ہم کو ہمارے دیدہ بیناسے کیا ملا

ہم کو ہمارے دیدہ بیناسے کیا ملا

موسم ایک بر پھر اپنے تیور دکھانے پر تل گیا ہے ۔ گزشتہ دو تین روز سے سورج یوں آنکھیں دکھا رہا ہے جیسے کہ سیاسی لیڈر ایک دوسرے کو آنکھیں دکھا کر اپنے لہجے کی چبھن سے ایک دوسرے کو پریشانی اور سراسیمگی میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ، صبح گھر سے اباسین آرٹس کونسل کیلئے نکلا تو احساس ہوا کہ سورج نامہر بانی کا لبادہ اوڑھے ہوئے ابھی سے اپنے تیکھے پن پر اترا ہوا ہے ، رش کی وجہ سے جہاں چند ساعتوں کیلئے ٹریفک کا بہائو رک جاتا ، سورج کی کرنیں بدن کو مرچی مرچی کر دیتیں اور اسی وجہ سے سیاسی رہنمائو ں کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملوں کی صورت ایک دوسرے پر الفاظ کے تیر اور بر چھیاں یا د آتی رہیں ، ایک حکومتی رکن کا تازہ ترین بیان چند روز پہلے پشاور کے رکشہ ڈرائیور ز یونین کے عہدیداروں کا بیان یا د کرا گیا جس میں یونین والوںنے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ شہر میں مزید رکشوں کی رجسٹریشن نہ کی جائے ، جبکہ محولہ سرکاری پارٹی کے رہنما امیر مقام نے گزشتہ روز وزیراعلیٰ اور کابینہ کے بعض وزرا ء پر الزام لگایا ہے کہ یہ لوگ سرکاری ہیلی کاپٹر کو رکشہ کی طرح استعمال کر رہے ہیں ، اس لیے یہ پوچھنا واجب ہوگیا ہے کہ اس ہیلی کاپٹر رکشہ کیلئے لائسنس جاری کرایا جا چکا ہے یا نہیں کیونکہ بطور ہیلی کاپٹر تو اس کی رجسٹریشن یقینا سول ایوی ایشن اتھارٹی نے جاری کردی ہوگی تاہم بقول امیر مقام اگر اس کا بطور رکشہ استعمال کیا جارہا ہے تو اس کیلئے رجسٹریشن کا اجراء ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ٹھہرتی ہے ، اس لئے امید ہے کہ صوبائی حکومت نے یہ ذمہ داری پوری کی ہوگی ۔ اور اگر ایسا ہوا ہے تو امیر مقام کو کسی قسم کا اعتراض نہیں کرنا چاہیئے ، البتہ اگر وہ اس بات پر اعتراض کرتے ہیں کہ انڈر 13کرکٹ کھلاڑیوں کے ٹرائیل روک کر چیف منسٹر نے یہ ''رکشہ '' کھیل کے میدان میں اتاراہے تو یہ تو ''ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی '' کے زمرے میں آجاتا ہے اور جیسے کہ ٹریفک والے نو پارکنگ کے نشان زد ہ حصوں میں رکشہ تو کیا کسی کو گاڑی پارک کرنے کی بھی اجازت نہیں دیتے ، بلکہ ان کے لفٹر ایسی گاڑیوں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں اور مالک جرمانہ ادا کرنے کے بعد ہی اپنی گاڑی وا گزار کراسکتے ہیں ، تو اس ''سرکاری رکشہ '' کی غلط جگہ پارکنگ پر ایبٹ آباد کی ٹریفک پولیس نے لفٹر کے ذریعے ''سرکاری رکشہ '' کو کیوں لفٹ نہیں کیا ،تیکھے لہجے کی کما ایسی ہی جھلکیاں ان دنوں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی صفوں میں بھی چنگاریاں بن کر ایک دوسرے کی طرف لپکتی نظر آتی ہیں ، شرجیل میمن اور سعید غنی نے گزشتہ روز تند و تیز جملوں میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ، اور کہا کہ چوہدری نثار کی ایماء پر پاکستان نہیں چلے گا ، انہوں نے وزیر اعظم اور ان کے اہل خاندان کا نام ای سی ایل میں کیوں نہیں ڈالا ،ادھر آصف زرداری نے الیکشن کے لیے ہم میدان میں آچکے ہیں ، ہماری ہتھکڑیاں اتر چکیں ، لگ پتہ جائے گا ، اس تیر اندازی کا جواب دیتے ہوئے مریم اورنگزیب ، عابد شیر علی اور طلال چوہدری بھی آپے سے باہر ہوچکے ہیں اور کہا کہ زرداری اورشرجیل میمن نے لوٹ کھسوٹ میں ڈاکٹریٹ کر رکھی ہے ، ادھر تحریک انصاف کے سربراہ بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ انہوںنے تو پانامہ کے حوالے سے شروع دن سے جو پالیسی اختیار کر رکھی ہے ابھی تک اس پر قائم و دائم ہیں ، شیخ رشید بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ پانامہ کے حوالے سے یا ن کا جنازہ نکلے گا یا پھر قانون کا، جبکہ جماعت اسلامی کے سربراہ سینیٹر سراج الحق بھی اپنی ہی بات پر اڑے ہوئے ہیں اور تازہ بیان میں کہا کہ کرپشن کے خلاف انصاف نہ ملا تو فیصلہ چوراہوں پر ہوگا ، تاہم اگر غور سے دیکھا جائے تو عمران خان ، شیخ رشید اور سراج الحق تینوں عدالت کی باتیں کرتے رہتے ہیں لیکن ساتھ ہی عدالت پر دبائو ڈالنے کیلئے اپنی مرضی ٹھونسے کے الفاظ سے کھیلتے رہتے ہیں ، گویا اگر عدالت نے ان کی مرضی کے خلاف فیصلہ دیا تو اس کے نتائج منفی بھی نکل سکتے ہیں ، یہ تو اس گیڈر والی بات ہوئی جس کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا تو اس نے بادشاہ کو یہ کہہ کر خوفزدہ کردیا کہ اگر مجھے قتل کر دیا گیا تو قیامت آجائے گی ۔ آگے تو کہانی آپ نے بار ہا سن رکھی ہوگی اس لیے اس کا اعادہ فضول ہے ، تاہم محولہ تینوں رہنما عدالت کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اگر ان کی مرضی کا فیصلہ نہیں آیا تو ملک میں انار کی پھیل جائے گی ۔ اگرچہ اصولی قانونی اور اخلاقی طور پر یہ ایک غلط طرز عمل ہے ۔ مبارک احمد مونگیر ی نے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا تھا 

جو کم نگاہ تھے وہی اہل نظر بنے
ہم کو ہمارے دیدہ بینا سے کیا ملا
ابھی جب یہ کالم تحریر کیا جا رہا تھا تو وزیر اعلیٰ کے پی پرویز خٹک نے ایبٹ آباد واقعے پر معافی مانگ لی ہے جس میں انڈر 13کھلاڑیوں کو کرکٹ گرائونڈ سے چار گھنٹے تک نکال کر چیف منسٹر کا ہیلی کاپٹر اتارنے اور کھڑا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو آئندہ اس قسم کی ''حرکت '' سے منع کر دیا ہے ، حالانکہ وزیر اعلیٰ کا لہجہ بھی ان دنوں بڑا تیکھا ہورہا ہے اور تو اتر کے ساتھ وہ مختلف تقاریب میں جو بیانات دے رہے ہیں ان میں مخالف سیاسی جماعتوں پر گہر ا طنز ہوتا ہے ، غرض ان دنوں سیاسی رہنما ئوں کی لہجوں پر سورج کی تپش کے اثرات پڑ رہے ہیں اور 18ء کے الیکشن تک ان کا پارہ مزید کتنا چڑ ھے گا اس کیلئے تپش پیما پر مسلسل نظر رکھنی پڑے گی ۔ اگر چہ خود میں نے ہی کہا تھا کہ
وہ جس کے لہجے میں سورج کی سی چبھن ہے شباب
مجھے تو اس کا بھی انداز شاعرانہ لگے

متعلقہ خبریں