Daily Mashriq

مہنگائی کا بے قابو جن

مہنگائی کا بے قابو جن

خیبر پختونخوا کے عوام اور تاجر طبقہ آج کل سینڈوچ بنے ہوئے ہیں۔ جی ہاں سینڈوچ ہی ہیں بلکہ چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پس رہے ہیں۔ پڑوسی ملک افغانستان کی صورتحال سے اس صوبے کے عوام متاثر ہو رہے ہیں اور مسلسل نقصان اٹھا رہے ہیں۔جب پاک افغان تعلقات کشیدہ ہوگئے اور طورخم بارڈر بند ہوا تو پشاور خیبر ایجنسی اور دیگر سرحدی علاقوں کے کاروباری حضرات چیخ اٹھے۔ آمد و رفت بند ہوئی تو پاکستان سے افغانستان سپلائی ہونے والا مال بند ہوگیا۔ ٹرکوں اور ٹرالروں میں لدی تازہ سبزیاں خراب ہونے لگیں' ٹرانسپورٹرز کا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا۔ ٹرانزٹ ٹریڈ سے وابستہ پختون کراچی سے طورخم بلکہ جلال آباد تک پھنس گئے۔

ٹرالروں سے لدے سامان کو اتارنا بھی مشکل تھا اور آگے پہنچاننا بھی نا ممکن اور واپسی کی بھی اجازت نہیں تھی۔ ہزاروں روپے یومیہ کرایہ ادا کرتے رلتے رہے۔ احتجاج کرتے رہے اور مطالبات پیش کرتے رہے مگر ان کی کسی نے نہ سنی۔ پھر وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ سرحد کھول دی جائے اور فلسفہ بگھارتے ہوئے یہ بھی کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے عوام مذہب' ثقافت' تہذیب اور زبان کے رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ ان کو الگ نہیں بارڈر کھل گیا' سامان کی ترسیل شروع ہوگئی مگر پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے تمام شہروں میں مہنگائی کا طوفان آگیا۔ بنیادی ضرورت کی اشیاء مہنگی ہوگئیں۔ ٹماٹر کی قیمت 160روپے اور 180روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔ سبزی کی دیگر اقسام کے نرخ بھی 5سے 10روپے فی کلو تک بڑھ گئے ہیں اور سننے میں آرہا ہے کہ چینی' دال اور آٹا کی قیمتیں بھی بڑھنے والی ہیں۔ دوسری جانب افغانستان مال لے جانے والی گاڑیوں کے ڈرائیوروں سے بھی اب پاسپورٹ طلب کیا جا رہا ہے حالانکہ یہ پابندی پہلے نہیں تھی۔ مگر اب اچانک حکومت نے اعلان کردیا ہے اور سرحد پر متعین عملہ پاسپورٹ کے بغیر کسی بھی ڈرائیور کو سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت بھی 600سے زائد گاڑیاں پاک افغان شاہراہ پر کھڑی ہیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ابھی تک حکومت نے یہ مسئلہ حل کرنے کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا۔بارڈر کی صورتحال یقینا ایک حساس مسئلہ ہے اور سیکورٹی کے معاملات سے جڑا ہوا ہے مگر شہری علاقوں میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافہ سمجھ سے بالا تر ہے۔ضلعی انتظامیہ اس صورتحال سے لا تعلق نظر آرہی ہے اور ایسا دکھتا ہے کہ وہ اسے اپنی ذمہ داری ہی نہیں سمجھتی۔ منتخب ضلعی ناظم اور ان کے رفقاء ترقیاتی منصوبوں پر تختیاں لگانے کی دوڑ میں لگے ہیں اور انہیں اپنے دیگر مفادات سے فرصت نہیں۔ ایسے حالات میں بے چارے عوام جائیں تو کہاں؟ وہ احتجاج پر مجبور ہوں گے اور سڑکوں پر نکلیں گے۔ وجہ صاف ظاہر ہے جب غریب اور متوسط طبقہ کے لئے گھر کا چولہا جلانا مشکل ہو جائے تو ان کے پاس سوائے احتجاج کے کوئی راستہ نہیں بچتا۔ماضی میں مجسٹریسی نظام ہوا کرتا تھا اور علاقہ مجسٹریٹ مارکیٹ پر نظر رکھتا تھا۔ اس نظام کے خاتمے کے بعد بلدیاتی نمائندے بھی مارکیٹ کی نگرانی میں ناکام ہیں اور انتظامیہ بھی ذخیرہ اندوزوں اور گران فروشوں کو قابو کرنے سے قاصر ہے۔
بالخصوص جب صورتحال ایسی ہو کہ اشیاء ضروریہ کی ترسیل کا معاملہ درپیش ہو تو قیمتوں میں اتار چڑھائو کا ایشو ضرور سامنے آتا ہے۔ مگر ہمارے حکمران اوربیورو کریسی ان مسائل سے نظریں چراتے ہیں اور جب مسئلہ سر پر آجاتا ہے تو پھر ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ الزام در الزام کی اس جنگ اور رسہ کشی میں عام آدمی ہی پستاہے۔ حالیہ صورتحال بھی عارضی ہے اور انتظامیہ کو فی الفور حرکت میں آنا چاہئے۔ طلب اور رسد کی صورتحال کو کنٹرول کرنا ہے اور اس کی مانیٹرنگ بھی ضروری ہے۔آگے رمضان المبارک کا مہینہ بھی اب اتنا دور نہیں ہے اور ذخیرہ اندوز اس کے لئے بھی منصوبہ بندی کر رہے ہوں گے۔ ضلعی انتظامیہ' بلدیاتی اداروں اور صوبائی حکومت کو اس معاملے کا ادراک کرنا ہے کیونکہ اب جبکہ عام انتخابات بھی قریب ہیں سال سوا سال کا عرصہ اتنا زیادہ نہیں۔
اب آخری مرحلے میں اگر مہنگائی کا جن قابو نہ کیاگیا تو وفاق اور صوبے کے حکمرانوں کے لئے سنبھلنا مشکل ہو جائے گا اور حزب مخالف کو انہی ایشوز پر کھیلنے کا موقع مل جائے گا۔ خیبر پختونخوا میں تبدیلی سرکار کی کارکردگی ابھی سے جانچنے کا عمل شروع ہوگیا ہے اور ایسا نہ ہو کہ پھر آئندہ الیکشن میںاسے عوامی غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑے۔اب بھی وقت ہے مہنگائی روکنے' قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے اور اشیائے ضروریہ کی طلب و رسد کو یقینی بنانے کے لئے موثر نظام بنایا جاسکتا ہے۔ان حالات میں حکومت کے ساتھ تاجر برادری کو بھی محض پیسہ کمانے کے چکر میں لوٹ مار سے گریز کرنا ہوگا اور اس سلسلے میں تاجر تنظیموں بالخصوص ایوان صنعت و تجارت کے ذمہ داران کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ عوام کو تو کسی بھی قسم کی میٹھی گولی سے ورغلایا جاسکتا ہے مگر قدرت کی لاٹھی بے آواز ہے حرکت میں آجائے تو اسے روکنا نا ممکن ہوجاتا ہے۔

اداریہ