Daily Mashriq

کیاکچرا پھینکنے کے مقام کی تلاش ہی واحد حل ہے ؟

کیاکچرا پھینکنے کے مقام کی تلاش ہی واحد حل ہے ؟

صوبائی دارالحکومت کا روزانہ جمع ہونے والے ٹنوں کچرے کو ٹھکانے لگانے کا مسئلہ اس قدر سنگین اور لاینحل بن چکا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو اجلاس بلا کر اس کی صدارت کرنا پڑی ۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے پشاور میں کچراٹھکانے لگانے کیلئے ڈمپنگ سائٹ کا مسئلہ حل کرنے کیلئے متعلقہ افسران اور اراکین صوبائی اسمبلی کو پیر تک کا وقت دے کر ہدایت کی ہے کہ متفقہ طور پر زمین کا انتخاب ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ ڈمپنگ سائٹ سے متعلق اجلاس میں پشاور سے تعلق رکھنے والے تمام اراکین صوبائی اسمبلی، ڈبلیو ایس ایس پی کے افسران، کمشنر و ڈپٹی کمشنر پشاور، ضلع ناظم اور صوبائی ہائوسنگ اتھارٹی کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ڈبلیو ایس ایس پی کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ شہر میں ڈمپنگ سائٹ کا حصول کمپنی کیلئے ناممکن ہو چکا ہے۔ اراکین صوبائی اسمبلی کی جانب سے عدم تعاون کی بھی شکایت کی گئی اور ڈمپنگ سائٹ کیلئے 5مجوزہ مقامات کی نشاندہی بھی کی گئی۔ وزیر اعلیٰ نے مجوزہ مقامات کا جائزہ لینے اور متفقہ مقام کی نشاندہی کیلئے صوبائی وزیر اطلاعات اور پشاور سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی شاہ فرمان کی قیادت میں کمیٹی قائم کر دی جس میں ایم پی اے اشتیاق ارمڑ، فضل الہٰی، ضلع ناظم پشاور محمد عاصم خان ، ڈپٹی کمشنر پشاور اسلام زیب ،چیف ایگزیکٹو ڈبلیو ایس ایس پی انجینئر خانزیب اور ڈی جی صوبائی ہائوسنگ اتھارٹی کو شامل کیاگیا ہے۔ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے کیلئے زمین دینے پر عدم آمادگی اور ارکان اسمبلی کی اپنے اپنے حلقوںمیں اس کے قیام کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کا عمل اس لئے بلا سبب نہیں کہ جس بے ہنگم طریقے سے کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کا عمل کیا جاتا ہے وہ پورے علاقے کیلئے سخت تکلیف اور مشکلات کا باعث بلکہ اہالیان علاقہ کی جانوں سے کھیلنے کی کوشش ہی نہیں اس سے علاقے میں زراعت اور باغات کو بھی نقصان پہنچتا ہے ایسے میں کسی علاقے کے عوام اور ان کے نمائندوں کے پاس سوائے اس کے اور کیا راستہ بچتا ہے کہ اس کے قیام پر احتجاج کر کے ایسا ہونا مشکل بنادیا جائے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ معاملہ اس قدر سنگین نہیں جتنا اسے بنادیا گیا ہے ۔ دنیا بھر میں کوڑا کرکٹ جمع ہوتا ہے اور اس کو ٹھکانے لگانے کا ایک طریقہ کار موجود ہے وہاں پر تو ہمارے ہاں کی طرح کھلے میدان اور اراضی بھی دستیاب نہیں مگر اس کے باوجود جس منظم طریقے کار کے تحت کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگا دیا جاتا ہے اس سے کسی کو تکلیف تو کجا اسے ذریعہ روز گار بنا دیا جاتا ہے ۔ ایک عام مشاہدے کے طور پر ہی دیکھا جائے تو ہمارے ہاںبھی کوڑا کرکٹ جزوی طور پر اب بھی بہت سارے لوگوں خاص طور پر معصوم بچوں کیلئے روز گار کاایک ذریعہ ہے۔ یہاں تک کہ کوڑا کرکٹ کے اس ڈھیر سے بعض کو خوراک بھی ملتی ہے ۔نیم خراب شدہ سبزی اور فروٹ اکٹھا کرکے بھی گھروں کو لے جایا جاتا ہے ۔ ذرا جدید علاقوں میں بعد شام تانصف شب پھینکی جانے والی بوتلوں اور ڈبوں میں بند اشیاء استعمال کے بعد سڑکوں کے کناروں گلیوں اور خالی پلاٹوں اور کوڑا کرکٹ پھینکنے کے مقامات سے جمع کر کے بچے خاص کباڑ اکٹھا کرتے ہیں اور یہ ایک مستقل روز گار کی شکل اختیار کر گیا ہے اگر انفرادی طورپر ایسا ممکن ہے تو پھر اس کوڑا کرکٹ کو جمع کر کے باقاعدہ کارخانہ لگا کر اس سے کھاد پلاسٹک اور شیشے کی مصنوعات کی تیاری میں کیا امر مانع ہے۔ اس طرح سے کچرا بھی بحفاظت ٹھکانے لگ جائے گا اور روز گار و کاروبار اور مصنوعات کی تیاری کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔ کچرے کو کھاد کی تیاری کیلئے استعمال میں لایا جا سکے گا ماہرین اس کے بے شمار استعمال اور استفادے کے مواقع کی بہتر رہنمائی کر سکتے ہیں مگر ایسا لگتا ہے کہ ہمارے عمل کو سوائے کھلے ٹرک ٹریکٹر ٹرالیوں میں کچر اڈال کر پورے شہر میں پھیلا کر کسی جگہ پھینکنے ہی کے طریقہ کار کے علاوہ کوئی اور طریقہ ہی نہیں یا پھر اس طرف وہ توجہ دینا ہی نہیں چاہتے ۔ ہمارے تئیں وزیر اعلیٰ کے زیر صدارت جو فیصلہ ہوا ہے اس میں بھی ڈمپنگ ایریا کے انتخاب کو حتمی شکل دینے ہی تک کی محدود سو چ اپنائی گئی ہے اگر اجلاس میں ڈمپنگ کے طریقہ کار اورکچرے کومحفوظ اور سائنسی طریقے سے ٹھکانے لگا نے اور اس سے دیگر فوائد سمیٹنے پر بھی غور و خوض ہوتا تو شاید موقع پر موجود اراکین اسمبلی از خود جگہ کی پیشکش کرتے اور کمیٹی کی جگہ ڈھونڈنے کی زحمت ہی گوارا نہ کرنا پڑتی ۔ پشاور میں کوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے کیلئے اگر دنیا کے دیگر ممالک کی طرح شیشے کیلئے الگ پلاسٹک کیلئے الگ اور گلنے سڑنے والی ایشاء کیلئے علیحدہ انتظامات کے ساتھ نظام متعارف کرادیا جائے تومسئلے کاحل باآسانی ممکن ہوگا ۔ صوبائی دارالحکومت میں پلاسٹک کے تھیلے بنانے اور ان کے استعمال پر پابندی کے فیصلے کے نفاذ میں سنجیدگی اور اس کی راہ کی رکاوٹیں دور کرنے پر توجہ کی ضرورت ہے جس سے شہر میں نالیوں کی بندش ، خالی پلاٹوں گلیوں اور سڑکوں پراڑتے تھیلوں باغات سبزے اور زراعت کی تباہی جیسی مشکلات سے نجات ملے گی اور کچرے کو بھی موزوں طریقے سے ٹھکانے لگانے میں آسانی میسر آئے گی ۔

متعلقہ خبریں