Daily Mashriq


کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

پاک فوج کے ترجمان کی این آر او سے لاتعلقی اور باجوہ ڈاکٹرائن کی وضاحت کے بعد تسلی نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں البتہ ماضی میں اس ضمن میں تجربات کچھ خوشگوار نہیں ۔ وزیراعظم کی چیف جسٹس سے ملاقات وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی معمول کی گفتگو کے اوقات کے اتفاقات سے لوگوں کے کان خود بخود کھڑے ہوگئے ہیں ۔ ابلاغ کی دنیا میں جس چیز کی تردید ہو جائے بعض اوقات اسے تصدیق کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے اور کچھ تو ہے جس کی پردہ داری کا معاملہ سمجھا جاتا ہے لیکن دوسری جانب دیکھا جائے تو فوج کی سیاست اور این آر او میں بھلا کیا دلچسپی ہو سکتی ہے ۔ دونوں کی ذمہ داریاں اس قدر بھاری اور تقدس کی حامل ہیں کہ کسی اور معاملے میں ٹانگ اڑانے کا ان کے پاس نہ تو وقت ہے اور نہ ہی ذمہ داری ۔ معززچیف جسٹس اور محترم جنرل باجوہ اگر اپنے ملاقاتیوں سے معذرت کرلیتے تو اس غلط فہمی او ربعد از اں وضاحت کی ضرورت ہی نہ پڑتی اور نہ ہی شکوک و شبہات پیدا ہوتے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی وضاحت کے بعد ان خدشات کا پوری طرح ازالہ ہونا چاہیئے اور چیف جسٹس نے بھی اس معاملے میں واضح لائحہ عمل اپنایا ہے جس کے بعد افواہوں کا دم توڑجانا فطری امر ہوگا ، البتہ اگر خدا نخواستہ کوئی ایسی صورتحال سامنے آتی ہے اور غلط فہمیاں درست ثابت ہوتی ہیں تو یقینا یہ پاکستان کے عوام کیلئے تکلیف دہ صورتحال ہوگی ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ ڈی جی آئی ایس پی آرکی وضاحت اور چیف جسٹس کے بیان کے بعد غلط فہمیوں کا خاطر خواہ ازالہ ہوگا اور یہ باب بند ہو جائے گا ۔بہتر ہوگا کہ اس طرح کے معاملات پر وقت ضائع کرنے کی بجائے ملکی ترقی کے حامل صحت مند معاملات پر توجہ دی جائے اور خواہ مخواہ کی غلط فہمیوں میں پڑنے سے گریز کیاجائے جو لوگ سراب کے پیچھے بھاگنے کے عادی ہوں یا پھر ایک سوراخ سے بار بار ڈسے جانے کے عادی ہوں ان کیلئے بھی بہتری اسی میں ہے کہ وہ بھی اپنے اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کریں اور حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کریں ۔

ڈاکٹراس کا بھی توڑ نکال لیں گے

محکمہ صحت کی طبی نسخوں کے لئے طریقہ کار وضع کرنے کی منصوبہ بندی جس کی روشنی میں دوائیوں کے برانڈ ٹائٹل کی بجائے ڈاکٹرز کوکیمیائی ترکیب پر طبی نسخے جاری کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے تاخیر سے کیا جانے والا ایک فیصلہ ہے جس پر عملدر آمد سے بڑی بڑی کمپنیوں کی مہنگی ادویات سے عوام کونجات مل جائے گی البتہ اس کے بعد کیمسٹوں کی ملی بھگت میں اضافہ ضرور ہوگا ۔ جہاںتک ڈاکٹروں کی بد خطی کا تعلق ہے یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں لکھے موسا پڑھے خود آ ۔ بہرحال ایک ضرورت تھی عالمی ادارہ صحت کی جانب سے طبی نسخوں سے متعلق گائیڈ لائنز یعنی قواعد وضوابط کے مطابق طبی نسخہ واضح طور پر پرنٹ شدہ اور پڑھنے کے قابل ہو، معالج کا نام، دوا کا نام، قوت اور مقدار ہندسوں اور ہجے میں لکھا ہوا ہو، تاریخ ہندسوں اور ہجے دونوںمیں جبکہ اس پر معالج کے دستخط بھی ہونے چاہئیں اس طرح طبی نسخہ کالی سیاہی سے لکھا ہوا ہونا چاہیے تاہم پاکستان جرنل آف میڈیکل سائنسز کی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پشاور کے 6 بڑے ہسپتالوں اور فارمیسیوں میں 1ہزار96 طبی نسخوں کا جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوا کہ کسی بھی ڈاکٹری نسخے میں مکمل معلومات درج نہیں تھیں اس طرح طبی نسخوں میں 62 فیصد دوا ئی درد کش ادویات پر مشتمل تھیں۔صورتحال کی اس تفصیلی اور اعداد و شمار پر مبنی رپورٹ سے ہزار پندرہ سو اور دو ، دو تین ، تین ہزار روپے مریضوں سے معائنہ فیس وصول کرنے والے ماہرڈاکٹروں کی محنت اور دلچسپی دونوں ہی واضح ہے مگر چونکہ یہ نہایت بااثر طبقہ ہے اس لئے ان کے خلاف کسی سخت اقدام کی کسی بھی حکومت اور ادارے سے توقع عبث ہوگی۔ اس غیر ذمہ داری کا مظاہرہ بلا وجہ نہیں کیونکہ ہر ڈاکٹر کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مریض بھگتا ئے اگر وہ ان تفصیلات جن کووہ ضروری نہیں سمجھتے میں پڑ جائیں تو دن میں ستر ، اسی مریضوں کی جگہ دس بیس ہی دیکھ پائیں گے اور ان کی کمائی آدھی سے بھی کم رہ جائے گی۔ اب تک کا تجربہ یہ رہا ہے کہ اس مافیا پر کسی قانون اور کسی ضابطے کاکوئی اثر نہیں ہوتا محکمہ صحت نے طبی نسخہ جات کو باضابطہ بنانے کی جو سعی کی ہے اس پر عملدر آمد کا سوال اٹھے گا کمپنی کی ادویات کے ناموں کی بجائے ان کا جنر ک نیم لکھنے سے مریضوں کو فارمولے کے مطابق دوا لینے میں آسانی ضرور ہوگی لیکن ڈاکٹر اس کا بھی توڑ اس طرح نکال لیں گے کہ مریضوں کو جعلی ادویات کے نام پر ڈاکٹر ادویات واپس لا کر ان کو دکھانے اور میڈیکل سٹور ز والوں سے مخصوص کمپنی کی دوا دلوا کر کچھ کمیشن ان کے ساتھ بانٹ لیں گے بہر حال اس کے باوجود یہ احسن اقدامات ہوں گے جن کو جلد سے جلد لاگو کیا جانا چاہیئے ۔

متعلقہ خبریں