Daily Mashriq

پی ٹی آئی سابقہ حکومتوں کے نقش قدم پر؟

پی ٹی آئی سابقہ حکومتوں کے نقش قدم پر؟

جب کوئی اپنی ایمانداری کا دعویدار ہو لیکن اس کے باجود اس کو کام کرنے کا موقع نہ مل رہا ہو اور وہ لوگوں کو اعتماد میں لینے کیلئے ان سے مختلف قسم کے وعدے کرے کہ جب انہیں موقع ملے گا تو لوگوں کے مسائل حل ہوں گے، غریب کو دو وقت کی روٹی ملے گی، تعلیم یکساں اور عام ہوگی، مظلوم کو انصاف ملے گا اور انصاف کے یکساں مواقع میسر ہوں گے، ان وعدوں میں ایک یہ بھی ہو کہ بس ایک بار تم ہم پر اعتماد کر لو، اگر ہم اپنے وعدوں کی تکمیل نہ کر سکے تو تمہیں پورا حق ہے کہ ہمیں مسترد کردو۔ لوگ اس طرح کی باتیں کرنے والے کی باتوں میں آکر اسے موقع فراہم کرتے ہیں، انہیں کام کرنے کا پورا پورا ٹائم بھی دیا جاتا ہے یہ سوچ کر کہ برسوں کے مسائل چند دنوں میں ٹھیک نہیں ہو سکتے، اس لئے لوگوں کی طرف سے کوئی استفسار نہیں ہوتا لیکن وقت گزرنے کیساتھ ساتھ ان کے رویوں میں تبدیلی آنا شروع ہو جاتی ہے اور وہ ڈیلیور کرکے عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کی بجائے عوام کو یہ جواب دیتے ہیں کہ تباہی کے ذمہ دار سابق حکمران ہیں، یہ کہہ کر وہ مہنگائی میں ہوشربا اضافہ کردیتے ہیں اور مالی خسارہ کوپورا کرنے کیلئے عوام پر نئے ٹیکس لگا دیئے جاتے ہیں، عوام حکمرانوں کی ''کہہ مکرنیاں'' دیکھتے ہیں تو ان کی حیرت کی انتہا نہیں رہتی، اگر ٹیکسوں میں اضافہ ہی مسائل کا حل ہے تو یہ کام ماضی کے حکمران احسن طریقے سے کر رہے تھے، عوام آج سوچنے پر مجبور ہیں کہ کہاں گئے ان کے وہ دعوے اور نعرے جو یہ حصول اقتدار سے پہلے ہم سے کیا کرتے تھے، کیا ان کے نزدیک اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ ''ہمیں صرف ایک موقع دے دیا جائے ہم حالات ٹھیک کردیں گے'' یہ موجودہ حکمرانوں کی باتیں سنتے ہیں تو سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ سابق حکمرانوں اور موجودہ حکمرانوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ بس حصول اقتدار کا ایک طریقہ ہے جو وقت کیساتھ ساتھ نئے چہروں اور نئے الفاظ کیساتھ عوام کی سادگی کا فائدہ اٹھا کر اقتدار میں آجاتے ہیں۔

حکومتی دعوؤں کے برعکس ماہرینِ معیشت کہتے ہیں کہ ''اگر معیشت کی شرح نمو 8فیصد سے کم ہو تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ملک میں بیروزگاری وغربت بڑھے گی۔ موجودہ مالی سال میں 3.3فیصد شرح نمو حاصل ہوئی ہے۔ حکومت نے جو پالیسیاں اپنائی ہیں ان سے معلوم ہورہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے کم ازکم پہلے تین سال ملک میں معاشی شرح نمو نیچے ہی رہے گی اور غربت و بیروزگاری لامحالہ بڑھے گی'' دوسری طرف تحریک انصاف کی حکومت کا بس ایک ہی کام رہ گیا ہے کہ وہ ہر دو دن کے بعد یہ راگ الاپتی رہتی ہے کہ ''تمام ناکامیوں اور نامرادیوں کی ذمہ دار ماضی کی حکومتیں ہیں''۔ اب ایسے میں یہ سوال تو بنتا ہے کہ پھر آپ کس تیاری اور خاص صلاحیت کیساتھ آئے تھے کہ جس سے کم ازکم حالات ٹھیک ہونے کے اشارے تو ملتے، منزل کی طرف کچھ سفر تو شروع ہوتا۔ آپ نے اب تک ایسا کون سا قدم اُٹھایا ہے کہ جس سے عام آدمی کی مشکلات اور تکلیفیں کم ہونے کا آغاز ہی ہوگیا ہو؟ کیا حکومت نے اپنے دس ماہ کے عرصے میں مہنگائی کم کرنے، بیروزگاری کے خاتمے، غیرملکی قرضوں سے نجات کیلئے کوئی عملی قدم اُٹھائے ہیں؟ اس کا جواب نفی میں ہے کیونکہ آپ کا ہر اُٹھایا ہوا قدم ہماری غلامی کے ایک نئے سفر کا آغاز بن رہا ہے اور ہم پہلے سے زیادہ سخت اور مضبوط زنجیروں میں جکڑ لئے گئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق موجودہ حکومت صرف دس ماہ کی قلیل مدت میں پانچ ہزار ارب روپے بیرونی قرض لے چکی ہے، اب عوام میں یہ تاثر بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی اور نااہلی پچھلی حکومتوں سے مختلف نہیں ہے۔

ماضی کی حکومتوں نے بھی عام آدمی کو دکھ، تکلیف اور روزانہ کی بنیاد پر اذیتوں کے سوا کچھ نہیں دیا اور موجودہ حکومت بھی مزید تیزی کیساتھ یہ کام کررہی ہے۔ عمران خان نے وزیراعظم بنتے ہوئے قوم سے وعدے کئے تھے کہ تحریک انصاف کی حکومت سرکاری اخراجات میں کمی کرے گی، کفایت شعاری اختیار کرے گی، لیکن نیا بجٹ چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس جو بقول تحریک انصاف کے وزیراعظم کے ذاتی استعمال میں نہیں ہے، کے اخراجات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ آپ نے کفایت شعاری کے نام پر وزیراعظم ہاؤس کی بھینسوں کو بیچنے کے سوا کیا قدم اُٹھایا ہے؟ اس صورتحال سے عوام میں مایوسی اور بددلی پھیل رہی ہے اور ان کے اندر ایک لاوا پک رہا ہے۔ امریکہ نیوگریٹ گیم کے تحت پاکستان کو غیرمستحکم کرنا چاہتا ہے، معیشت کو کمزور اور معاشی بحران کو سیاسی بحران میں ڈھالنا چاہتا ہے۔ بجٹ تجاویز اور حکومتی پالیسیاں ان مذموم مقاصد کی شعوری وغیرشعوری کوشش نظر آتی ہیں۔ ان امور کو ملک کے سنجیدہ طبقات کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت پاکستان بجاطور پر عالمی استعماری طاقتوں کے نشانے پر ہے۔ عام آدمی مضطرب اور پریشان ہے اور اگر یہ غصہ بڑھ گیا تو ملک و قوم کیلئے نقصان کا باعث ہوگا۔ دشمن بھی چاہتا ہے کہ یہ غصہ ہجوم کی صورت میں نکلے اور ملک میں افراتفری اور انتشار پھیلے تاکہ وہ اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرسکے۔ پاکستان کے عوام حکمرانوں کی کہہ مکرنیوں کے بعد اب جان چکے ہیں اور حالات نے ثابت کردیا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت بھی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کے تسلسل کے سوا کچھ نہیں۔ حکمران یاد رکھیں عوام کو زیادہ عرصے تک حقائق سے دور نہیں رکھا جا سکتا نہ ہی جھوٹی تسلیوں سے عوام مطمئن ہونے والے ہیں، ٹھوس اور دیرپا حل ہی مشکلات سے نکلنے کا واحد حل ہوگا۔

متعلقہ خبریں