Daily Mashriq


وہی لے ثواب الٹا

وہی لے ثواب الٹا

اعظم شاہد خاقان عباسی کی چیف جسٹس مسٹر جسٹس ثاقب نثار سے ملاقات یونہی اچانک نہیں ہو گئی تھی۔ اس کے لیے وزیر اعظم نے خود پہل کی تھی۔ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کے ذریعے ملاقات کی خواہش کااظہار بھی کیا تھا۔ یعنی یہ ملاقات اعلانیہ اور سرکاری انتظام کے ذریعے ہوئی تھی کسی بیک ڈور رابطے کے ذریعے اس کا انتظام نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے پس منظر میں نواز شریف کے بعد مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کے وہ بیانات بھی اہمیت رکھتے ہیں جن میں کہا گیا تھاکہ عدلیہ‘ فوج ‘ انتظامیہ اور پارلیمنٹ مل بیٹھ کر ملک کو مسائل سے نکالیں۔ میاں نواز شریف کے علم میں یہ بھی ہو گا کہ شہباز شریف جن مسائل کا ذکر کر رہے ہیں وہ خود ان کے محاذ آرائی کی لائن اختیارکرنے سے پیدا ہو ئے ہیں۔ بعض اخبارات یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اس ملاقات کا فیصلہ گزشتہ دنوں جاتی امرا میں دونوں شریف بھائیوں اور ن لیگ کے اندرونی حلقے کے لیڈروں کے ایک اجلاس میں ہوا تھا۔ لیکن میاں نواز شریف نے گزشتہ روز اس ملاقات سے آگاہ ہونے سے صاف انکار کر دیا ۔ مگر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی جو برملا یہ کہتے ہیں کہ وہ خود تو برائے نام وزیر اعظم ہیں اصلی وزیر اعظم تو حسبِ سابق پارٹی کے سپریم لیڈر میاں نواز شریف ہیں ، یکایک اتنے آزاد ہو گئے کہ انہوں نے چیف جسٹس سے ملاقات کی درخواست کر دی جو میاں صاحب کے تند و تیز جملوں کا ہدف ہیں۔ کیا یہ نئے صدر شہباز شریف کی متذکرہ بالا سوچ کی پیروی ہے؟ کیا میاں نواز شریف کے علم میں نہیں ہے کہ شہباز شریف کیا تجویزدے رہے ہیں؟ کہا جاتا ہے کہ میاںشہباز شریف اورمیاں نواز شریف دونوں مسلم لیگ ن کو آئندہ انتخابات میں کامیاب ہونے کے ہدف کے لیے کام کر رہے ہیں۔ میاں شہباز شریف کے بیانات کا مقصد یہ ہے کہ آئندہ انتخابات میں اگر ن لیگ کے متوقع امیدوار میاںنواز شریف کی محاذ آرائی کی پالیسی کی وجہ سے گریز پائی کی طرف جھکتے ہوئے نظر آ ئیں ‘ نئے صدر مسلم لیگ ن کی قیادت میں پارٹی انہیں تسلی دے سکے کہ ن لیگ کی کسی ادارے سے محاذ آرائی نہیں ہے۔ وہ پارٹی کے ساتھ پیوستہ رہیں اور امید بہار رکھیں۔ اس طرح مسلم لیگ ن کی عوام سے سیاسی لیڈروں کے وسیلے سے رسائی کی پالیسی برقرار رہے گی ۔ دوسری طرف یہ کہا جاتا ہے کہ نوازشریف سمجھتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ نوجوان ووٹر براہ راست لیڈر کے پروگرام اور اس کی سیاست سے منسلک ہونا پسند کرتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے سیاست کا یہ انداز متعارف کرایا تھا اور پارٹی پروگرام اور پارٹی لیڈر دونوں ایک سمجھے جانے لگے تھے جس کو بعد ازاں بھٹو کے جیالوں نے بھٹو ازم کا نام دے دیا تھا۔شاید یہی وجہ ہے کہ نواز شریف اب کہتے ہیں کہ وہ مکمل طور پر نظریاتی ہو گئے ہیں۔ ان کا بھی خیال یہ نظر آتا ہے کہ وہ مسلم لیگ کے روایتی امیدواروں کو عوامی حمایت کی مدد سے پارلیمنٹ میںلانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ دونوں بھائیوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ 

نظریاتی ہو جانے کے باوجود میاں نواز شریف کے بیانات میں پارٹی کی صدارت سے الگ کیے جانے کا قلق نمایاں نظر آتا ہے۔ اگر وہ نظریاتی ہو گئے ہوتے تو اس بات پر مسرت کااظہار کرتے کہ اب وہ عوام میں آ گئے ہیں ۔اگر وہ نظریاتی ہو گئے ہوتے تو شاہدخاقان عباسی کی زیرِ بحث ملاقات کے بارے میں صرف لاعلمی کااظہار کرنے کی بجائے کہتے کہ ان کا ان باتوں سے کیا تعلق ، وہ تو پارٹی کو منظم کرنے اور ووٹ کی عزت کی نظریاتی مہم چلا رہے ہیں۔ لیکن انہوں نے اس ملاقات پر سیر حاصل بات کی ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ پر اعتراضات اٹھانے کا موقع جانے نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کے سوموٹو ایکشنز نے حکومتی امور قابو کر لیے ہیں۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ حکومت اب بری الذمہ ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے کرنے کے جو کام ہیں وہ عدالتیں نہیں کر رہیں۔ یعنی تیس سالہ دور حکمرانی کے بعد انہیں یاد آیا ہے کہ زیر التواء مقدمات کے باعث شہری انصاف کے منتظر ہیں۔ لیکن جب حکومت ہر شعبہ میں ناکام نظر آئے گی تو سپریم کورٹ کو اپنا فرض ادا کرنا ہوگا۔ صاف نظرآئے گا کہ اس عدم توجہی کا ایک مقصد سپریم کورٹ کی توجہ اس طرف مبذول کرنا ہے۔ تو طعنہ دینا کہ حکومتی امور پر قابو کر لیا گیا ہے عدالت رہنمائی ہی فراہم کر سکتی ہے۔ جب عدالت رہنمائی فراہم کرے گی تو اس رہنمائی کو یہاں تک نظر اندازکرنا کہ حالات پہلے سے بھی بدتر ہو جائیں اور پھر کہنا کہ ہمیں کام کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ کیا یہی حکمت عملی یاعدم حکمت عملی ہے؟ عدالت نے سٹیل ملزفروخت کرنے کی اجازت نہ دی لیکن اس عدالتی مداخلت کے بعد سٹیل ملز میں وہ حالات پیدا کر دیے گئے کہ اب مشیر خزانہ اسے مفت دینے کو تیار ہیں۔ یہ طریق کار ایک عرصے سے چلا آرہا ہے۔ پہلے کام نہ کرو یا کام خراب کرو تاکہ سپریم کورٹ نوٹس لے۔ پھر سپریم کورٹ کی شکایت کرو کہ اس نے حکومت کے امور میں دخل اندازی کی ہے۔سپریم کورٹ کے رہنما اصولوں سے انحراف کرو یہاں تک کہ حالات پہلے سے بھی بدتر ہو جائیں پھر شکایت کرو کہ ہمیں کام نہیں کرنے دیا لیکن حکومت اگر ڈھنگ سے کام کرے تو عدالت کیوں نوٹس لے ، آج کیوں عام لوگوں کی ہر اپیل ، ہر دہائی میں چیف جسٹس کو مخاطب کیا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیاسی حکومت نے خود ناکارکردگی یا بری کارکردگی کے باعث عوام کا اعتمادکھو دیا ہے۔عوام حکمرانوں کی بجائے کسی اور طرف سے داد رسی کی امید رکھتے ہیں۔اور سیاسی لیڈر عدالتوں پر طعنہ زنی کے ذریعے اپنی نااہلی چھپانے میںمصروف ہیں حالانکہ یہ سب کیا دھرا ان کا ہے جنہیں ان کاموں کے لیے عوام نے ووٹ دیا ہے۔ ایں ہمہ کردۂ تست۔

متعلقہ خبریں