Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

علی بن جعد سے روایت ہے کہ امام ابو یوسف کہا کرتے تھے کہ جب میرے والد فوت ہوگئے تو میری عمر چھوٹی تھی ۔ میری والد ہ مجھ کو ایک دھوبی کے پاس کام سیکھنے کیلئے لے گئیں ۔ راستے میں امام ابو حنیفہ کا حلقہ درس تھا ۔ وہ دھوبی کے پاس میں لے جانا چاہتی تھیں ، مگر میں ابوحنیفہ کے حلقہ درس سے کسی دوسری جگہ جانے کیلئے قطعاً تیا ر نہ ہوتا تھا ، آخر میری والدہ نے تنگ آکر امام ابو حنیفہ سے عرض کیا کہ : '' میں ایک بیوہ عورت ہوں او ریہ لڑکا بھی یتیم ہے ، میں سارا دن سوت کات کات کر گزراوقات کرتی ہوں ، معلوم نہیں ! آپ نے اس لڑکے سے کیا کہہ دیا ہے کہ میں اسے بہ منت و اصرار لے جانا چاہتی ہوں ، مگر یہ آپ کے پاس سے جانے کیلئے تیا ر نہیں ہوتا ''۔ امام ابو حنیفہ نے میری والدہ سے فرمایا : '' اسے یہاں ہمارے ہاں رہنے دو ، علم پڑھے گا اور عنقریب صحن فیروز ج میں روغن پستہ کے ساتھ فالودہ کھائے گا ''۔
بعض مورخین نے امام ابو حنیفہ کے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں ۔ '' یہ لڑکا پستے کے روغن میں تیار کیا ہوا فالودہ کھانا سیکھ رہا ہے ۔ ''امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ علم حاصل کرنے کے بعد جب مجھے چیف جسٹس کے عہدے پر بٹھا کر منصب قضا کی ذمہ داری سونپی گئی تو میں صحن فیروز ج میں خلیفہ ہارون رشید کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ خلیفہ کے نوکر فالودہ لائے ، روغن پستہ بھی اس کے ساتھ تھا ، مجھے خلیفہ نے کہا : فالودہ تناول فرمایئے ۔ یہ فالودہ ایک خاص قسم کا ہے جو ہر وقت تیا رنہیں کیا جاتا ۔ '' خلیفہ کی یہ بات سن کر میں نے تبسم کیا ۔ خلیفہ نے میرے مسکرانے کی وجہ دریافت کی ۔ میں نے تمام پس منظر اور ساراقصہ بیان کر دیا اور کہا کہ یہ میرے استاد امام اعظم ابو حنیفہ کی کرامت ہے ۔ خلیفہ نے کہا کہ '' بے شک عمل فائدہ دیتا ہے اور دنیا و آخرت میں مرتبہ بڑھاتا ہے ۔ '' پھر کہا : خدا امام ابو حنیفہ پر رحم کرے و ہ عقل کی آنکھوں سے وہ چیز دیکھتے تھے جو سر کی آنکھوں سے بھی نہیں دیکھی جا سکتی ۔ (حسن التقاضی ص ، 9)
ایک بادشاہ ایک عجمی غلام کے ساتھ کشتی میں بیٹھا ہوا تھا' غلام نے اس سے پہلے دریا نہیں دیکھا تھا۔ اس لئے اس نے رونا گڑ گڑانا شروع کیا اور اس کے جسم پر لرزہ طاری ہوگیا۔ بادشاہ کے سکون میں خلل واقع ہونے لگا کیونکہ نازک طبیعت سے ایسی باتوں کی برداشت نہیں ہوسکتی۔ ایک عقل مند اس کشتی میں تھا' اس نے بادشاہ سے کہا کہ اگر آپ حکم دیں تو میں اس کو ایک طریقے سے خاموش کردیتا ہوں۔ بادشاہ نے کہا کہ بے انتہا مہربانی اور بخشش ہوگی۔ عقل مند شخص نے حکم دیا کہ غلام کو دریا میں ڈال دیں۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا' کئی دفعہ اس نے غوطے کھائے۔ اس کے بعد اس کے بال پکڑ لئے اور کشتی کے پاس لے آئے۔ جب وہ اوپر چڑھا تو ایک کونے میں خاموش بیٹھ گیا اور قرار پایا۔ بادشاہ کو تعجب ہوا' پوچھا کہ کیا حکمت تھی؟ عقل مند نے جواب دیا کہ اس سے پہلے اس نے ڈوبنے کی تکلیف نہیں دیکھی تھی اور کشتی پر سلامت رہنے کی قدر نہیں جانتا تھا۔ (گلستان سعدی)

اداریہ