یار مے خوخ دے خو۔۔۔۔

یار مے خوخ دے خو۔۔۔۔

قائد اعظم کے فرمودات ہمارے نصاب کا حصہ ہیں۔ ہم من حیث القوم ان کے شیدائی ہیں' ان کا ذکر آخر میں کریں گے کہ ان کے فرمودات کی کیا درگت بنائی جاتی ہے۔ پہلے گفتنی نا گفتنی ضرب الامثال کے بارے میں سن لیجئے۔ ہمارے ابا اللہ بخشے جب کوئی ان کی بات پر توجہ نہیں دیتا یا انہیں نظر اندازکردیتا تو پھر وہ بالعموم ناگفتنی قسم کے پشتو محاوروں کا سہارا لیتے۔نا گفتنی محاورے سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے ہیں۔ کتابوں میں ان کا ذکر نہیں ہوتا۔یا پھر ایسی کتابیں ہماری نظروں سے نہیں گزریں۔ ہمیں اس قسم کے محاورے نہ تو پروفیسر دائود جان دائود کی تحقیقی کتابوں میں ملے۔ پروفیسر محمد نواز طائر جنہوں نے پشتو ضرب الامثال کی دو ضخیم کتابیں مرتب کی ہیں وہ بھی اس بارے میں خاموش ہیں۔ ڈاکٹر راج ولی شاہ خٹک مرحوم نے بھی پشتو محاوروں کے انگریزی تراجم میں ان کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ ہم جب سکول میں پڑھتے تھے تو ہمیں محاورے جمع کرنے کا شوق چرایا۔ ہماری دادی اپنے ہر جملے میں پشتو کے کسی نہ کسی محاورے کا موتی ضرور ٹانکتی تھیں۔ ان سے بھی جب کوئی محاورہ سنتے ایک کاپی میں درج کرلیتے۔ رشتہ داروں کے گھر جا کر بزرگوں سے محاورے بتانے کی فرمائش کرتے تو اپنے ساتھ کاپی لے جانا نہیں بھولتے۔ اس طرح ہماری کاپی میں پشتو محاوروں کا کافی ذخیرہ جمع ہوگیا جن میں نا گفتنی مواد زیادہ تھا۔ کرنا خدا کا کیا ہوا کہ اسی زمانے میں اپنے استاد میاں خیر الحق گوہر کاکا خیل کے ساتھ پشتو اکیڈمی جانے کا موقع ملا۔ مولانا عبدالقادر وہاں کے ڈائریکٹر تھے۔ وہ ہمارے استاد سے پشتو اکیڈمی کی تحقیقی کاوشوں پر باتیں کرنے لگے۔گفتگو کے دوران جب انہوں نے کہا کہ ہمارے ایک ریسرچ سکالر آج کل پشتو محاورات پر کام کر رہے ہیں تو ہمارے کان کھڑے ہوگئے۔ مولانا کے اس ذکر پر ہمیں اپنی محا و ر و ں کی کاپی یاد آگئی۔ اپنے استاد کو آہستہ سے کہا محا و ر ے تو ہم نے بھی جمع کر رکھے ہیں۔ مولانا نے ہمیں کانا پھوسی کرتے دیکھ کر استاد سے پوچھا۔ دا ھلک سہ وائی؟ جس پر انہوں نے بتایا کہ اس نے محاورے جمع کر رکھے ہیں۔ ان کے بارے میں بتا رہا ہے ۔ تو بیٹے ہمیں دیجئے نا' ہم اپنی کتاب میں شامل کردیں گے۔ ہم نے ڈرتے ڈرتے عرض کیا' ان میں سے کچھ آپ کو پسند نہیں آئیں گے۔ مسکراتے ہوئے کہا' کوئی بات نہیں' ہم ان کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔ گھر پہنچتے ہی دوسرے روز ہم نے وہ کاپی مولانا صاحب کے نام روانہ کردی۔ ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ ہماری کاپی کی چھان پھٹک کے بعد ان میں سے کچھ محاورے منتخب کرلئے گئے اور دو آنے فی محاورہ کے حساب سے اس کا معاوضہ مبلغ دس روپے بھی ہمیں منی آرڈر پر بھیج دیا۔ یہ پشتو اکیڈمی سے کسی ادبی کاوش پر ہماری زندگی کا پہلا اور آخری معاوضہ تھا۔ چونکہ ہم بھی اپنے ابا کی طرح بعض اداروں پر تبصرے میں ناپسندیدہ محاوروں کا استعمال زیادہ کرتے ہیں اس لئے پشتو اکیڈمی اور کم و بیش تمام جامعات کے شعبہ ہائے پشتو نے ہمیں نا پسندیدہ شخصیت قرار دیا ہے بلکہ مر د ا ن کی یونیورسٹی میں نو زائیدہ پشتو ڈیپارٹمنٹ کا کورس مرتب کرنے والوں میں ہمارا نام رئیس الجامعہ نے قلم زد کرتے ہوئے کہا' دے بد بد متلونہ ڈیر وائی' اسے کمیٹی میں مت شامل کرو ۔ ہمیں آج بھی اس بات پر مان ہے کہ پشتو اکیڈمی نے پشتو محاوروں کا جو مجموعہ شائع کیا ہے اس میں ہماری معصومانہ کاوش بھی شامل ہے۔ تمہید کچھ زیادہ طویل ہوگئی۔ بتانا یہ مقصود تھا کہ پشتو کے شفاہی ادب میں ایسے سینکڑوں بلکہ ہزاروں ضرب الامثال موجود ہیں جو بالعموم مافی الضمیر کے اظہار کے لئے بہت کار آمد اور معنی خیز ثابت ہوتی ہیں۔ مگر ان کو حیطہ تحریر میں لانا ممکن نہیں۔ خوشحال خان خٹک ایک حقیقت پسند اور صاف گو شاعر تھے ' ان کے کلام میں اس نوع کے محاورات کا بے دریغ استعمال ہوا ہے۔ حیرت ہمیں اس وقت ہوئی جب ہمارے ایک محقق نے خوشحال بابا کے ایک دیوان کی ترتیب میں ان کے ایسے تمام اشعار خارج کر دئیے جو ان کی نظر میں خوشحال بابا کی شخصیت کے لئے مناسب نہ تھے۔ ہم ایسا نہیں سمجھتے ان محقق کی اس کوشش سے خوشحال بابا کی صاف گوئی اور حقیقت پسندی بہت حد تک قارئین کی نظروں سے اوجھل ہوگئی ہے۔ ہم نے جس پشتو محاورے کو آج کی تحریر کا عنوان بنایا ہے اس کا دوسرا حصہ ثقہ قارئین کے ذوق سلیم پر بار گزرنے کا خدشہ تھا۔ اس لئے ہم نے نظر انداز کردیا۔ نئی نسل کے بارے میں تو کچھ کہہ نہیں سکتا لیکن ہماری نسل کے باتریا لوگ اب بھی اسے اپنی گفتگو میں دہراتے ہیں۔ یہ محاورہ ہمیں اس ضمن میں یاد آیا کہ ہم بابائے قوم حضرت قائد اعظم سے عقیدت کا بے پناہ اظہار کرتے ہیں۔ ہر سال یوم آزادی کے موقع پر ان کے فرمودات کو دہرایا جاتا ہے۔ ان کے مشہور زمانہ فرمان اتحاد' نظم اور یقین محکم کے سٹیکرز سینے پر سجائے جاتے ہیں' کام کام اور کام' کی نصیحت کو ان کی قد آدم تصویروں پر لکھا جاتا ہے۔ نوٹوں پر بھی ان کی شبیہہ چسپاں ہیں مگر جی ہاں۔ ان کے کسی قول کا عکس حکمرانوں کے قول و عمل میں نظر نہیں آتا۔ ان کی شبیہہ والی کرنسی سے لبریز ٹرنکس ذمہ داروں کے واش رومز سے بر آمد ہوتے ہیں۔ یہی رقم منی لانڈرنگ میں استعمال ہوتی ہے اور دفاتر میں قائد اعظم کی تصویر کے نیچے بیٹھ کر ایسے فیصلے کئے جاتے ہیں جو ان کے ہر قول کے منافی ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس تمام صورتحال کے بارے میں ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ یار مے خوخ دے خو۔۔۔۔آگے حد ادب۔ محاورہ ناگفتنی ہی سہی مگر ہماری قومی نفسیات کی اس سے زیادہ بہتر ترجمانی نہیں کی جاسکتی۔

اداریہ