Daily Mashriq

پاک افغان تعلقات کا مخمصہ

پاک افغان تعلقات کا مخمصہ

افغان صدر اشرف غنی ایک بھاری بھر کم وفد کیساتھ پاکستان کا دو روزہ دورہ کرکے واپس وطن سدھار چکے ہیں۔ پاکستان میں انہوں نے صدر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان، حزب اختلاف کے راہنماؤں میاں شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری، سراج الحق سے بھی ملاقاتیں کیں۔ اشرف غنی کے دورے کو پاک افغان تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ کہا گیا۔ دونوں طرف سے تعلقات کی ایک نئے دور کا آغاز کرنے کے عہد وپیماں بھی ہوئے۔ اشرف غنی کی مدت صدارت ستمبر میں ختم ہو رہی ہے اور وہ آمدہ صدارتی انتخابات میں ایک مضبوط امیدوار کے طور پر حصہ لے رہے ہیں۔ اشرف غنی کے دورے سے چند ہی دن پہلے ان کے سخت گیر افغان مخالفین کا ایک بڑا وفد بھی پاکستان کا دورہ کرچکا ہے جن میں گل بدین حکمت یار اور احمد ولی مسعود نمایاں تھے۔ اشرف غنی کے دورے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ کابل کے بین الاقوامی طور پر مسلمہ حکمران ہیں، عالمی ادارے اور ممالک انہیں کیساتھ معاملات اور معاہدات کرتے ہیںیہ افغانستان کی موجودہ زمینی حقیقت کی وہ پرت ہے جو پاکستان کیلئے غیرموافق اور مخالف ہے۔ کابل کے اس سرکاری انتظام میں پاکستان کو کلی طور پر طالبان کیساتھ بریکٹ کرکے، افغانستان کی تمام جنگوں اور افغانستان کے شہریوں کے دکھوں اور مہاجرین کے مسائل کا سارا بوجھ پاکستان پر لاد کر اسے ''ولن'' کی شکل دی گئی ہے۔ یہ اشرف غنی سے بہت پہلے کا قصہ ہے، نائن الیون کے بعد پاکستان کو ولن کے طور پر پیش کرنے والی اس ''افغان کہانی'' کو بڑے پیمانے پر کئی عالمی اور علاقائی طاقتوں کے وسائل پر مقبول بنایا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ افغان عوام کے ذہنوں میں پاکستان کیخلاف نفرت بھر گئی اور افغانستان کے شہروں میں پاکستانیوں کیلئے اپنی شناخت کا اظہار ایک عذاب بن کر رہ گیا۔ اس افسانے سے تو یوں لگتا تھا کہ پاکستان افغانستان کی زمین ہتھیا کر تشکیل پایا ہو اور سوویت یونین بھی پاکستان کی دعوت پر افغانستان آیا اور اس کیخلاف مزاحمت کا آغاز بھی پاکستان نے کیا۔ اسی طرح امریکہ بھی پاکستان کی دعوت پر آیا اور مزاحمت کا آغاز بھی پاکستان نے کیا۔ اس سوچ میں ایک گہرا تضاد تھا، احمد شاہ مسعود سوویت یونین کیخلاف بے جگری سے لڑے۔ ایک پراسرار حادثے میں جاں بحق ہوئے تو وادیٔ پنج شیر میں ان کا مزار ایک درگاہ اور آستانہ بن کر رہ گیا۔ ان کے عقیدت مند جوق درجوق اس مزار پر آکر حاضری دیتے ہیں سوویت یونین کیخلاف بندوق اُٹھانا غلط تھا تو احمد شاہ مسعود کو ہیرو نہیں ہونا چاہئے تھا۔ سوویت یونین کیخلاف بندوق اُٹھائی گئی تو ایک منظم مزاحمت بنتی چلی گئی اور یوں دونوں طرف سے افغان قتل بھی ہوتے رہے اور اسی کے شہر وقصبات ویران ہوتے رہے۔ یہی معاملہ گل بدین حکمت یار کا ہے جو سوویت فوج کیخلاف لڑنے والوں میں سب سے نمایاں اور مسلح جدوجہد کے بانیوں میں شامل تھے۔ ایک اور گوریلا کمانڈر عبدالرب رسول سیاف کا ہے جن کی تنظیم ان عرب نوجوانوں کی سرپرست اور معاون تھی جو بعد میں القاعدہ کے نام سے اسامہ بن لادن کی قیادت میں جمع ہوئے۔ اس دور میں ہم پشاور یا راولپنڈی میں جب بھی کسی عرب نوجوان سے ملتے وہ استاد سیاف کی تعریف میں رطب اللسان نظر آتا۔ استاد سیاف پچھلی دو افغان حکومتوں میں ایک بزرگ اور سرپرست کا کردار ادا کررہے ہیں۔ استاد برہان الدین ربانی، صبغت اللہ مجددی اور احمد گیلانی، عبدالعلی مزاری جیسے جہادی قائدین اگر اس جہان فانی سے کوچ نہ کر جاتے تو آج کابل میں کسی سرکاری ذمہ داری کو نبھا رہے ہوتے۔ وہ جو افغانستان کی سرزمین پر ایک طویل اور اعصاب شکن لڑائی کی قیادت کرتے رہے ہیرو اور ایک ہمسائے کے طور پر ان کی مدد کرنے والا پاکستان افغان معاشرے میں ولن بنا رہا۔ کس قدر عجیب تضاد ہے، حقیقت میں افغانستان میں ''اینٹی پاکستان ازم'' کی لہر کسی ٹھوس جوازیت کی بجائے امریکہ اور بھارت کی ضرورت تھی اس میں محض تڑکے کے طور پر افغانستان کے روایتی پاکستان مخالف مائنڈ سیٹ کو شامل کیا گیا۔ افغانی یہ طے کریں کہ افغان جہاد ان کی قومی آزادی کی جنگ تھی بھی یا نہیں اور سوویت یونین مسیحا تھا یا جارح؟ افغانوں میں اینٹی پاکستان ازم کی لہر کا مقصد پاکستان کیلئے سپیس محدود کرنا اور بھارت کیلئے بڑھانا تھا۔ پاکستان مخالف لہر کی آڑ میں بھارت نے پوری طرح افغانستان کے نظام کے اندر اپنے لئے جگہ بنالی اور اس لہر کی آڑ میں افغانستان کا عام آدمی خود اپنی قیادت کے محاسبے اور اپنے قومی کنفیوژن کو دور کرنے سے قاصر رہا۔ کابل کے حکمران حامد کرزئی تھے یا اشرف غنی پاکستان کے حصے میں مخالفت کے تیر ہی آتے رہے۔ اس اندھے اینٹی پاکستان ازم کے اثرات لاکھوں افغان مہاجرین پر بھی پڑے جنہیں امریکہ، بھارت اور افغان حکومت نے پاکستان کے اندر ایک لیوریج کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا۔ بات بڑھتے بڑھتے پاکستان کے اپنے شہریوں کو ریاست کیخلاف سرگرم کرنے تک پہنچی۔ اب اشرف غنی کے دورۂ پاکستان کے کیا اثرات برآمد ہوتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر افغانستان کے عوام کو اپنا قومی کنفیوژن دور کرکے پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا ہوگا۔ احمد شاہ مسعود، گل بدین حکمت یار، برہان الدین ربانی ان کے ہیرو ہوں اور امریکہ بین الاقوامی ذمہ داریاں نبھانے والا مددگار اور دوست اور صرف پاکستان تنہا ولن ٹھہرے اسے قومی کنفیوژن کے سوا اور کیا نام دیا جا سکتا ہے؟

متعلقہ خبریں