فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی منظوری

فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی منظوری

فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کا بل بالآخر سینیٹ سے بھی منظور ہوگیا ۔ اس طرح 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتیں جن کی آئینی مدت 7جنوری کو ختم ہو گئی تھی اسی تاریخ سے بحال ہو گئی ہیں۔ یہ اڑھائی مہینے جس طرح اس فیصلے کی طرف کشاںکشاں بڑھنے میںلگے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اٹھائیسویں ترمیم کے لیے بل حکومت کی طرف سے پیش کیا گیا لیکن 7جنوری کو جب فوجی عدالتوں کی پہلی آئینی مدت ختم ہوئی توحکومت خاموش رہی۔ نہ صرف حکومت کی طرف سے خاموشی اختیار کی گئی بلکہ یہ بھی کہاگیاکہ یہ عدالتیں غیر ضروری ہو گئی تھیں۔ پھر اس کے بعد خود حکومت کی طرف سے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کا بل پیش ہوا جس سے حکومت کے اتحادیوں نے اختلاف کیا۔ اور اب جو اس کی منظوری دی گئی ہے اس میں بھی بعض اتحادیوں کا منظوری کا ووٹ شامل نہیں ہے۔ حکمران مسلم لیگ اگر ان عدالتوں کی افادیت کی قائل ہو گئی تھی تواپنے اتحادیوں کو کیوں قائل نہ کر سکی یہ سوال اپنی جگہ رہے گا۔ فوجی عدالتوںکا قیام نیشنل ایکشن پلان کے بیس نکات میں سے ایک نکتہ ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کی منظوری پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں نے دی تھی۔ اس مکمل پلان کے ایک نکتے پر اس قدر اختلاف کہ اسے دور کرنے میں اڑھائی ماہ لگیں اور پھر بھی بعض ووٹ اس کے حق میں نہ پڑیں آیا نیشنل ایکشن پلان سے انحراف ہے یا نہیں یہ بھی ایک سوال ہے۔ لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ جن سیاسی جماعتوں نے نیشنل ایکشن پلان کے حق میں ووٹ دیا تھا انہی سیاسی جماعتوں نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع سے اختلاف بھی کیا ۔ ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا اختلاف کرنے والی سیاسی جماعتوں کے نزدیک نیشنل ایکشن پلان پرمکمل عمل درآمد ہو چکا تھا (جس کی وجہ سے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کو غیر ضروری قراردیا جا رہاتھا) یا نیشنل ایکشن پلان یااس کے کچھ حصے غیر ضروری ہو چکے تھے۔ اگرنیشنل ایکشن پلان کی متفقہ منظوری اپنی جگہ موجود تھی تو فوجی عدالتوںکی مدت میں توسیع سے اختلاف کے کیا معنی لیے جائیں۔ ایسے سوالات سیاسی قائدین کے ذمے قرض ہیں۔ انہیں ان سوالوں کے حوالے سے عوام کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دہشت گردی کے انسداد کے لیے فوجی عدالتیں واحد نسخہ نہیں ہیں۔ ان سے متوقع نتائج برآمد ہونا نیشنل ایکشن پلان پرمکمل عمل درآمد سے مشروط ہے کیونکہ جیسے نشاندہی کی جا چکی ہے فوجی عدالتوں کا قیام نیشنل ایکشن پلان کامحض ایک نکتہ ہے۔اس توقع کا اظہارکرنا کہ فوجی عدالتوں کی کارکردگی سے دہشت گردی ختم ہو جائے گی جان بوجھ کر غلطی کا ارتکاب کرنا ہے۔ یہ کہنا کہ آج پارلیمنٹ کے لیے ایک سیاہ دن ہے جب فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی آئینی ترمیم منظور کی جا رہی ہے زیبا نہیںہے۔ یہ دن پارلیمنٹ کے اس متفقہ اقدام کا تسلسل ہے جس کے تحت بیس نکاتی نیشنل ایکشن پلان کی منظوری دی گئی تھی۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونا البتہ پارلیمنٹ کے لیے قابلِ غورہونا چاہیے کہ ایک متفقہ قومی فیصلے پر دو سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود مکمل عمل درآمد نہ ہو سکا۔ اور چونکہ نیشنل ایکشن پلان پرمکمل عمل درآمدنہ ہو سکا اس لیے اس پلان کے نکتہ نمبر ٢ میںدیے گئے ایکشن کے لیے ایک بارپھر اتفاقِ رائے کی ضرورت سمجھی گئی۔ ارکانِ پارلیمنٹ کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اگر ''اس سیاہ دن'' کے بعد دو سال کے بعد ایک اور ''سیاہ دن'' کی ضرورت پڑی تو ذمہ داری کس کی ہو گی؟ یہ پارلیمنٹ کا فرض سمجھا جانا چاہیے تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پرمن و عن عمل ہو۔ فوجی عدالتوں سے متعلق نیشنل ایکشن پلان کے دوسرے نکتے کو آخری نکتے کے بغیر نہیں دیکھا جا سکتا۔ جو نظام عدل میں اصلاحات کا تقاضا کرتا ہے ۔ فوجی عدالتوں کے قیام کی ضرورت ہی اس لیے پیش آئی کہ نظام عدل فراہمی عدل میں ناکام ہو چکا ہے۔ اگر نظام عدل بہتر نہیں بنایا جائے گا تو کیا یہ کہا جا سکے گا کہ اب فوجی عدالتوں کی ضرورت نہیں رہی۔ جب کہ فوجی عدالتیں متبادل نظام عدل بھی نہیں ہیں۔ نظام عدل محض عدالتوں کے فیصلوں تک محدود نہیں اس میں پولیسنگ یعنی نگرانی اور ملزموں کی گرفتاری بھی شامل ہے۔ تفتیش بھی شامل ہے ۔ مقدمات کا اندراج بھی اس کا حصہ ہے اور مقدمات کی پیروی ۔ گواہوں کی پیشی بھی اس کے بعد عدالت کے فیصلے کا مرحلہ آتا ہے۔ عدالت کے سامنے جو کچھ پیش کیا جائے گا عدالت کا تحریری فیصلہ اسی کے حوالے سے آئے گا۔ اس لیے نگرانی اور تفتیش کے مراحل پر خصوصی توجہ کی ضرورت محسوس کی جانی چاہیے۔ ایف آئی آر کا اندراج ایک اہم مرحلہ ہوتا ہے ۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ پولیس ایف آئی آر درج نہیں کرتی۔ اس کی ایک وجہ یہ خدشہ بھی ہوتی ہے کہ زیادہ مقدمے درج ہوں گے تو تھانے کے علاقے میں امن و امان کی صورت حال کے بارے میں منفی تاثر ابھرے گا ۔ یہ بھی شکایت عام ہے کہ ایف آئی آر میں مجرموں کے بچ نکلنے کی گنجائش رکھی جاتی ہے۔ مقدمات کی پیروی میں تساہل برتا جاتا ہے ۔ تھانے میں جو گواہی دی جاتی ہے عدالتوں میں گواہ اس سے منحرف ہو جاتے ہیں۔ یا تھانے میں دی گئی گواہی جھوٹی ہوتی ہے یا عدالتوں میں دی جانے والی گواہی جھوٹی ہوتی ہے لیکن پاکستان میں کتنے منحرف گواہوں پر مقدمے بنتے ہیں۔ یہ ایک اہم سوال ہے۔ پھر گواہوں کو تحفظ حاصل نہیں۔ نہ صرف گواہ غیر محفوظ ہوتے ہیں بلکہ منصف بھی مجرموںکے انتقام سے اپنے آپ کو محفوظ نہیں پاتے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دو سال کے لیے فوجی عدالتیں اس لیے قائم کی گئی تھیں کہ دو سال کے عرصے میں نظام عدل کو درست کر لیا جائے گا۔ کیا فوجی عدالتوں کی مدت میں حالیہ توسیع کے بعد آئندہ دو سال بلکہ اس سے بھی کم عرصے میں عدالتی نظام کو بہتر بنایا جا سکے گا۔ یہ سوال اہم ہے۔ اگر پہلے دو سال میں اس کام کی شروعات بھی نہ ہو سکیں تو آئندہ دو سال میں کیا توقع کی جا سکتی ہے۔

اداریہ