Daily Mashriq


تختی خوشخطی اور ڈاکٹری نسخے

تختی خوشخطی اور ڈاکٹری نسخے

بچپن میں سکولوں میں تختی لکھنے کا رواج تھا چھوٹی سی بوتل میں سیاہی خود بنائی جاتی اور پھر قلم کو تراش کر لکھائی کی جاتی شاید یہی وجہ ہے کہ اس وقت خوشخطی کا جادو سر چڑھ کر بولتا تھا پھر ہم نے ترقی کر لی تو تختی بیچاری کو بھی سکولوں سے دیس نکالا مل گیا اور اس کی جگہ نوٹ بک جسے ہم اردو میں کاپی کہتے ہیںتشریف لے آئی (کاپی بھی انگریزی کا لفظ ہے)اگر کسی دوست کو کاپی کا اردو متبادل معلوم ہو تو بتا دیں عین نوازش ہوگی!تختی بڑی کثیرالفوائد نعمت تھی رات کو گھر میں تختی لکھی جاتی صبح ماسٹر صاحب تختیوں کا معائنہ کرتے غلطیوں کی نشاندہی کرتے الفاظ کی نوک پلک درست کرتے اس معائنے کے بعد سکول کے طلبہ قطار در قطار سکول کے اکلوتے نلکے پر تختیاں دھوتے اس دوران مختلف حوالوں سے چھوٹی موٹی لڑائیاں ہوتی رہتیں لیکن وہ لڑائیاں بالکل ہمارے سیاستدانوں کی لڑائیوں جیسی تھیں پل میں تولہ پل میں ماشہ!جیسے ہمارے سیاستدان چاہے آپس میں کتنے ہی شدید اختلافات رکھتے ہوں لفظوں کی جنگ میں ایک دوسرے کے پرخچے اڑاتے رہتے ہوں مگر جب کسی مشترکہ مفاد کے حصول کا سلسلہ نکل آئے تو پھر یہ ایک ہوجاتے ہیں۔تختی طلبہ کے ذوق محاذآرائی کا بھی ایک عمدہ ذریعہ تھی۔ اس زمانے میں تختی لڑانے کی اصطلاح مستعمل تھی اس کا سادہ سا طریقہ یہ تھا کہ ایک طالب علم اپنی تختی سامنے کرتا تو دوسرا طالب علم اس پر دل و جاں کی ساری توانائیاں اکٹھی کرکے اپنی تختی سے اس پر ضرب لگاتا۔ اس بے رحمانہ ضرب سے اگر تختی کسی عاشق نامراد کے دل کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ جنگ کسی بھی قسم کی ہو اس میں جو چیز سب سے پہلے شہید ہوتی ہے اسے سچائی کہتے ہیں۔سچائی اور شیطان کا خدا واسطے کا بیر ہے اسے جھوٹ سے پیار ہے اس کے آلہ کار وہی لوگ بنتے ہیں جو جھوٹ ، غیبت ، چغلی اور اپنے دوستوں کے درمیان پھوٹ ڈلوانے کے دلدادہ ہوتے ہیں۔کل ہم ایک تحریر پڑھ رہے تھے جس میں سات لوگوں سے بچنے کی تلقین کی گئی تھی یقین کیجیے ہم یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ہم اس حوالے سے اچھے خاصے خود کفیل ہیں۔ ایک نظر ان سات قسم کے لوگوں پر بھی ڈال لیتے ہیں جن سے بچنے میں ہم سب کی نجات ہے !سب سے پہلے تو اپنے اردگرد موجود چغل خوروں، غیبت کرنے والوں ،جھوٹ بولنے اور نفرت پھیلانے والوں سے بچنا ہے اس کے بعد وہ لوگ ہیں جو اپنے دل میں حسد کا جذبہ رکھتے ہیں اور آپ کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے !وقت بہت بڑی دولت بھی ہے اور نعمت بھی ان لوگوں سے بھی بچنا ہے جو آپ کا وقت ضائع کرتے رہتے ہیں ! اگلی قسم میں وہ لوگ آتے ہیں جو آپ سے کسی نہ کسی حیلے بہانے سے قرض مانگتے رہتے ہیںانہی قرض مانگنے کی چاٹ لگ جاتی ہے یہ ایک بیماری ہے جو فی زمانہ کچھ زیادہ ہی پائی جاتی ہے۔ اس بیماری کا سب سے زیادہ نقصان ان لوگوں کو پہنچتا ہے جو بیچارے مستحق ہوتے ہیں۔ اشد ضرورت کے تحت قرض مانگتے ہیں اور پھر اسے وقت پر واپس بھی کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اوپر بیان کی گئی بیماری سے متاثر لوگ انہیں بھی قرض نہیں دیتے !حالانکہ ملک خداداد میں بڑے بڑے صنعت کار جاگیر دار سیاستدان وغیرہ بینکوں سے بڑے بڑے قرضے بھی لے لیتے ہیں اور پھر انہیں معاف بھی کروادیتے ہیںیہ ٹیکہ بھی غریب عوام ہی کو لگتا ہے !اگلی قسم ان لوگوں کی ہے جنہیں آپ over sensitive یا بہت زیادہ حساس کہتے ہیں یہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہوکر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہیں آپ انہیں چھوئی موئی کا بوٹا بھی کہتے ہیں جسے انگریزی میں touch me not(مجھے مت چھوئو) کہتے ہیں ان کے ساتھ دوستی کرنے سے بہتر ہے کہ آپ ایک بکری پال لیں۔ بکری اتنا تنگ نہیں کرتی جتنی مصیبت ان کی دوستی میں اٹھانی پڑتی ہے !ایک قسم ان لوگوں کی ہے جو گلے شکوے کرتے رہتے ہیں آپ انہیں پرلے درجے کا ناشکرا بھی کہہ سکتے ہیں یہ اپنے پاس موجود نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے بس ہر وقت روتے رہتے ہیں!ساتویں اور آخری قسم یقینا بڑے خطرناک لوگوں کی ہے۔ ان سے بچنا بہت ضروری ہے۔ آپ educated (تعلیم یافتہ) uneducated (ان پڑھ)کے الفاظ سے یقینا شناسائی رکھتے ہیں ایک قسم miseducated لوگوں کی ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کی تعلیم کا بخار ان کے سر پر چڑھ کر انہیں بہت سے مغالطوں میںمبتلا کردیتا ہے۔ ان کی باتیں سن کر آپ چلا اٹھتے ہیں کہ یہ تو اچھا خاصا پڑھا لکھا شخص ہے لیکن کیسی باتیں کررہا ہے !ذرا ٹھہریے ! اس کی وضاحت کے لیے ہمیں ایک مرتبہ پھر تختی کی خدمت میں حاضری دینی پڑے گی ۔تختی لکھنے کا ایک بہت بڑا فائدہ طلبہ کی خوشخطی تھی خوبصورت لکھائی دیکھنے کو ملتی نئی روشنی آئی تختی کو دیس نکالا ملا تو طلبہ خوشخطی سے بہت دور ہوگئے۔ پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بھی بن جاتے ہیں لیکن لکھائی ایسی ہوتی ہے کہ کوئی مائی کا لال ان کا لکھا ہوا نسخہ نہیں پڑھ سکتا ! تازہ خبر یہ ہے کہ پشاور ڈاکٹرز کے 58فیصد نسخے ناقابل فہم ہیں! محکمہ صحت نے ان ڈاکٹروں کو راہ راست پر لانے کے لیے ورکنگ گروپ تشکیل دے دیا ہے تاکہ ان کے نسخے ہر میڈیکل سٹور والا پڑھ سکے یہ نسخے صرف مخصوص میڈیکل سٹورز کے لیے نہ ہوں جن سے یہ کمیشن وصول کرتے ہیں اس قسم کے ڈاکٹروں کو آپ miseducated کہہ سکتے ہیں! ۔

متعلقہ خبریں