طلبہ تنظیموں میں تصادم ،افسوسناک معاملہ

طلبہ تنظیموں میں تصادم ،افسوسناک معاملہ

اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں طلبہ کے دو گروپوں کے درمیان تصادم میں تین طالب علموں کے زخمی ہونے اور دو کی گرفتاری کا واقعہ افسوسناک ہے جس سے صوبے میں تعلیمی ماحول کے مکدر ہونے کا خطرہ ہے ۔ تعلیمی اداروںمیںنو جوانوں کے درمیان اختلافات اور تکرار کوئی سنگین معاملہ نہیں انفرادی لڑائی جھگڑے بھی پریشانی کا باعث نہیں لیکن یہ پریشانی کا باعث امر ضرور ہے کہ طلبہ تنظیمیں طالب علموں کی بہتررہنمائی کی بجائے تصادم کا راستہ اپنائیں جس میں طلبہ کے زخمی ہونے اور گرفتاری کی نوبت آجائے ۔ طلبہ تنظیموں کی پابندی کے باعث کوئی قانونی حیثیت نہیں بلکہ ان کی مثال ایک جتھے یا گروہ کی ہے جنہوں نے خود کو طلبہ تنظیم کا نام دے رکھا ہے ۔ اس سے متعلق طالب علم اس حلفیہ بیان سے انحراف کر رہے ہیں کہ جس میں انہوں نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوںگے۔ اس کے باوجود طلبہ تنظیموں کے نام پر راکٹھ اور تصادم سے یونیورسٹی انتظامیہ اور کیمپس پولیس کی کمزوری عیاں ہے جو اقرار نامے کے باوجود طالب علموں کو ایسی سرگرمیوں کی اجاز ت دیتے ہیں یاصرف نظر سے کام لیتے ہیں جس کے باعث تعلیمی ماحول مکدر ہوتا ہے ۔ بہرحال اب جبکہ یہ ناخوشگوار واقعہ رونما ہوہی چکا ضرور ت اس امر کی ہے کہ بغل بچہ تنظیموں کی سرپرست سیاسی جماعتیں اور یونیورسٹی انتظامیہ مزید تصادم کو روکنے اور تعلیمی ماحول کو مکدرہونے سے بچانے کیلئے طلبہ تنظیموں میں صلح کروائیں۔ اس ضمن میں طالب علموں کے والدین سے بھی رابطہ کرنے اور ان کو اپنا کردار ادا کرنے پر آمادہ کرنا موزوں ہوگا۔ صوبے کے تعلیمی اداروں میں ہم آہنگی کی فضا ہی تعلیمی ترقی اور طالب علموں کے مفاد میں ہے اس ضمن میں کسی کو تاہی کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہیئے ۔
ثقافتی ورثے کی تباہی
فصیل شہر اور قدیم عمارتوں کی تعمیر و مرمت اور بحالی تو درکنا ر متعلقہ محکمہ ان عمارتوں کے تحفظ اور اس پر توجہ پر بھی آمادہ نظر نہیں آتا فرائض سے غفلت کی جو توجیہہ متعلقہ حکام پیش کر رہے ہیں اس کی رو سے تو مزید ماہ وسال گزرنے کے بعد بھی وہ شاید ہی اس قابل ہو جائیں کہ عذرلنگ چھوڑ کر شہر کے تاریخی ورثوں کے تحفظ پر توجہ دے سکیں۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ قبضہ مافیاہر گز رتے دن کے ساتھ فصیل شہر کی تباہی قدیم وتاریخی قبرستانوں میں تجاوزات اور قدیم شہر ی ثقافت کو اکھاڑ نے کی تگ ودو میں ہے جس کے باعث فصیل شہرسکڑ چکی ہے بلکہ اس کا تھوڑا سا حصہ ہی باقی بچا ہے ۔ قدیم عمارتوں کی خستہ حالی وشکستگی اپنی جگہ سنگین مسئلہ ہے ۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ فصیل شہر کے اندر تاریخی عمارتوں کا ابھی تک محکمہ آثار قدیمہ کو علم ہی نہیں بلکہ ایک سال سے اس پر سروے جاری ہے معلوم نہیں یہ سروے کب مکمل ہوگا اور سروے کی تکمیل تک مزید کتنا ثقافتی ورثہ مٹ جائے گا ۔
محکمہ بلدیات کا خصوصی آڈٹ احسن قدم ہوگا
خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے محکمہ بلدیات کے بجٹ کا نجی فرم سے خصوصی آڈٹ کرانے کا فیصلہ مستحن ہے جس سے جہاں فنڈز کے صحیح و غلط استعمال کے ساتھ اصل صورتحال بھی عوام کے سامنے آئے گی۔ ہمارے تئیں تو صرف کا غذات ودستاویزات کا آڈٹ کافی نہیں بلکہ محکمہ بلدیات و دیہی ترقی سمیت سی اینڈ ڈبلیواور دیگر محکموں کا نہ صرف دستاویزی آڈٹ ہونا چاہیئے بلکہ جہاں جہاں عملی طور پر سرکاری وسائل کااستعمال ہوا ہے اس کابھی آڈٹ ہونا چاہیئے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو ۔ اگر چہ اس امر کو نا پنے کا کوئی پیمانہ نہیں لیکن دیکھا جائے تو حکومت کروڑوںاربوں روپے خرچ کرتی ہے مگر شہروں قصبات اور گائوں میں ایسے ترقیاتی کام اور سہولیات کی فراہمی نظر نہیں آتی جن کو دیکھ کر اس امر کا یقین آجائے کہ وسائل کا عوامی مفادمیں استعمال ہوا ہے اور لوگوں کو سہولیات ملی ہیں ان کے مسائل حل ہوئے ہیں یا کم از کم اس میں کمی بہر حال آئی ہے ۔محکمہ بلدیات کی خصوصی آڈٹ رپورٹ میں بد عنوانیوں اور بے قاعدگیوں کا سامنے آنا یقینی امر ہے جس کا تقاضا ہوگا کہ محض آڈٹ رپورٹ پر اکتفا کرنے کی بجائے سرکاری وسائل شیر مادر کی طرح ہڑ پ کرنے والوں سے سرکاری رقم وصول کر کے عوامی مفاد کے منصوبوں پر لگا نے کو یقینی بنایا جائے ۔

اداریہ