ویزوں کا اجرا ء اب کسی مصلحت کے تحت نہ ہو

ویزوں کا اجرا ء اب کسی مصلحت کے تحت نہ ہو

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ گزشتہ دور حکومت میں ویزوں کے اجرا کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تاہم پاکستان میں اب ایئر لائنوں کو مادر پادر آزادی حاصل نہیں اور ملک اب بنانا ری پبلک نہیں رہا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ادوار میں ایسے لوگ پکڑے گئے جن کے پاس ویزے نہیں تھے اور پھر ایسے افراد کو چھوڑ دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد، لاہور، گوادر اور دیگر علاقوں سے بغیر ویزا پاکستان آنے والے لوگ پکڑے گئے، پہلے لوگ ملی بھگت سے بغیر ویزے کے پاکستان میں داخل ہوجاتے تھے جبکہ گزشتہ دور میں ویزوں کے اجرا کا کوئی ریکارڈ بھی موجود نہیں۔چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ اب کوئی بھی غلط یا جعلی دستاویزات کے ذریعے پاکستان نہیں آسکتا، ویزوں سے متعلق نوٹیفکیشن جب میرے علم میں آیا تو میں نے فوری منسوخ کیا، ویزے کے اختیار پر سفیر کو دیئے گئے اختیارات 2014ء میں منسوخ کیے، جبکہ بغیر ویزا لوگوں کو پاکستان لانے والی ایئر لائنوں کو 9کروڑ روپے جرمانہ کرچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں آن لائن ویزا کا نظام متعارف کرا رہے ہیں اور یہ آن لائن سسٹم جب آپریشنل ہوگا تو سب واضح ہوجائے گا۔ دوسری جانب سابق وزیر داخلہ رحمن ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی خفیہ اداروں کے اہلکاروں کو خفیہ طور پر پاکستانی ویزوں کا اجرا تاحال جاری ہے۔پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رحمن ملک کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت پر امریکی جاسوسوں کو ویزا جاری کرنے کا الزام عائد کررہی ہے جبکہ امریکی جاسوسوں کو ویزوں کے اجرا کا عمل تاحال جاری ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی انتظامیہ اس وقت تک امریکی حکام کو پاکستانی ویزے جاری کرتی رہے گی جب تک انہیں امریکی حکومت کی جانب سے کولیشن سپورٹ فنڈ(سی ایس ایف )ملتا رہے گا۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا حکومت نے سی ایس ایف لینا چھوڑ دیا ہے جو وزارت خزانہ کو موصول ہوتا اور وزارت دفاع کے ذریعے تقسیم کیا جاتا ہے؟رحمن ملک کا مزید کہنا تھا کہ اگر یہ فنڈ ملنا بند ہوجاتا ہے تو حکومت بھی امریکی حکام کو ویزوں کا اجرا ختم کردے گی، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے کبھی امریکی حکام کو ویزوں کے اجرا کا عمل روکا ہی نہیں۔خیال رہے کہ پاکستان سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور سے افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں اپنی خدمات فراہم کرنے کے عوض امریکا سے یہ فنڈ وصول کررہا ہے۔رحمن ملک پیپلز پارٹی کی سابق حکومت کے دور میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے چکے ہیں، جب سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے امریکا میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کو خط لکھا گیا اور امریکیوں کو ویزے جاری کرنے کی اجازت دی گئی۔اس وقت امریکی حکام کو ویزے جاری کرنے کے اس معاملے نے ملک کے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز کررکھا ہے جس سے ملک کی اہم ترین اپوزیشن پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی کے کردار پر بھی سوالیہ نشان کھڑے ہوگئے ہیں۔چند روز قبل وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے دعویٰ کیا تھا حکومت، پاکستانی سفیر سے اپنی مرضی سے امریکیوں کو ویزا جاری کرنے کا اختیار واپس لے چکی ہے۔اس سوال کے جواب میں کہ کیا ملک کی ویزا پالیسی کی تحقیقات ہونی چاہیئے، رحمن ملک کا کہنا تھا کہ تحقیقات کا ہونا خوش آئند ہے تاہم تحقیقات میں1998سے آج تک معاملات پر غور کیا جانا ضروری ہے۔رحمن ملک کا کہنا تھا کہ قوم جاننا چاہتی ہے کہ کس نے امریکی حکام کو اسلام آباد ایئرپورٹ کے ذریعے بغیر ویزا اور امیگریشن کلیئرنس کے آنے کی اجازت دی۔انہوں نے سابق صدر پرویز مشرف کو امریکیوں کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی تحقیقات ہونی چاہیئے کہ کس نے امریکی فوج کو پاکستان آنے اور شمسی ایئربیس تک رسائی دی۔یہ معاملہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاک امریکہ تعلقات تنائو کا شکار ہیں ۔ ماضی میں امریکیوں کو خلاف ضابطہ ویزوں کے اجراء سنجیدہ معاملہ ہے اس ضمن میں حکومتی کردار سے قطع نظر ویزوں کے اجراء سے متعلق مختلف اہم اداروں کا کردار بھی سوالیہ نشان ہے ۔ بہر حال اس کے باوجود من حیث المجموع حکومت ہی ذمہ دارہو اکرتی ہے ۔ اس وقت کی صورتحال بارے وزیر داخلہ نے تو اپنے تئیں واضح موقف کا اظہار کیا ہے لیکن دوسری جانب سابق وزیر داخلہ نے جو سوالات اور نکات اٹھا ئے ہیں ان کی روشنی اور دیگر شواہد و تجر بات کی موجودگی میں اس امر کا تعین مشکل ہے کہ آیا اب بھی کوئی ایسی کھڑکی کھلی ہے یا پھر اس کھڑکی سے ویزوں کا اجراء مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے اور حکومت کسی دبائو اور مصلحت کے بغیر ویزوں کا اجراء کر رہی ہے ۔ اس صورتحال کے سامنے آنے کے بعد حکومت پر عوامی دبائو اور حکومت کی ساکھ کا معاملہ بھی اٹھنا فطری امر ہوگا یقینا اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے دبائو بڑھے گا لیکن گزشتہ حکومت میں بھی تویہ دبائو موجود تھا اس کے باوجود ویزوں کا اجرا کیا گیا ۔ امریکی امداد کو مد نظر رکھتے ہوئے ویزوںکے اجراء میں مصلحت اور صرف نظر قومی مفاد کا تقاضا نہیں ماضی میں پی پی پی دور میں کیا ہوا اور سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کیا رعایتیں دیں اس کو ایک طرف رکھتے ہوئے یہ موجود ہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان غلطیوںکا اعادہ کرنے سے گریز کرے اور ایسے امریکیوں کو ویزے نہ دیئے جائیں جن کا اصل مقصد پاکستان آکر جاسوسی کی سرگرمیوں میں حصہ لینا ہو ۔

اداریہ