیسی بنیاد پر بھی قوم کو اعتماد کی فضاء فراہم کرے اور اس کی قیادت کرے۔ موجودہ حکومت اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ حزب اختلاف میں وہ سکت نہیں ہے جو تحریک چلانے کیلئے ضروری ہوتی ہے یا پھر حزب اختلاف کی جماعتیں تحریک چلانے کے موڈ میں نہیں ہیں چنانچہ حزب اختلاف کی جماعتیں وہ مقاصد اے پی سی میں حاصل کرنے سے معذور نظر آئیں جس کیلئے اکٹھ لگایا گیا تھا، ماضی پر بھی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے کہ مسلم لیگ ن نے اپنے دور میں ایمنسٹی اسکیم کی بدولت ایک سو چوبیس ارب روپے اکٹھے کئے تھے اب اگر موجودہ حکومت اس اسکیم کی مدت میں توسیع کر ے گی بھی تو اس کو آئی ایم ایف سے منظوری لینا ہوگی جو اپنی شرائط بھی عائد کرے گی۔

متعلقہ خبریں